• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مل جل کر کام کرنے میں برکت ہے۔ یہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ جب ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ہاتھ سے ہاتھ ملاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رحمت ہمارے ساتھ شاملِ حال ہو جاتی ہے۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

جب سے انسان اس کرہ ارض پر آیا ہے، سیب کا ذکر تاریخ، قصوں اور عام زندگی کا حصہ رہا ہے۔ صدیوں تک سیب صرف ایک ایسا پھل تھا جسے کھایا جاتا تھا اور بھوک مٹائی جاتی تھی۔ لیکن کیا کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ ایک دن یہی آدھا کھایا ہوا سیب دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین ٹیک تجارتی سلطنت کی علامت بن جائے گا؟ ایک ایسی کمپنی جس نے اتنی مختصر مدت میں ترقی کے وہ مدارج طے کیے کہ دنیا کا کوئی بھی بزنس گروپ، کارپوریٹ ادارہ یا انڈسٹریل جائنٹ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

اسٹیو جابز اور ان کے ساتھی نے جب ایک چھوٹے سے گیراج میں ایپل کی بنیاد رکھی تھی، تو شاید دنیا اسے محض دو سرپھرے نوجوانوں کا خواب سمجھتی تھی۔ لیکن آج آئی فون ہر شخص کے ہاتھ میں ایک جادوئی شے کی طرح موجود ہے۔ عام انسان جب آئی فون کو ہاتھ میں لیتا ہے تو اسے صرف ایک چمکتا ہوا برانڈ اور ایپل کا لوگو نظر آتا ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اس ایک فون کے اندر پوری دنیا کی بہترین ایجادات، سب سے جدید ٹیکنالوجی اور درجنوں عالمی کمپنیوں کی برسا برس کی محنت چھپی ہوئی ہے۔

ایپل خود کیا بناتا ہے اور دنیا سے کیا لیتا ہے؟

یہاں ایک بہت بڑا اور بصیرت افروز سبق موجود ہے۔ ایپل نے کبھی یہ ضد نہیں کی کہ وہ روئی سے لے کر کپڑا بنانے تک کا تمام کام خود کرے گا۔ ایپل کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ ہر کام میں خود کو الجھانے کے بجائے صرف اپنے بنیادی مقاصد اور صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے یعنی پروڈکٹ کا وژن، انڈسٹریل ڈیزائن، ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کا باہمی ربط، شاندار یوزر ایکسپیرینس اور زبردست گلوبل برانڈنگ۔باقی تمام پرزہ جات اور ٹیکنالوجی کے لیے ایپل نے دنیا کی ان کمپنیوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا جو اپنے اپنے شعبے میں دنیا کی سب سے ماہر اور زبردست سپلائرز ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آئی فون کی روح میں کون کون سے عالمی وینڈرز دھڑک رہے ہیں:

(1) TSMC (تائیوان):آئی فون کا اصلی دماغ یعنی پروسیسر یہ کمپنی بناتی ہے۔ دنیا کی جدید ترین چپ ڈیزائننگ اور مینوفیکچرنگ کا مرکز یہی ہے۔(2) SK Hynix (جنوبی کوریا) اور KIOXIA (جاپان):فون کی تیز رفتار ریم اور فلیش اسٹوریج جہاں آپ کا تمام ڈیٹا، تصویریں اور فائلیں محفوظ ہوتی ہیں۔(3) Sony (جاپان):آئی فون سے لی گئی شاندار تصاویر کا کریڈٹ سونی کے کیمرہ امیج سینسرز کو جاتا ہے۔(4) Samsung اور LG Electronics (جنوبی کوریا): جس شاندار اور دلکش OLED ڈسپلے سکرین کو دیکھ کر لوگ حیران ہوتے ہیں، وہ سام سنگ اور ایل جی کی زبردست سکرین ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت ہے۔ (5) Qualcomm (امریکہ): فون کے سگنلز، فاسٹ فائو جی اور موڈیم ٹیکنالوجی کو کوالکوم کے چپس کنٹرول کرتے ہیں۔(6) Corning Incorporated (امریکہ): ڈسپلے سکرین کے اوپر لگنے والا مضبوط ترین شیشہ جو فون کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔(7) ATL Amperex اور Sunwoda (چین): فون کو دن بھر زندہ رکھنے والی زبردست بیٹری سپلائرز۔(8) AAC Technologies اور Cirrus Logic: کرسٹل کلیئر آواز، زبردست سپیکرز اور آڈیو چپس۔(9) Broadcom اور Texas Instruments: وائی فائی، بلوٹوتھ اور پاور مینجمنٹ کی چپس۔(10) Foxconn, Pegatron اور Luxshare-ICT: اور آخر میں ان تمام بکھرے ہوئے شاہکار پرزہ جات کو ملا کر ایک مکمل اور نایاب آئی فون کی صورت میں اسمبل کرنے والے عالمی پارٹنرز۔

اگر گہرے تجزیے اور تحقیق کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی سب سے کامیاب مصنوعات سب سے بڑی ٹیمیں نہیں بناتیں، بلکہ سب سے بہترین اور مضبوط شراکت داریاں بناتی ہیں۔ قیادت یہ نہیں ہے کہ آپ ہر کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی دھن میں الجھ کر رہ جائیں، بلکہ اصل دانشمندی اور تدبر یہ ہے کہ کس کام کے لیے کس صلاحیت کا انتخاب کیا جائے اور سب کو ایک مشترکہ مقصد پر کیسے جوڑا جائے۔ایپل نے دنیا کے ان تمام مسابقتی حریفوں کو، جن میں سے کچھ کھل کر اس کے سیاسی اور تجارتی حریف بھی ہیں، ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ایک ایسا عالمی سپلائی چین کا نظام تخلیق کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

ہم بڑے مقاصد کیلئے کب اکٹھے ہوں گے؟آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم بطور قوم اور بطور معاشرہ اپنی انا، چھوٹی موٹی تفریق اور’ سب کچھ میں ہی کروں گا ‘کی محدود سوچ سے باہر کب نکلیں گے؟ جب دنیا کی ٹیکنالوجی جائنٹس اتحاد اور باہمی تعاون کی بدولت دنیا پر راج کر سکتی ہیں، تو ہم اپنے ملک، اپنی انڈسٹری اور اپنے اداروں میں بڑے مقاصد کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم باہمی اتحاد، تکنیکی شراکت داری اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا احترام کرنا سیکھیں کیونکہ برکت ہمیشہ مل جل کر کام کرنے میں ہی ہے۔

تازہ ترین