• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناروے ، اسپین اور جرمنی کے مختلف شہروں میں اگست کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات میں جب میںنےحالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے وطن، قومی استقامت اور دفاعِ پاکستان کے حوالے سے اپنے اشعار سنائے، جن میں دلیری اور دانش مندی سے دشمن کو زیر کرنے والی فوج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا اور ان کٹھن حالات کو یاد کیا گیا تھا جن سے گزر کر ہم نے اپنی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کیا تو ان اشعار پر مختلف النوع ردِعمل سامنے آئےبعض لوگوں نے حیران کن تبصرے کیے اور ایسے سوالات اٹھائے جنہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔مثلاََ میں اس بات پر حیران ہوں کہ شخصیات، جماعتوں اور نظریات سے اختلاف اپنی جگہ، مگر وطن تو ہم سب کا مشترکہ حوالہ ہے،اس کا ان اختلافات میں کیا قصور؟ اس سرزمین نے تو کبھی ہمارے لیے اپنی محبت کم نہیں کی،دھرتی نے فصلیں اگانا بند نہیں کیں، دریاوں نے بغاوت کا راستہ اختیار نہیں کیا، ہواؤں نے آکسیجن بانٹنا ترک نہیں کی، بارش نے زندگی کو جنم دینا نہیں چھوڑا ، موسموں نے اپنے رنگ بکھیرنے سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی پہاڑوں نے اپنی فطرت بدلی، پھر ہم کس سے شکوہ کریں؟ شاید سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے،ریاست محض عمارتوں، دفاتر اور اداروں کا نام نہیں،ان اداروں میں بھی ہمارے اپنے بیٹے، بھائی، بہنیں اور عزیز شامل ہیں،جن کی تربیت ہم نے کی ہے۔سیاست ہو، اسٹیبلشمنٹ ہو، عدلیہ ہو یا کوئی اور قومی ادارہ، ان سب میں کسی نہ کسی سطح پر ہماری اجتماعی سوچ، ہماری دانش، ہماری ترجیحات اور ہمارے رویے شامل ہوتے ہیں،کبھی ہماری خاموشی حالات کی تشکیل کرتی ہے اور کبھی ہماری بلند آواز،ریاست اور معاشرہ الگ الگ وجود نہیں ہوتے ایک دوسرے کا عکس ہوتے ہیں۔

کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی وابستگی مجھے اپنے وطن سےپیار کرنے پر باز نہیں رکھ سکتی، نہ میں اپنے ملک سے محبت چھوڑ سکتی ہوں نہ کسی وجہ سے اپنی فوج سے نفرت کر سکتی ہوں، مجھےبھی شکوے ہوسکتے ہیں مگر اُن کا اظہار دشمنی اور نفرت کی زبان میں نہیں ہو سکتا۔ وطن میرے لیے ایمان کی طرح عقیدت کا درجہ رکھتا ہے،یہ میری شناخت ہے، میرے وجود کا سہارا ہے اور میری نسبتوں کا مرکز ہے۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے میں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر آپس میں الجھنے اور دنیا کے سامنے اپنے اور اپنے ملک کا تماشا بنانے کی بجائے ریاست کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کیجیے، اختلاف ہر شہری کا حق ہے اور اپنی رائے کا اظہار بھی جمہوری معاشروں کا حسن ہے، آپ اپنے مؤقف کو مہذب انداز میں بیان کیجیے، لوگوں تک پہنچائیے، آج سوشل میڈیا آپ کے ہاتھ میں ایک طاقتور ذریعہ ہے، آپ کسی ہال میں ایک پروگرام منعقد کریں اور اسے اپ لوڈ کر دیں تو آپ کی بات دنیا بھر میں سنی جا سکتی ہے۔

البتہ جن ممالک نے آپ کو عزت، مواقع اور بہتر زندگی فراہم کی ہے، ان کے قوانین اور سماجی نظم و ضبط کا احترام بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔احتجاج اور اختلاف رائے جمہوری حق ہیں، مگر ایسے طرزِ عمل سے گریز ضروری ہے جو معاشرتی بے ترتیبی، نفرت یا بدنامی کا سبب بنے،یہ نہ ہمارے قومی تشخص کے شایانِ شان ہے اور نہ ہماری تہذیبی روایات کے مطابق۔بارسلونا میں سلیم لنگڑیال اور کلیم وڑائچ کی جانب سے میرے اعزاز میں منعقد کی گئی ایک خوبصورت محفل میں بھی شہزاد اکبر، مظہر حسین راجہ ،عروسہ ، کاشف حسین اور دیگر کی طرف سے جو متعدد سوالات کیے گئے، ان سے یہ بات واضح تھی کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بے چینی اور فکرمندی دراصل وطن سے محبت ہی کا ایک اظہار ہے۔وہ پاکستان کے حالات سے لاتعلق نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں۔سلیم لنگڑیال گزشتہ پچیس تیس برس سے بارسلونا میں مقیم ہیں اور وہاں ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں،ان کا کاروبار وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے، انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے،ایسے لوگوں کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے جو اپنے وطن کے لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں، سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اپنی محبتِ وطن کو صرف نعروں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ سنوارنے اور ترقی دینے کی عملی کاوش کرتے ہیں۔

ان کی حب الوطنی محض گفتگو یا دعووں تک محدود نہیں بلکہ ان کے عمل، ترجیحات اور فیصلوں میں نمایاں نظر آتی ہے، ایسے لوگ دراصل پاکستان کے غیر سرکاری سفیر ہوتے ہیں جو اپنے کردار، رویے اور کاوشوں سے بیرونِ ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے وطن کی معیشت میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔میری رائے میں ریاست کو ایسے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،انہیں اعزازات اور پذیرائی ملنی چاہیے۔ اختلافات اپنی جگہ، تنقید اپنی جگہ مگر وطن سب سے اوپر ہے،یہی وہ مشترکہ چھت ہے جسکے سائے میں ہماری شناخت، ہماری آزادی، ہماری ثقافت اور ہماری آنیوالی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہے۔پاکستان سے محبت محض ایک جذبہ نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے اور اس ذمہ داری کو نبھانا ہم سب پر قرض ہے۔

تازہ ترین