عید میلاد النبی پورے ملک میں حسب روایت بڑے ذوق شوق اور جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی مگر کچھ باتیں توجہ طلب ہیں ۔جیسے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی نے میلاد شریف کے نام پر ہونیوالی کچھ نامناسب باتوں پر جس غم و غصے کا اظہار کیا ہے وہ ہمارے لیے آئینہ ہے، واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب محترم کا مسلک ٹھیٹھ بریلوی مکتب فکر ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے علماء کرام سے مطالبہ کیا کہ آپ مستحبات کو اتنا مت بڑھائیں کہ عوام انہیں فرض سمجھ لیں اورپھر آپ بھی اسے نہ روک سکیں، یہ بے ہنگم شوروغوغا میلاد کی روح کے منافی ہے۔جامعہ نعیمیہ کے مہتمم محترم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ایک باوقار دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں آپ کے دادا حضرت مفتی محمد حسین نعیمی نہ صرف اہل سنت والجماعت کی آواز تھے بلکہ تمام دینی مسالک و طبقات میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ راغب نعیمی صاحب کے والد محترم ڈاکٹر سرفراز نعیمی زندگی بھر سچائی کے علمبردار رہے ہمیشہ مذہبی جنونیت و انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف رواداری وانسان نوازی کی بات کی اسی حق گوئی کی پاداش میں طالبانی دہشت گردوں نے جامعہ نعیمیہ میں گھس کر ان پر خودکش حملہ کیا یوں انسانیت امن بھائی چارے اور اعتدال پسندی کی یہ آواز مقام شہادت پر سرفراز ہوئی، جان دے دی مگر ظلم و جبر اور مذہبی جنونیت کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے۔ آج انہی کے فرزند ڈاکٹر راغب نعیمی پاکباز صوفیائے کرام خواجہ غریب نوازؒ، حضرت نظام الدین اولیاؒء، حضرت داتا گنج بخشؒ اورحضرت شاہ حسین سرکارؒ کے پیغام محبت کو اسی لگن اور محبت کے ساتھ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں وہ جنونیت پر تدبر اور ہلڑ بازی پر تہذیب و شائستگی لانا اپنا مشن خیال کرتے ہیں۔درویش سے گفتگو میں ایک مرتبہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے فرمایا تھا کہ کسی ایسےشخص پر ہاتھ اٹھانا جو نہتا ہو اور جنگ نہ کر رہا ہو ہرگز جہاد نہیں عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں خدمات سر انجام دینے والے رہنماؤں یا پادریوں یا ان کے عبادت گزاروں پر حملہ آور ہونا بھی جہاد نہیں دہشت گردی ہے، کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کو گرانا یا اسے نقصان پہنچانا حتیٰ کہ کافروں کے کھیتوں کو اجاڑنا یا درختوں اور باغات کو نقصان پہنچانا بھی جہاد نہیں دہشت گردی ہے۔ آج انہی کے فرزند ڈاکٹر راغب نعیمی فرما رہے تھے کہ توہین مذہب پر کسی کو قتل کا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں اگر کسی نے توہین کی بھی ہو تو اس کی سزا دینا ریاست یا حکومت کا کام ہے ،کسی فرد گروہ یا تنظیم کو شریعت نے ایسا کوئی حق نہیں دیا آج معاشرے میں انتہا پسندی اور جنونیت زوروں پر ہے ہر شخص توہین کے الزام پر خود ہی سزا دینے کی کوشش کرتا ہے جو اسلام ہی نہیں ہمارے آئین اور قانون کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے موب(ہجوم) جسٹس ناقابل قبول ہے یہ غیر شرعی وغیر قانونی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارے قانون نے کئی سزائیں طے کر رکھی ہیں لیکن ان تمام امور پرکسی فرد یا گروہ کو کوئی حق نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے یا کوئی اس نوع کا فتویٰ دے میرے والد علامہ سرفراز نعیمی کو مساجد اور مزارات پر حملوں اور قتل کے خلاف فتاوی دینے پر شہید کر دیا گیا تھا۔ میں نے بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف قتل سے متعلق فتاوی کو غیر شرعی و غیر آئینی قرار دیا تو مجھے بھی شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا، دھمکیاں دی گئیں، چار پانچ سو ایسے میسجز آئے جو ناقابل بیان ہیں ۔
قتل کا فتویٰ دینا یا قانون کو ہاتھ میں لے کر خود انصاف کی کوشش غیر شرعی و غیر آئینی ہے۔ کسی شخص نے توہین کی ہے اور آپ کو اس کا علم ہے پھر بھی آپ کو یہ حق نہیں کہ خود اس پر ہاتھ اٹھائیں۔ ہماری بعض مذہبی جماعتوں نے توہینِ رسالت کے معاملے کو سینسیٹائز کر دیا ہے ہمارے پنجاب میں 60 ہزار مساجد ہیں اور صرف 439کاکنٹرول اوقاف کے پاس ہے اس تناظر میں درپیش مسائل کی جڑ کو سمجھا جائے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی ذمہ داری پر فائز شخصیت اگر شدت پسندی اور جنونیت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں کیا طاقتوروں کو اس اندوہناک صورتحال کی تحقیقات کرتے ہوئے اس صریح دہشت کا سدباب نہیں کرنا چاہیے؟اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین کے علاوہ سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے بھی درویش کی گہری نیاز مندی، قربت اور دیرینہ دوستی ہے ان کے منہ سے بھی اس نوع کی گفتگو اکثر سننے کو ملتی ہے، حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے اہل علم یا محققین کی اپروچ میں اور گلی محلے کے عام مولوی صاحبان کی سوچ میں کس قدرتفاوت ہے۔ اس ملک میں آج مذہبی شدت پسندوں نے بعض معاملات کو جس طرح خوفناک بنا دیا ہے اس سے بین المذاہب احترام اور مکالمے کی روایت مسخ ہو کررہ گئی ہے نتیجتاً سوسائٹی سے تحمل برداشت، رواداری، یگانگت، بھائی چارے اورانسان نوازی کا خاتمہ تشویشناک حد تک پہنچ چکا ہے آج دین اور اسلام کے نام پر وہ کچھ ہو رہا ہے جس کا قرونِ اولیٰ میں تصور تک نہ تھا۔
ابتدائے آفرینش سے مذاہب کی مقصدیت تو انسانی دکھوں کو بانٹا اور ان کا مداوا کرنا رہی ہے خلق خدا کو بلا تخصیص ” عیال اللہ“ یعنی خدا کا کنبہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خدا کا سب سے پیارا وہ ہے جو اس کے کنبے سے پیار کرے اور سب سے ناپسندیدہ و مبغوض وہ ہے جو بندگان خدا کو تکلیف دے۔ کوئٹہ اور سندھ میں محض الزام پر بے گناہ انسانوں کو سرکاری تحویل میں جس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے ایسی ذہنیت والوں کو یہ پڑھتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ
سلام اس پرکہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دی
سلام اس پرکہ جس نے خوں کے پیاسوں کو عبائیں دیں