چین کا سفر میرے لیے نیا نہیں، لیکن اس ملک کو ہر مرتبہ ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس بار بھی کئی مشاہدات ایسے تھے جنہوں نے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ترقی کا اصل مفہوم صرف اور صرف انسانی زندگی کو محفوظ، آسان اور زیادہ بامعنی بنانا ہے۔دوسری مرتبہ Huawei کے ہیڈکوارٹر جانے کا موقع ملا۔ اس ادارے نے گزشتہ دورے کی طرح اس بار بھی متاثر کیا۔ دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کا تصور عموماً موبائل فون سے وابستہ کیا جاتاہے، لیکن Huawei نے مشکل ترین تعمیراتی مقامات پر جس انداز سے ٹیکنالوجی کو استعمال کیا ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ جہاں بھاری مشینری چلانےکیلئے انسان کا بیٹھنا جان لیوا ہو سکتا ہے، وہاں ڈرائیور کی جگہ روبوٹ کام کر رہے ہیں۔ یوں انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔یہ منظر دیکھتے ہوئے شاہراہِ قراقرم بار بار ذہن میں آتی رہی۔ اس عظیم شاہراہ کی تعمیر میں کتنے ہی لوگ جان سے گزر گئے اور کتنے ایسے تھے جو زندگی بھر کیلئے معذور ہو گئے۔ آج اگر اسی نوعیت کا کوئی منصوبہ جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کے ساتھ مکمل کیا جائے تو انسانی جانوں کا نقصان بہت حد تک روکا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں محض سڑک کی تعمیر و مرمت نہیں بلکہ اس پورے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دینی چاہیے۔چین نے کان کنی کے شعبے میں بھی انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کرنے کیلئے خاصی پیش رفت کی ہے۔ تاہم چینی ماہرین نے یہ حقیقت بھی واضح کی کہ روبوٹ ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے کہ کان کنی کے تمام مراحل مکمل طور پر انکے حوالے کئے جا سکیں۔ یہی بات ہمارے لئے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کان کنی کے دوران حادثات معمول بن چکے ہیں۔ حادثہ ہوتا ہے، قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، خاندان اجڑتے ہیں اور ہم کچھ عرصہ افسوس کرنے کے بعد اگلے حادثے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم چین سے اس شعبے میں ٹیکنالوجی، تربیت اور حفاظتی نظام کے حصول کو قومی ترجیح بنائیں؟
چین میں روبوٹ صرف صنعت تک محدود نہیں رہے۔ ہمارا استقبال ایک روبوٹ نے کیا اور وہی ہماری رہنمائی بھی کرتا رہا۔ تعلیم کے میدان میں بھی روبوٹک ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ ایک اشاعتی ادارے میں دیکھا کہ دوسری زبانوں کی کتابوں کی تیاری اور اشاعت کا کام بھی روبوٹ ہی کر رہےتھے،خوشی اس وقت ہوئی جب اردو زبان کی کتابیں بھی اسی نظام کا حصہ نظر آئیں۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں موجود علمی سرمایہ چینی زبان میں منتقل کیا جا رہا ہے اور چینی کتابوں کو بھی دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا اہتمام ہے۔ یہ صرف اشاعت کا معاملہ نہیںیہ علم کے عالمی تبادلے کی ایک منظم کوشش ہے۔
چینی دوست پاکستان کے سیاسی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ گفتگو کے دوران ملکی سیاست کا ذکر ہوا تو حمزہ شہباز شریف کی اسلام آباد میںسیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ذکرکیا کہ مسلم لیگ ن نے انتخابی اکھاڑےمیں اپنےپہلوان اتارنا شروع کر دیے ہیں۔ انتخابات ابھی ڈھائی برس دور ہیں، لیکن سیاست میں وقت کب گزرتا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔حمزہ شہباز کو میں جتنا جانتا ہوں، ان کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات تحمل سے سنتے ہیں۔ سیاسی کارکن کیلئے یہ بہت اہم ہے کہ اسکی مرکزی قیادت میں سے کوئی پوری توجہ سے اس کی بات سن رہا ہو ۔ ضروری نہیں کہ کارکن ہر مرتبہ کسی کام یا عہدے کی درخواست لیکر آئے۔ بسا اوقات وہ صرف یہ بتانا چاہتا ہے کہ جماعت کے کارکن کن مسائل سے دوچار ہیں۔ یقیناً سیاسی کارکن پارلیمنٹ یا سرکاری عہدے کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے، لیکن قیادت تک کارکن کی آواز پہنچنا بذاتِ خود سیاسی عمل کا اہم حصہ ہے۔حمزہ شہباز نے اپنی ایک ٹیم بھی بنائی ہے۔ بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی ٹیم زمینی حقائق سے آگاہ اور منجھی ہوئی ہے ۔ گراؤنڈ پر موجود ٹیم کارکن کا حوصلہ بڑھاتی اور ووٹر کے ساتھ رابطہ قائم رکھتی ہے۔ یہی رابطہ آنے والے انتخابی معرکے میں اصل سرمایہ بن سکتا ہے۔یہی اصول خارجہ پالیسی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک جاتا ہے، اور یہ جانا ضروری بھی ہے۔ لیکن گزشتہ برس کے مشاہدے سے یہ محسوس ہوا کہ بڑے وفد کے بجائے محدود، بااختیار اور واضح ذمہ داریوں والے افراد کا وفد زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ پہلے اہداف طے کیے جائیں، پھر ہر شخص کو مخصوص ہدف کے حصول کی ذمہ داری دی جائے۔ سائیڈ لائن ملاقاتوںکے واضح نتائج سامنے آئیں۔ اگر ایک ملاقات کے بعد ہماری خبر بھی اخبارات میں جگہ نہ بنا سکے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی موجودگی کا مطلوبہ اثر پیدا کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔
امریکہ کے دورے میں اس پہلو پر خصوصی توجہ درکار ہے۔ ہمیں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ امریکی عوام، دانشوروں، میڈیا اور پالیسی سازوں کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دینا ہے اور اسے کس ذریعے سے مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔ بھارت نے 1972ء سے اس میدان میں مسلسل کام کیا۔ آج وہاں قائم ادارے اور اس کے حامی نیٹ ورکس ایک مضبوط درخت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے پاس شاید ایسی بنیاد موجود نہیں، لیکن راستہ بہرحال موجود ہے۔
امریکہ میں ایسے لوگوں سے روابط بڑھانے ہوں گے جو معروف دانش وروں اور بڑے تھنک ٹینکس تک رسائی رکھتے ہوں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے پروگرام بھی صرف سفارتخانے کے روایتی دائرے تک محدود نہیں رہنےچاہئیں۔ اپنی جماعتوں، سماجی حلقوں اور وہاں موجود پاکستانی نیٹ ورکس کو بھی متحرک کیا جا سکتا ہے۔