ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال میں نومولود کی اموات جھلسنے سے نہیں، دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے سے ہوئیں، شناخت کلائیوں پر موجود شناختی ٹیگز سے کی گئی، شناختی ٹیگز محفوظ تھے۔
رانا عمران سکندر نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں پڑی، لاشیں ناقابل شناخت ہوتیں تو ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پڑتی۔
پمز حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے، ایک کو بچا لیا گیا، عملے نے بچوں کو بچانے کے لیے نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن دھماکے کے بعد چھت گر گئی۔
خیال رہے کہ 26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سانحہ پمز میں جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے حکومت نے فی کس 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا، اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہے، حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔
پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرکے سیکریٹری ہاؤسنگ محمد محمود کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج دے دیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ کیا آپ مستعفی ہو رہے ہیں؟ مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں، وزیراعظم نے انہیں کچھ باتیں کرنے سے روکا ہے۔ پہلے وزیراعظم سے بات کرلیں، پھر کچھ کہیں گے۔
اسی دوران پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی تھی، جس کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت میں نصب انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا۔ چنگاری کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑلی۔
والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی غیر موجودگی کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دروازے بھی بند تھے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر دیر سے پہنچنے کا الزام بھی لگایا۔
سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ دی تھی کہ پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔ یہ بھی کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔