کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جماعتِ اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنا 16 ویں روز بھی جاری ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر نے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے پاکستان کے دارالحکومتوں میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے جاری ہیں، آئی پی پیز کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 3 ستمبر کو ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، تاجر برادری بھی ہڑتال کا اعلان کر رہی ہے، ہڑتال کے حوالے سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور کوشش کی جائے گی کہ 3 ستمبر کی ہڑتال بھرپور اور مؤثر ہو۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ موٹر سائیکل چلانے والے عام شہریوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے، جبکہ پیٹرول لیوی کی مد میں 130 روپے الگ سے ادا کرنا پڑ رہے ہیں، عام آدمی کس طرح اپنی زندگی کی ڈور برقرار رکھ سکتا ہے، حکومت کو اس کا جواب دینا ہو گا۔
منعم ظفر نے کہا کہ گل پلازہ کے معاملے میں کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا، جبکہ جن لوگوں کا اربوں روپے کا سرمایہ جل گیا، حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ہو یا بلدیہ فیکٹری کا سانحہ، نہ فیکٹری میں الارم تھا اور نہ ہی مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
منعم ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی 40 سالہ نورا کشتی نے سندھ بالخصوص کراچی کو کھنڈر بنا دیا، آج یہی دونوں جماعتیں دوبارہ اتحادی ہیں، عوام سے دھوکا اور فراڈ کیا جا رہا ہے، شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2003ء کے بعد آج تک کراچی کے لیے پانی کی ایک بوند کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ آئینی فریم ورک کے تحت انتظامی یونٹس بنائے جائیں اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے تمام محکموں پر پیپلز پارٹی نے قبضہ کیا ہوا ہے، جبکہ کچرا اٹھانے کی بنیادی ذمے داری بھی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
منعم ظفر نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی واپس لینا ہو گی اور مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ کل سہ پہر 3 بجے تاجر کنونشن ہو گا، جس میں جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن شریک ہوں گے۔