محکمہ تعلیم سندھ اور صوبائی حکومت کی سنگین غفلت کے باعث کراچی کے تاریخی دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت کو تقریباً 19 سال گزرنے کے باوجود حاصل نہیں کیا جا سکا۔
اس کے نتیجے میں عدالتی حکم پر اسکول بند ہونے سے ہزاروں طلبہ تعلیم سے محروم ہو گئے، جبکہ سرکاری ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ محکمے طویل عرصے تک مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کرنے کے بجائے محض خط و کتابت تک محدود رہے۔
محکمۂ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق کریم آباد، فیڈرل بی ایریا میں قائم دہلی گورنمنٹ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی اراضی حاصل کرنے کے لیے 27 اگست 2007ء کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894ء کی دفعہ 4 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم سندھ حکومت تقریباً 2 دہائیوں میں حصولِ اراضی کی کارروائی مکمل نہیں کر سکی۔
دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی اینگلو عربک ایسوسی ایشن نے عدم ادائیگی کرایہ اور عمارت کا قبضہ واپس لینے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
عدالت نے 30 اکتوبر 2000ء کو ایسوسی ایشن کے حق میں فیصلہ دیا، جس کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل 20 جنوری 2004ء کو مسترد ہوئی، جبکہ سپریم کورٹ نے بھی 19 دسمبر 2006ء کو صوبائی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
بعد ازاں ایسوسی ایشن کی درخواست پر 9 مارچ 2004ء کو عدالتی ناظر کو عمارت کا قبضہ ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اس صورتِ حال کے بعد ضلعی حکومت نے 2007ء میں اراضی حاصل کرنے کی کارروائی شروع کی، مگر ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے 26 ستمبر 2007ء کو مزید کارروائی روک دی تھی۔
ریکارڈ کے مطابق یہ آئینی درخواست 17 مارچ 2025ء کو مسترد ہو گئی اور حصولِ اراضی کی کارروائی میں قانونی رکاوٹ ختم ہو گئی، اس کے باوجود محکمۂ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر دفعہ 6 کے تحت کارروائی مکمل کر کے اسکول کی عمارت صوبائی حکومت کے نام منتقل نہیں کرائی۔
ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کراچی نے 7 اپریل 2025ء کو ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی کو خط لکھ کر حصولِ اراضی کی کارروائی آگے بڑھانے کی درخواست کی تھی، مگر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود معاملہ زیرِ التواء رہا۔
سرکاری خط میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر کو بھیجی گئی درخواست پر مزید کارروائی نہیں کی گئی۔
محکمۂ تعلیم نے 23 جولائی 2026ء اور اس کے بعد بھی خطوط لکھے، جبکہ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نے سیکریٹری تعلیم سے عدالتی عمل درآمد کے خلاف آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت نئی آئینی درخواست دائر کرنے اور حصولِ اراضی کا عمل تیز کرنے کی منظوری مانگی، مگر یہ اقدامات بھی اسکول کو بند ہونے سے نہ بچا سکے۔
سرکاری مراسلات میں 3 اسکولوں کے 2,800 طلبہ کا مستقبل بچانے کی درخواست کی گئی، متاثرہ اداروں میں دہلی گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول بلاک اے، دہلی گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول بلاک بی اور دہلی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول بلاک سی شامل ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں دہلی گورنمنٹ کالج بلاک ڈی کا بھی ذکر موجود ہے، یہ ادارے 1972ء میں مارشل لا ریگولیشن نمبر 118 کے تحت قومی تحویل میں لیے گئے تھے، لیکن عمارت کی ملکیت اور کرائے کا معاملہ نصف صدی گزرنے کے باوجود حل نہیں کیا جا سکا۔
محکمۂ تعلیم نے خود اپنے خط میں اعتراف کیا ہے کہ قریب ترین متبادل سرکاری اسکول تقریباً 7 کلومیٹر دور ہے، علاقے کے بیشتر رہائشی نجی اسکولوں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور ان اسکولوں کی عدم موجودگی میں موجودہ اور آئندہ داخلہ لینے والے بچوں کی بڑی تعداد تعلیم تک رسائی سے محروم ہو جائے گی۔
تعلیمی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب 17 مارچ 2025ء کو قانونی رکاوٹ ختم ہو گئی تھی تو صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم، محکمہ قانون، بورڈ آف ریونیو اور ضلعی انتظامیہ نے حصولِ اراضی کی کارروائی بروقت مکمل کیوں نہیں کی؟
حکام کی تاخیر اور باہمی رابطے کے فقدان کی قیمت اب ہزاروں بچوں کو اپنا اسکول کھونے اور تعلیم سے محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔