• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم اپنا موازنہ دنیا کے ان ممالک کیساتھ کرتے ہیں جو بنیادی سوالات حل کرچکے ہیں۔ سال 2011ءکے بعد تو یہاں برطانیہ کی مثالیں دے دے کر ایک پوری نسل کو خوابوں کی دنیا میں دھکیلا گیا۔ انگلینڈ کی ایک کائونٹی میں ایک بچے کو سادہ مچھر نے کاٹ لیا تو وزیر نے استعفیٰ دیدیا۔ پاکستان میں لوگوں کو ڈینگی لڑ گئے کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔ مولا کا شکر ہے ایسا کہنے والوں کو جیسے تیسے کرکے حکومت مل ہی گئی۔ کم از کم یہ تو سمجھ آئی کہ سیر آٹے میں کتنے موازنے پکتے ہیں۔ ہمارا موازنہ صرف آس پڑوس کے ممالک سے بنتا ہے۔ اس بات سے اب حکومت اورعوام دونوں اتفاق کرتے ہیں۔ حکومتی صفوں سے تو وہ لوگ بھی موازنے کر رہے ہیں جو کہتے تھے انڈیا سے موازنہ نہیں ہوسکتا صرف دشمنی ہوسکتی ہے۔ترقی کے حوالے سے اب سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا تک سے سیکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبے بنانے کی ریسیپی سیکھی جا رہی ہے۔ہم انڈیا سے اسی لئے تو پیچھے ہیں کہ انکے صوبے اٹھائیس ہیں ہمارے چار۔صرف چار صوبے اور بن جائیں تو کم از کم بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی تو ٹھیک ہو سکتی ہے۔ ابھی ہم نے صوبوں کی بات ہی شروع کی ہے گوگل نے پاکستان میں آفس کھول لیا ہے۔ صوبے بن گئے تو سوچیں کیا عالم ہوگا۔ہیں جی؟

جہاں تک تعلق ہے عوام کا،وہ پڑوسیوں کے کاکروچ دیکھ کر سینٹی ہوئے پڑے ہیں۔جنتر منتر والے ایپی سوڈ کے بعد سے لوگ یہاں کے جینزیوں کا موازنہ وہاں کے جینزیوں سے کر رہے ہیں۔ دس چھڑے چھانٹ جینزی چڈی بنیان میں اٹکتے مٹکتے کہیں جاتے ہوئے دکھ جائیں تو پر امید لوگوں کو لگتا ہے کہ کاکروچ نکل آئے ہیں۔دو منٹ بعد پتہ چلتا ہے وہ کوئٹہ بسم اللہ کیفے کا وائی فائی استعمال کرنے نکلے ہوئے تھے۔کراچی میں رضا میر قتل کی ڈرامائی تحقیقات کے بعد تو ہمارے کچھ دوست ٹک ٹک دیدم دم کشیدم ہوگئے تھے کہ جینزی اب نکلے کہ تب نکلے۔ایک دن شور ہوا تو دوستوں کو لگا کہ غالب کے پرزے اڑنے والے ہیں۔ جاکر دیکھا تو تماشا نہ ہوا۔لوگ سائلنسر نکال کر آئے تھے، چودہ اگست والی ون ولیاں مار کر واپس چلے گئے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پڑوس میں جو نکلے تھے وہ جینزی ہونے کیساتھ ساتھ کاکروچ بھی تھے۔ سیاست کے نئے باب میں جامد جینزی ہونا کوئی چیز نہیں ہے۔ہمارے جامد جینزی اشرافیہ کے اسکولوں سے پڑھ کر اشرافیہ کو ہی پیارے ہوچکے ہیں۔مقامی ذہانت سے کٹ کر کسی الگ تھلگ سیارے پر کنسلٹینسیاں کر رہے ہیں۔ مشورے انکے پاس ہول سیل ریٹ پر دستیاب ہیں۔ ہر مشورہ غیرشعوری طور پر اشرافیہ کے ہی مفاد میں جارہا ہے۔انکے سامنے صرف نظام تعلیم کا سوال رکھ دیں اور پھر کان لگا کر تجزیے سنیں۔ انکی ہر بات میں ایک منطق ہوگی اور مشورے میں ایک درد ہوگا۔ نہیں ہوگا تو بس سر پیر نہیں ہوگا۔پس منظر نہیں ہوگا۔آٹھ سو الفاظ کے مضمون سے شہرت پانے والے 'یوٹوبیائی جینزی کو دیکھ لیں۔ ایک جبڑے سے اشرافیہ کو چیلنج کرتا ہے، دوسرے جبڑے سے کہتا ہے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ کرلو گل۔یہ کیوٹنس کی انتہا نہیں ہے؟ کاکروچ کا معاملہ بہت مختلف ہے۔انکے پاس منظر ہی نہیں ہوتا پس منظر بھی ہوتا ہے۔ وہ پہلے سے موجود کسی تنظیم کے کل وقتی ایجنٹ نہیں ہوتے۔ انکے ہاں پہلے تحریک جنم لیتی ہے پھر لیڈر شپ پیدا ہوتی ہے۔ایشوز انکی رہنمائی کرتے ہیں۔اگلوں پچھلوں سے کٹ کر کسی نامعلوم شاہراہ کی طرف نہیں نکلتے۔ انکا اکٹھ انسانی ضرورت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔انکے مطالبوں میں جماعتی، شخصی اور علاقائی عصبیت نہیں ہوتی۔عہدوں کی بندر بانٹ میں نہیں پڑتے۔ ہر طرح کی صلاحیت اور قابلیت کے باوجود ہر شخص کارکن ہوتا ہے۔ کارکن ہو تو پھر کارکن ہی ہوتا ہے۔عقیدت مند نہیں بنتا۔احتساب کا عمل انکے ہاں ضرورت سے زیادہ تیز اور کاٹ دار ہوتا ہے۔ تبھی ہر شخص کو اوقات میں رہنا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں جنتر منتر والے کاکروچ جینزی سرے سے پائے ہی نہیں جاتے۔ بالکل پائے جاتے ہیں۔حیدر آباد میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے باہر ڈیڑھ ماہ سے پائے جارہے ہیں۔بول چال میں جنتر منتر والوں سے بھی چالیس قدم آگے ہیں۔بلا کے ذہین غضب کے برد بار ہیں۔ڈیڑھ ماہ سے پوری استقامت کیساتھ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔جنتر منتر والوں کی طرح انکا سوال بھی تعلیم اور مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔انہوں نے سی سی ای کے نتائج کو چیلنج کیا ہوا ہے۔انکی شکایت یہ ہے کہ پیسہ جیت گیا ہے محنت ہار گئی ہے۔ مطالبہ یہ ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو تحریری نتائج کی شفاف تحقیقات کرے۔ اب سوال بہت سادہ ہے۔ جینزیوں میں ہر شخص ترجمان ہوتا ہے اورسوشل میڈیا انکا ہتھیار ہوتا ہے۔یہ ہتھیار انہوں نے انڈین کاکروچوں کے لیے بھی استعمال کیا۔ اب حیدرآبادی کارکروچوں کیلئے یہ ہتھیار کام کیوں نہیں آرہا۔جواب سادہ ہے۔ انکی غلط فہمی یہ تھی کہ جنتر منتر پر بیٹھے لوگ جینزی تھے۔حالانکہ وہ کاکروچ تھے۔جو کچھ ہمارے مایوس دوستوں کو دیکھنے کو مل رہا ہے وہ دراصل جینزیت اور کاکروچیت کا ہی فرق ہے۔ہم جینزی ہیں۔ پاکستان میں کاکروچوں کا کوئی وجود ہوتا تو وہ اب تک حیدرآباد کے نوجوانوں کے مطالبات اور سرگرمیوں کو ڈیجیٹل کہانیوں اور طنز و مزاح میں ڈھال چکے ہوتے۔ پڑوس کا معاملہ یہ ہے کہ اب بچے بھی کاکروچ ہوگئے ہیں۔ بنگال، مہاراشٹر اور راجستھان کے بچے تعلیم اور سہولیات پر اپنا حق جتلا رہے ہیں۔ بدانتظامی کو کلچر ماننے سے انکار کررہے ہیں۔اپنے اپنے اسکولوں کی انتظامیہ سے صاف واش روم، ٹھیک کلاسیں، قابل اساتذہ اور ڈیجیٹل لائبریریاں مانگ رہے ہیں۔ ہمارے جینزی تو اتنے کاکروچ بھی نہیں ہوئے کہ وہ پابندی کا شکار ہونیوالی سیماب گل کی فلم 'گھوسٹ اسکول پر ہی کوئی رد عمل دیدیتے۔ ہمارے جینزی کاکروچ ہوتے تو یہ فلم ڈیجیٹل میڈیا پر ایسے ہی ہٹ ہوتی جیسے پابندی لگنے کے بعد 'ستلج ہوگئی تھی۔ موازنہ؟جینزی کا کاکروچ سے کیا موازنہ۔ موازنہ تو ہمارا کاکروچوں کے انڈے بچوں کیساتھ بھی ٹھیک نہیں بیٹھتا۔

تازہ ترین