• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صبح کے پونے سات بج رہے تھے دارالحکومت اسلام آباد ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوا تھا کہ بدقسمتی سے پمز ہسپتال کی تیسری منزل پر ایک شعلہ لپکا۔معلوم نہیں یہ شعلہ کسی سازش کا نتیجہ تھا یا کسی غلطی یا کوتاہی کا شاخسانہ ،اگلے ہی لمحے نرسری آگ اور دھویں کی لپیٹ میں تھی۔ انکیوبیٹرز میں پندرہ نوزائیدہ بچے لیٹے تھےکسی کی سانس مشین سے بندھی تھی تو کسی کی ماں نے اسے جی بھر کر دیکھا بھی نہ تھا۔ آکسیجن نے شعلوں کو مہمیز دی اور روشن نرسری سیاہ کمرے میں بدل گئی۔ راہداریوں میں بھاگتے قدم، شیشوں کے پار دھواں اور بچوں تک پہنچنےکیلئے بے قرار والدین۔ اس صبح وقت گھڑی سے نہیں، ماؤں کی چیخوں سے ناپا جا رہا تھا۔

جب آگ بجھی تو صرف ایک بچہ زندہ نکالا جا سکا۔ باقی چودہ ننھی سانسیں خاموش تھیں۔ مائیں بچوں کو گود میں لینے کو بے تاب تھیں، مگر سامنے شناخت اور تدفین کا سوال تھا۔ یہ ریاست کی پیشانی پر جلتا ہوا سوال تھا۔ حتمی ذمہ داری تحقیق طے کرے گی، مگر جلی ہوئی نرسری ابھی سے پوچھ رہی ہے: آگ سے بچاؤ کا نظام کہاں تھا؟ ہنگامی اخراج، نگرانی اور احتیاط کہاں تھی؟ اگر سب کچھ تھا تو آگ نے اسے جھوٹ کیوں ثابت کردیا؟

اس حادثے کے بعد سوگوار والدین کو ایک ایسے وزیر کی ضرورت تھی جو انکے سامنے سر جھکاتا، ان کے آنسو پونچھتا اور کہتا: آپ کے بچوں کی موت ہماری اجتماعی ناکامی ہے، میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں۔ مگر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال جب میڈیا کے سامنے آئے تو ایک غم زدہ والد کے ساتھ ان کا تند اور جارحانہ انداز پورے سانحے پر ایک اور زخم لگا گیا۔ بار بار اسے پیچھے آکر بات کرنے کا کہنا، سخت لہجے میں مخاطب ہونا اور بحث کا تاثر دینا ایسا منظر تھا جس میں وزیر کی آواز سنائی دے رہی تھی، مگر ریاست کی ہمدردی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

مصطفیٰ کمال صاحب، جس باپ کا نومولود بچہ جل کر ناقابل شناخت ہو گیا ہو، اسے آداب گفتگو نہیں سکھائے جاتے۔ وہ چیخے تو اس کی چیخ سنی جاتی ہے۔ میں نے نواز شریف، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور عمران خان جیسے بڑے سیاسی رہنماؤں کو سخت ترین سوالات کا سامنا کرتے دیکھا، مگر میڈیا کے سامنےکسی سوگوار شہری سے اس جارحانہ انداز میں الجھتے نہیں دیکھا۔ آپ، اس کے برعکس، بارہا کیمروں کے سامنے اپنے لہجے کو اپنے مؤقف پر غالب آنے دیتے ہیں۔ اختیار کا امتحان دفتر میں نہیں، ایسے لمحے میں ہوتا ہے۔ افسوس، آپ اپنے لہجے سے ہار گئے۔

آپ کی پہچان کراچی کے متحرک ناظم کی تھی۔ آپ کے سابق قائد الطاف حسین کی جماعتی طاقت اور جنرل پرویز مشرف کی وفاقی سرپرستی نے وسائل اور راستہ دیا، جبکہ آپ نے محنت کرکے ترقیاتی کام کرائے۔ اس اعتراف کے باوجود ایک دوسرا تعارف ساتھ چلا،غصہ آپ کے تدبر سے پہلے بول پڑتا ہے۔ پمز میں بھی چودہ بچوں کی راکھ کے سامنے آپ کا لہجہ آپ کی کارکردگی سے بڑا دکھائی دیا۔

آپ ایم کیو ایم سے الگ ہوئے، نئی جماعت بنائی، شکست دیکھی اور پھر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں اسی جماعت میں واپس آگئے۔ اب سیاسی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ آپ پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ اگر یہ آپ کی منزل ہے تو پہلے اپنے مزاج کی قیادت کرنا سیکھئے۔ جماعتیں صرف جوش سے نہیں چلتیں قیادت کے لیے ظرف اور تحمل چاہیے۔

وزارت صحت میں آپ کی فعالیت کی تعریف ہوئی، مگر اچھے کام اخلاقی جواب دہی سے استثنا نہیں دیتے۔ چودہ بچوں کی موت کے بعد تحقیقات کا وعدہ کافی نہیں۔ سوال ہے کہ اسی وزارت کا سیاسی سربراہ اپنی کرسی پر کیوں بیٹھا رہے جس کے ماتحت ادارے میں یہ قیامت برپا ہوئی؟

استعفیٰ جرم کا اعتراف نہیں ہوتا۔ مہذب سیاسی روایت میں استعفیٰ ضمیر کی آواز، منصب کے تقدس اور غیر جانب دار تحقیقات کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ مصطفیٰ کمال صاحب، اگر واقعی وزارتیں آپ کے لیے جوتے کی نوک پر ہیں تو آج اسے ثابت کرنے کا وقت ہے۔ فوری طور پر وزارت چھوڑ دیجیے۔ تحقیقات کا سامنا کیجیے۔ اگر رپورٹ آپ کو بری الذمہ قرار دے تو سر اٹھا کر واپس آئیے۔ کوئی دوسری وزارت سنبھال لیجیے، مگر اس وقت وزارت صحت کی کرسی سے چمٹے رہنا آپ کے ہر دعوے کو مشکوک اور ہر تقریر کو بے معنی بنا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کیا اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ ضروری قدم ہے، مگر کافی نہیں۔ کیا پاکستان میں اختیار ہمیشہ وزیر کے پاس اور جواب دہی صرف افسر کے حصے میں آئے گی؟ اگر چودہ نوزائیدہ بچوں کی موت کے بعد بھی سیاسی مصلحت، اتحادی ضرورت یا پارلیمانی عددی طاقت ایک وزیر کی کرسی بچا لیتی ہے تو پھر تحقیقات کا مطلب چند کمزور اہلکاروں کی قربانی کے سوا کیا رہ جائے گا؟

وزیراعظم صاحب، یہ فیصلہ ایم کیو ایم کی ناراضی یا حکومت کی عددی ضرورت دیکھ کر نہ کیجیے۔ ان ماؤں کے خالی ہاتھ دیکھیے جو اپنے بچوں کو سینے سے لگانے آئی تھیں اور کفن لے کر واپس گئیں۔ تحقیقاتی رپورٹ مقررہ مدت میں قوم کے سامنے رکھیے اور ذمہ داری جس دروازے تک پہنچے، احتساب کو بھی وہیں تک جانے دیجیے۔ یہی آپ کے اقتدار اور انصاف کا امتحان ہے۔

پمز کی جلی ہوئی نرسری میں چودہ بچے نہیں، چودہ سوال دفن ہیں۔ ان سوالوں کا جواب بلند آواز، غصہ یا سرکاری اعلامیہ نہیں، جواب صرف سچ ہے۔ لہٰذا ایک صاف شفاف انکوائری میں جو بھی اس سانحے کا ذمہ دار ثابت ہو،خواہ وہ جس سطح کا بھی عہدیدار ہو ،وزیر ہو ، انتظامی افسر ہو ،ڈاکٹر ہو، نرس ہو یا ہسپتال کے انتظامی امور کانگران، سب کوبلا امتیاز قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔

تازہ ترین