ایک وقت تھا جب افغانستان میں امریکی جہاد جاری تھا۔ ہم جیسے ترقی پسند اس کیخلاف تھے۔ ہم کہتے تھے: یہ مجاہدین اور روس کی جنگ نہیں۔ یہ امریکہ اور روس کی جنگ ہے۔ افغان مجاہدین صرف مہرے ہیں۔ پاکستان راستہ ہے، افغانستان میدان۔
تب یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی۔ جذبہ بہت تھا، سوال کم۔ نعرے بلند تھے، حقیقت دبی ہوئی تھی۔ ہم غلط نہیں تھے، صرف اکیلے تھے۔
پھر واشنگٹن کا عقیدہ بدل گیا۔کل کے مجاہد آج مشتبہ ٹھہرے۔ کل کی جنگ آزادی تھی، آج دہشت گردی بن گئی۔ افغانستان پر گندم بھی گری، بارود بھی۔ بستیاں جلیں، قبائیں جلیں، عمامے گرے۔تب بہت سے لوگ اسی جگہ آ کھڑے ہوئے جہاں ہم پہلے سے کھڑے تھے۔مجھے خوشی نہیں ہوئی۔ صرف یہ دکھ ہوا کہ بعض حقیقتیں دلیل سے نہیں، تباہی سے سمجھی جاتی ہیں۔میں تب بھی فیض کے سوال کے ساتھ تھا۔ فراز کے انکار کے ساتھ تھا۔ کسی جماعت سے بڑا میرے لیے اصول تھا۔ کسی نعرے سے بڑا انسان۔
پاکستان میں دائیں اور بائیں کی سیاست عروج پر تھی۔ پیپلز پارٹی بائیں بازو کی جماعت سمجھی جاتی تھی۔ روشن خیال، جمہوریت پسند اور اسٹیبلشمنٹ مخالف لوگ اس کے قریب تھے۔
دوسری طرف نون لیگ اور جماعت اسلامی تھیں۔ دونوں دائیں بازو کی سیاست کرتی تھیں۔ ان کے اتحاد بھی بنتے تھے۔ سیاسی تقسیم واضح تھی۔
پھر جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا آیا۔اس نے صرف حکومت نہیں گرائی۔ کئی سیاسی فاصلے بھی مٹا دیے۔ نون لیگ بھی وہاں آ پہنچی جہاں آمریت مخالف لوگ پہلے سے کھڑے تھے۔
نواز شریف جلاوطن ہوئے۔ دس برس باہر رہے۔ شاید جلاوطنی نے ان کی سیاست بھی بدلی۔ انہوں نے پرویز رشید جیسے ترقی پسند لوگوں کو سننا شروع کیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زبان سخت ہوئی۔پھر بے نظیر بھٹو سے مفاہمت ہوئی۔ میثاقِ جمہوریت ہوا۔ یوں لگا کہ دو بڑی جماعتیں ماضی سے کچھ سیکھ گئی ہیں۔مگر سیاست میں وعدے جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی۔ آصف زرداری صدر بنے۔ پہلی بار ایک منتخب صدر نے مدت پوری کی۔
یہ اچھی علامت تھی۔مگر اسی دوران ایک اور حقیقت سامنے آئی۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت کے اختلافات اتنے گہرے نہ تھے جتنے جلسوں میں دکھائی دیتے تھے۔ ٹکراؤ ہوا، مگر جلد ختم ہو گیا۔پھر نون لیگ اقتدار میں آ گئی۔ پیپلز پارٹی سندھ تک سمٹنے لگی۔ دونوں بڑی جماعتوں کے فرق دھندلے ہونے لگے۔دائیں اور بائیں کی لکیر بھی مدھم پڑ گئی۔سب سے بڑا نقصان جماعتوں کا نہیں، ذہنوں کا ہوا۔جو لوگ کبھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے، ان میں سے کئی اس کے قریب ہو گئے۔ جو امریکہ کے سخت ناقد تھے، وہ امریکی پالیسیوں کے مدافع بن گئے۔ جو کل مزاحمت لکھتے تھے، آج مفاہمت لکھنے لگے۔لفظ وہی تھے، سمت بدل گئی۔
اسی دوران ایک تیسری جماعت تیزی سے ابھری۔ عمران خان کی مقبولیت بڑھی۔ نوجوان اس کے ساتھ آئے۔ پرانے سیاسی بندوبست سے تھکے لوگ بھی اس کے گرد جمع ہوئے۔
اسٹیبلشمنٹ نے بھی ایک مرحلے پر اس کا ساتھ دیا۔ ہم جیسے بہت سے لوگ بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔ہمیں امید تھی کہ شاید پرانی سیاست بدلے گی۔ شاید طاقت کا مرکز عوام بنیں گے۔ شاید احتساب صرف کمزور کے لیے نہیں ہوگا۔
عمران خان اقتدار میں آیا۔مگر اقتدار ہمیشہ دوستیوں کا امتحان لیتا ہے۔جلد ہی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھے۔ تعلق بگڑا۔ حکومت ختم ہوئی۔ مقدمات بنے۔ سیاسی دباؤ بڑھا۔مگر ایک عجیب بات ہوئی۔اقتدار گیا، مقبولیت نہ گئی۔ مقدمے بڑھے، حمایت نہ گھٹی۔ راستے بند ہوئے، ہجوم کم نہ ہوا۔یہی وہ مقام تھا جہاں بہت سے پرانے ترقی پسند بھی بدلتے دکھائی دیے۔جو کبھی ریاستی طاقت کے خلاف لکھتے تھے، اب اسی طاقت کی زبان بولنے لگے۔ جو کردار کشی کو گندا ہتھیار کہتے تھے، وہ خود اسی ہتھیار کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جو آزادیٔ اظہار کے علمبردار تھے، وہ مخالف آواز سے خائف ہونے لگے۔میں عمران خان کو بے خطا نہیں سمجھتا۔ اس سے سیاسی غلطیاں بھی ہوئیں۔ فیصلے بھی غلط ہوئے۔ مگر اصل سوال عمران خان نہیں۔اصل سوال اصول ہے۔
اگر کل کسی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ہٹانا غلط تھا تو آج بھی غلط ہے۔ اگر کل سیاسی انجینئرنگ جرم تھی تو آج بھی جرم ہے۔ اگر کل اسٹیبلشمنٹ کی سیاست ناقابل قبول تھی تو آج بھی ہونی چاہیے۔اصول موسم کے ساتھ نہیں بدلتا۔جو اصول صرف اپنے آدمی کے لیے ہو، وہ اصول نہیں، مفاد ہے۔میں نے اپنی زندگی میں کئی لوگ بدلتے دیکھے۔ بائیں سے دائیں گئے۔ دائیں سے اقتدار کی طرف گئے۔ انقلاب سے دربار تک پہنچے۔میں اب بھی وہیں کھڑا ہوں۔جہاں آئین فرد سے بڑا ہے۔ جہاں عوام اقتدار سے بڑے ہیں۔ جہاں اختلاف غداری نہیں۔ جہاں سوال جرم نہیں۔ جہاں ریاست کسی ایک ادارے کا نام نہیں۔قوم خاموشی سے نہیں بنتی۔ سوال سے بنتی ہے۔جمہوریت صرف ووٹ نہیں۔ ووٹ کے احترام کا نام ہے۔آئین صرف کتاب نہیں۔ طاقت کی حد ہے۔صحافت صرف خبر نہیں۔ اقتدار سے سوال ہے۔سیاست صرف حکومت نہیں۔ عوام کی رضامندی ہے۔میں نے ہیرو بدلتے دیکھے۔ مجرم بدلتے دیکھے۔ نعرے بدلتے دیکھے۔ وفاداریاں بدلتے دیکھی ہیں۔مگر ایک چیز نہیں بدلنی چاہیے’اصول‘۔میں شاید آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں کبھی فیض کا سوال کھڑا تھا۔ جہاں فراز کا انکار کھڑا تھا۔ جہاں آدمی جماعت سے نہیں، اپنے موقف سے پہچانا جاتا ہے۔اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اصل امتحان یہ ہے کہ جب سب جگہ بدل رہے ہوں، تب آپ اپنا اصول بدلتے ہیں یا نہیں۔