ربیع الاول شریف آتے ہی گلیاں سجنے لگتی ہیں، مساجد میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، محافلِ نعت منعقد ہوتی ہیں اور عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتے ہیں۔ یہ محبت کا موسم ہے، عقیدت کا موسم ہے، مگر اس کیساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ 'کیا ہم میلاد مناتے ہوئے میلاد کے آداب بھی ملحوظ رکھتے ہیں؟
سب سے پہلے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر خوشی کا اظہار کوئی نئی بات نہیں۔ قرآنِ مجید ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر خوش ہونے کی تعلیم دیتا ہے’’ اہلِ ایمان کے لیے سب سے بڑی رحمت خود رحمتِ عالم ﷺ کی بعثت ہے‘‘۔ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ پیر کے روزے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔ اس سے کم از کم یہ اصول ضرور سامنے آتا ہے کہ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کے دن کو آپ ﷺ نے اپنی نسبت سے یاد فرمایا۔
برصغیر کے عظیم محدث شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنے والد شاہ عبد الرحیم دہلویؒ کے حوالے سے میلاد کے موقع پر کھانا تیار کرنے کا واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک سال مالی تنگی کے باعث وہ بڑا اہتمام نہ کرسکے تو بھنے ہوئے چنے لوگوں میں تقسیم کیے۔ شاہ ولی اللہؒ نے الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین میں اس واقعے کو بیان کیا۔ یہ روایت اس امر کی ایک تاریخی شہادت ہے کہ اہلِ علم کے ہاں میلاد کے موقع پر اظہارِ مسرت، کھانا کھلانا اور لوگوں کو شریک کرنا بالکل اجنبی عمل نہیں تھا۔
دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں میلاد کی اپنی اپنی روایات ہیں۔ ترکی میں اسے میلاد قندیلی کہا جاتا ہے، انڈونیشیا میں مولود النبی کی تقریبات مذہبی و ثقافتی زندگی کا نمایاں حصہ ہیں، ملائشیا میں مولد الر سول کے اجتماعات اور جلوس منعقد ہوتے ہیں، یمن میں میلاد بڑے اجتماعات اور نعتیہ محافل کے ساتھ منایا جاتا ہے، جبکہ ایران، عراق، مصر، مراکش، تیونس اور دیگر مسلم معاشروں میں بھی مختلف انداز میں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات ہوتی ہیں۔ گویا یہ محبت صرف پاکستان کی گلیوں تک محدود نہیں دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اپنے اپنے ثقافتی انداز سے نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ میلاد اظہار محبت ہے، تماشہ نہیں۔
ہمیں دیکھنا ہوگا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں بعض محافل میں ایسی چیزیں داخل ہوگئی ہیں جو میلاد کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ نعت اگر نعت کے بجائے گانے کی طرز پر پیش کی جائے، الفاظ اور اندازِ ادائیگی میں موسیقی اور فلمی رنگ غالب آجائے، نعت خوانوں پر نوٹ نچھاور کرنے کا عامیانہ انداز نمایاں ہو جائے،نعت خواں اور خطیب کی توجہ اللہ اور رسول ﷺ کی محبت کے بجائے اپنی شہرت، لباس اور داد سمیٹنے پر مرکوز ہوجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس چیز کا جشن منا رہے ہیں؟
زرق برق لباس بذاتِ خود کوئی شرعی جرم نہیں، لیکن اگر لباس، اسٹیج، روشنیوں اور نمود و نمائش کی فراوانی محفل کی روحانی کیفیت کو نگل جائے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ اگر کسی عمل میں شریعت کی واضح حدود پامال ہوں تو محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم تو میلاد منا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبت کا اظہار بھی اسی شریعت کے دائرے میں ہو جو آپ ﷺ لے کر آئے۔
میری دردِ دل کے ساتھ گزارش ہے: میلاد ضرور منائیں، پہلے سے بڑھ کر منائیں، مگر اسے سیرتِ مصطفی ﷺ سے جوڑ دیں۔ گھروں میں درود و سلام کا اہتمام کریں، قرآن پڑھیں، سیرت کی کتابیں پڑھیں، بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ سنائیں، غریبوں کو کھانا کھلائیں، یتیموں کی مدد کریں، صدقہ کریں اور اپنے اخلاق کو نبوی اخلاق کے سانچے میں ڈھالنے کا عہد کریں۔
محفل ہو تو باوقار ہو۔ نعت ہو تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی یا اس پائے کے شعرا کا کلام پڑھا جائے۔ جلوس ہو تو نمازوں کی پابندی کے ساتھ ہو۔ راستے بند کرنے، لوگوں کو تکلیف دینے، شور شرابہ کرنے، ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے یا کسی دوسرے شہری کے حق کو متاثر کرنے کو عشقِ رسول ﷺ کا نام نہ دیا جائے۔ کیونکہ جس نبی ﷺ نے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ قرار دیا، ان کے میلاد کے نام پر راستے میں دوسروں کے لیے تکلیف پیدا کرنا کیسے محبت کی علامت ہوسکتا ہے؟
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میلاد کا سب سے خوبصورت جشن یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو محمد مصطفیٰ ﷺ کے طریقے پر ڈھال دیں۔ ہماری زبان جھوٹ سے پاک ہوجائے، کاروبار دھوکے سے پاک ہوجائے، دل کینہ سے پاک ہوجائے، گھر ظلم سے پاک ہوجائیں، معاشرہ بدعنوانی سے پاک ہوجائے اور ہمارے معاملات میں رحم، انصاف، دیانت اور حسنِ اخلاق پیدا ہوجائے۔
میلاد کی اصل خوشی چراغاں سے زیادہ دلوں کے روشن ہونے میں ہے۔ اصل نعت آواز کی بلندی نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ اصل جلوس سڑکوں پر نکلنے سے پہلے اپنے نفس کے خلاف نکلنا ہے۔ اور اصل جشن یہ ہے کہ جس ہستی کی ولادت پر ہم خوشیاں منا رہے ہیں، کل قیامت وہ ہمیں دیکھیں تو ہماری زندگی میں اپنی تعلیمات کی جھلک بھی نظر آئے۔
آئیے اس ربیع الاول میں ایک عہد کریں: میلاد منائیں مگر ایسا میلاد جو اللہ کو پسند ہو، جو رسول اللہ ﷺ کی شان کے شایانِ شان ہو، جو شریعت کی حدود میں ہو، جو کسی انسان کو تکلیف نہ دے اور جو ہماری زندگی کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے قریب لے جائے۔یہی میلاد کی خوبصورتی ہے، یہی محبت کا ادب ہے، اور شاید یہی ہمارے جشنِ میلاد کا سب سے بڑا پیغام بھی۔