• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی کہانی کسی ایک تاریخ، قرارداد یا سیاسی واقعے سے شروع نہیں ہوتی۔ اس کا پہلا صفحہ اُس وقت لکھا گیا تھا جب سرحدوں پر لکیریں نہ تھیں، نقشوں نے ملکوں کے نام نہ سیکھے تھے اور انسان زمین، پانی، ہوا اور آسمان سے اپنا رشتہ پہچان رہا تھا۔ اس سرزمین پر پہاڑ پہلے سے کھڑے تھے، صحرا اپنی خاموشی میں صدیاں سمیٹے ہوئے تھے اور دریائے سندھ زندگی کی ایک طویل گواہی کی طرح بہہ رہا تھا۔ اسی دریا کے کنارے انسان نے مٹی میں بیج رکھا، جانور کو اپنا ساتھی بنایا، کچی اینٹوں سے گھر اٹھایا اور پھر گھر سے گاؤں، گاؤں سے بستی اور بستی سے شہر تک کا سفر طے کیا۔ یوں پاکستان کی تاریخ کسی دارالحکومت میں نہیں، ایک کسان کے ہاتھ اور دریا کی ایک موج میں سانس لینے لگی۔

بلوچستان کے خشک پہاڑوں کے درمیان مہرگڑھ اس داستان کا ابتدائی چراغ ہے۔ سات ہزار سال پہلے یہاں بسنے والے لوگ شاید نہیں جانتے تھے کہ وہ انسانی تہذیب کے ایک عظیم باب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ وہ کھیتی کرتے، جانور پالتے، مستقل گھر بناتے اور اپنے تجربوں کو نسل در نسل منتقل کرتے تھے۔ تہذیب ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی وہ ضرورت، جستجو، ناکامی اور امید سے آہستہ آہستہ بنتی ہے۔ مہرگڑھ اسی تدریجی معجزے کا نام ہے۔ اس کے گرد پھیلے پہاڑ دیواریں کم اور راستے زیادہ تھے۔ انہی راستوں سے لوگ، ہنر اور خیالات ایک خطے سے دوسرے خطے تک پہنچے۔پھر دریائے سندھ کے کنارے وہ شہر ابھرے جنہیں دیکھ کر آج بھی حیرت ہوتی ہے۔ موہنجودڑو اور ہڑپہ محض کھنڈرات نہیں، انسانی ذہانت کی خاموش شہادتیں ہیں۔ سیدھی گلیاں، معیاری اینٹیں، کنوئیں، نکاسیٔ آب کے منظم راستے، کاریگروں کے ہاتھ اور تاجروں کے سفر بتاتے ہیں کہ یہاں زندگی صرف گزاری نہیں جاتی تھی، ترتیب دی جاتی تھی۔ سندھ کی تہذیب ایک بند دنیا نہیں تھی اس کے رشتے دور دراز خطوں سے جڑے تھے۔ اشیا، لوگ اور خیالات مسلسل سفر میں تھے۔ ہم آج ان کا رسم الخط پوری طرح نہیں پڑھ سکتے، مگر ان کے شہر اب بھی بولتے ہیں۔ اینٹیں خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی میں پورا زمانہ گونجتا ہے۔وقت آگے بڑھا تو گندھارا نے تہذیبوں کے ملاپ کی نئی مثال قائم کی۔ وسطی ایشیا، فارس اور جنوبی ایشیا کے درمیان واقع اس خطے سے فوجیں بھی گزریں اور افکار بھی۔ یونانی جمالیات نے بدھ فکر سے ملاقات کی اور پتھر نے ایک نئی زبان اختیار کر لی۔ ٹیکسلا علم، سفر اور مکالمے کا مرکز بنا۔ یہاں تاریخ نے ثابت کیا کہ تہذیبیں صرف ایک دوسرے کو شکست نہیں دیتیں، کبھی وہ ایک دوسرے میں اتر کر نئی صورت بھی پیدا کرتی ہیں۔ گندھارا اسی امتزاج کا روشن استعارہ ہے۔پھر اسلام اس سرزمین کی تاریخ میں داخل ہوا، مگر اس کا سفر صرف لشکروں اور حکمرانوں کے قدموں سے نہیں لکھا گیا۔ تاجروں، علما، صوفیوں، شاعروں اور درویشوں نے بھی اس خطے کی روح کو نئی صورت دی۔ سندھ سے ملتان تک نئی فکری اور روحانی فضا پیدا ہوئی۔ فارسی زبان و ادب نے اثر ڈالا، مقامی زبانوں نے نئے رنگ اختیار کیے، فن تعمیر نے نئی شکلیں اپنائیں اور صوفی روایت نے محبت اور عقیدت کے ذریعے گہری جڑیں قائم کیں۔ پرانی تہذیبیں مٹیں نہیں وہ نئی روایتوں کے ساتھ گھلتی رہیں۔غزنوی، دہلی سلطنت اور پھر مغل آئے۔ لاہور نے باغوں، قلعوں، مسجدوں اور بازاروں کے ساتھ عظمت کا نیا زمانہ دیکھا۔ بادشاہوں کی شان کے نیچے عام زندگی بھی چلتی رہی۔کسان زمین سے رزق نکالتے، کاریگر اپنے ہنر میں زمانے محفوظ کرتے، تاجر فاصلے سمیٹتے اور شاعر لفظوں میں دلوں کی تاریخ لکھتے تھے۔ فارسی، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی اور دوسری زبانیں اس سرزمین کو ایک ہی آواز نہیں دیتی تھیں بلکہ ایک اجتماعی آہنگ میں بدل دیتی تھیں۔ یہاں کی تاریخی روح یک رنگی سے نہیں، کثرت سے بنی ہے۔پھر برطانوی اقتدار آیا اور تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔ ریلوے کی پٹڑیاں بچھیں، شہر پھیلے، ادارے، اسکول اور جامعات قائم ہوئیں، مگر اقتدار اور وسائل پر نئی گرفت بھی مضبوط ہوئی۔ لوگوں کے سامنے سوال اب صرف روزمرہ زندگی کا نہیں رہا تھا بلکہ شناخت اور اختیار کا تھا: ہم کون ہیں، اور ہمارے مستقبل کا فیصلہ کون کرے گا؟ یہی سوال اخبارات، تعلیمی اداروں اور سیاسی جلسوں میں پھیل گیا۔ قوم، نمائندگی اور آزادی کے تصورات نئی معنویت کے ساتھ ابھرے۔

اسی فکری طوفان میں محمد اقبال کی آواز بلند ہوئی۔ وہ صرف شاعر نہیں تھےوہ ایک ایسا ذہن تھے جو خودی، وقار، ایمان اور مستقبل کے چراغ روشن کر رہا تھا۔ ان کی شاعری کتابوں سے نکل کر نسلوں کے شعور میں اتر گئی۔ پھر محمد علی جناح کی قیادت میں سیاسی مطالبہ منظم جدوجہد کی صورت اختیار کرتا گیا۔ مذاکرات، کشمکش اور بے یقینی کے درمیان 1947 ءآیا۔ نقشہ بدل گیا، پاکستان وجود میں آیا، مگر آزادی اپنے ساتھ ہجرت، جدائی اور بے شمار انسانی المیے بھی لائی۔ ایک نئی ریاست پیدا ہوئی، مگر اس کے سینے میں تقسیم کا زخم اور آنکھوں میں نئے مستقبل کا خواب ایک ساتھ موجود تھے۔آج کا پاکستان ایک نوجوان ریاست ہے، مگر اس کے قدم ایک قدیم زمین پر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے جدید شہروں کے نیچے مہرگڑھ کی خاک، موہنجودڑو کی اینٹیں، گندھارا کی خاموش مورتیاں، ٹیکسلا کے علمی راستے، صوفیوں کی آوازیں، مغل عمارتوں کے سائے اور آزادی کی جدوجہد کی صدائیں موجود ہیں۔ یہ ملک صرف 1947ءکا نام نہیں، 1947 ءاس طویل کتاب کا ایک نیا باب ہے جسے ہزاروں برس سے انسان لکھتا چلا آ رہا ہے۔ اس کتاب میں کسان کا ہاتھ، کاریگر کی انگلیاں، راہب کی خاموشی، صوفی کی دعا، شاعر کا خواب اور مہاجر کی آنکھ کا آنسو سب شامل ہیں۔دریائے سندھ آج بھی بہہ رہا ہے۔ پہاڑ آج بھی کھڑے ہیں۔ صحرا آج بھی گزرے قافلوں کے قدم اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ لوگ بدل گئے، شہر بدل گئے، زبانیں بدل گئیں، سلطنتیں آئیں اور چلی گئیں، مگر زمین نے سب کچھ اپنے حافظے میں رکھ لیا۔ اسی لئے پاکستان کی اصل کہانی ماضی کی نمائش نہیں، مستقبل کا سوال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کہاں سے آئے اصل سوال یہ ہے کہ اتنی طویل تاریخ کے وارث ہو کر ہم کہاں جا رہے ہیں۔ ہزاروں برس پہلے کسی نامعلوم انسان نے اس زمین میں پہلا بیج رکھا تھا۔ آج بیج ہمارے ہاتھ میں ہے۔ آنے والی صدیوں کو کیا ملے گا، اس کا فیصلہ ہماری بصیرت، ہمارے کردار اور ہمارے خواب کریں گے۔

تازہ ترین