کس کا نوحہ لکھوں؟ ان چودہ نومولود بچوں کا جنہوں نے ابھی دنیا میں آنکھ کھولی ہی تھی کہ زندگی نے انہیں موت کے حوالے کر دیا؟ ان ماؤں کا جنہوں نے نو ماہ اپنے وجود میں ایک زندگی کو سینچا، درد کی ایک طویل رات کاٹی، اذانیں سنیں، دعائیں مانگیں، خواب دیکھے اور پھر اسپتال کی نرسری سے اپنے جگر کے ٹکڑے کی لاش وصول کی؟ ان باپوں کا جنہوں نے اپنے بچے کیلئے کپڑے خریدے، نام سوچا، مستقبل کے خواب دیکھے اور چند لمحوں بعد کفن خریدنے پر مجبور ہوگئے؟ یا اس نظام کا نوحہ لکھوں جس میں ماں اپنے نومولود بچے کو ریاست کے سب سے بڑے طبی اداروں میں سے ایک کے سپرد کرتی ہے اور ریاست اسے زندہ سلامت واپس کرنیکی ضمانت بھی نہیں دے سکتی؟ پمز کی نرسری میں 15نومولود بچے تھے۔ صرف ایک بچ سکا۔ 14بچے آگ کی نذر ہوگئے۔ میں سوچتا ہوں، آج کس کا نوحہ لکھوں؟ اس عملے کا جو اس وقت وہاں نہیں تھا جب اسے ہونا چاہئے تھا؟ اصل نوحہ تو انتظامیہ کا ہے۔ ایک ایسا اسپتال جس پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، جہاں بڑے بڑے افسر آتے ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، فائلیں چلتی ہیں، منصوبے بنتے ہیں، مگر نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں بنیادی فائر سیفٹی کا مؤثر انتظام نہیں تھا۔ یہ بات پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ نومولود بچوں کی نرسری میں آگ بجھانے کا خودکار نظام نہیں تھا۔ یہ پاکستان ہے یا کوئی ایسا ملک جہاں انسانی جان کی قیمت صرف سانحے کے بعد معلوم ہوتی ہے؟یہاں تو سانحہ کے بعد بھی انسانی جان بے قدر رہی، رات کے اندھیرے میں چوری چھپے بچوں کی لاشیں والدین کے سپرد کی گئیں۔ وزیروں کی فوج ظفر موج میں حکومت نے صحت کے محکمے کیلئے دو وزیر رکھ چھوڑے ہیں لیکن کسی ایک کو بھی مظلوم والدین کے گھر تک جانیکی توفیق نہ ہوئی۔اس حکومتی اور انتظامی بے حسی نے اس معلوم حقیقت کو مزید آشکار کر دیا ہے کہ حکمران ٹولے کو عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ اور پھر یہ بھی سامنے آیا کہ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگ چکی تھی۔یعنی خطرے کی گھنٹی پہلے بج چکی تھی۔مگر ہم نے نہیں سنی۔ پہلی آگ نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ دوسری آگ نے چودہ گھروں کے چراغ بجھا دیئے۔ سوال یہ ہے کہ پہلی آگ کے بعد کیا کیا گیا؟ کیا پورے اسپتال کا فائر سیفٹی آڈٹ ہوا؟ کیا ہر وارڈ کا معائنہ ہوا؟کیا نرسری کو محفوظ بنایا گیا؟کیا ایمرجنسی ڈرل ہوئی؟ کیا عملے کو تربیت دی گئی؟اگر نہیں تو پھر چودہ اموات کو محض ’’حادثہ‘‘ کہہ کر جان چھڑانا مشکل ہے۔یہ انتظامی اور حکومتی غفلت اور نااہلی کا معاملہ ہے۔اور پھر حکومت!حکومت نے معطلیاں کر دیں۔ آٹھ افراد کو معطل کرنے کا فیصلہ ہوا، تحقیقات اور قانونی کارروائی کی بات کی گئی، متاثرہ خاندانوں کیلئے فی خاندان 50لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا گیا۔ لیکن، کیا معطلی انصاف ہے؟پانچ ملین روپے ایک خاندان کیلئے شاید مالی مدد ہوں، مگر کیا پانچ ملین روپے ایک ماں کی گود واپس لاسکتے ہیں؟کیا پانچ ملین روپے ایک باپ کے خواب واپس خرید سکتے ہیں؟کیا حکومت کسی قبرستان میں جاکر یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم نے تمہارے بچے کی قیمت ادا کردی؟ نہیں! انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سانحے کے بعد ایک ہی فلم چلتی ہے۔
پہلے حادثہ، پھر ہلاکتیں، پھر وزرا کا دورہ،پھر پریس کانفرنس،پھر معطلیاں، پھر کمیٹی،پھر تحقیقاتی رپورٹ،پھر چند دن کا شور، پھر خاموشی، پھر فائل بند، اور کچھ عرصے بعد ایک نیا سانحہ یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ ہم اسپتالوں میں کروڑوں کی مشینیں خرید لیتے ہیں، عمارتیں تعمیر کر لیتے ہیں، افتتاحی تختیاں لگا دیتے ہیں، مگر فائر الارم، اسپرنکلر، ایمرجنسی راستوں اور تربیت یافتہ عملے کو اکثر ثانوی سمجھ لیتے ہیں۔ ہم علاج پر توجہ دیتے ہیں، حفاظت بھول جاتے ہیں۔حالانکہ اسپتال میں علاج اور حفاظت ایک ہی ذمہ داری کے دو پہلو ہیں۔ایک نومولود بچہ وینٹی لیٹر پر ہو، انکیوبیٹر میں ہو یا نرسری میں سو رہا ہو، وہ خود آگ سے نہیں بھاگ سکتا۔ اسے بچانے کیلئے کسی اور کو جاگنا ہوتا ہے۔ماں اور باپ نے اپنا بچہ اسپتال کو اس اعتماد کیساتھ دیا تھا کہ یہاں ڈاکٹر، نرسیں اور ریاست اسکی حفاظت کرینگے۔ اس اعتماد کا کیا ہوا؟یہی تو اصل سانحہ ہے۔آگ نے صرف چودہ بچوں کو نہیں جلایا۔ اس نے والدین کا ریاست پر اعتماد بھی جلا دیا۔پنجاب میں صحت کا پورا شعبہ ٹھیکے پر دیدیا گیا ہے، اب غریب آدمی کیلئے سرکاری ہسپتال محض ڈراؤنا خواب بن گئے ہیں۔ جنہوں نے پورا نظام پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دیا ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسپتالوں کی حالت بہتر بنائیں گے یہ ایک دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ ٹھیکیدار کو کیا غرض کہ مرے یا جیے۔ اسے تو اپنے منافع سے مطلب ہے۔جب ٹھیکیداری نظام،حکومتی نظم پر حاوی ہو جائیگا تو اس نوعیت کے سانحات ہوتے رہیں گے ۔اب ضرورت صرف سرکاری اسپتالوں کی صفائی یا رنگ و روغن کی نہیں بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ہے۔
ان چودہ بچوں کے نام ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بننے چاہئیں۔انکے نام پمز کی نرسری کے صدر دروازے پر کندہ ہونے چاہئیں تاکہ عملے کو ہر وقت یاد دلاتے رہیں کہ ان بچوں کا خون انتظامی نااہلی کی وجہ سے رائیگاں گیا۔ان کے نام پر پمز سمیت ملک بھر میں ایک ایسا جدید فائر سیفٹی نظام نصب ہونا چاہیے جو آنیوالی نسلوں کے بچوں کو محفوظ رکھے۔ تاکہ جب کبھی کوئی ماں اپنے نومولود بچے کو کسی اسپتال کی نرسری میں چھوڑے تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ اس کا بچہ علاج کیلئے اندر گیا ہے اور شاید کفن میں واپس آئے ۔