• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ بات تواتر سے سنتے آئے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے ۔ زوال آمادہ اقوام کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ان کے نزدیک غیر حقیقی مسائل، حقیقی بن جاتے ہیں ۔ دوم ایسے افراد اور اقوام ماضی پرست ہو جاتے ہیں اورہر وقت عظمتِ رفتہ کے گن گاتے رہتے ہیں ۔ سوم ۔ اسی ابنارمل ذہنی کیفیت میں وہ اپنے مسائل کے حل کے بارے میں غلط فیصلے کرنے لگتے ہیں جس سے ان کے مصائب کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جاتے ہیں ،جیسا کہ مذہب کے بارے میں ان کا احساسِ عدمِ تحفظ اور واویلا "اسلام خطرے میں ہے " ایک ایسا نعرہ ہے جسے ہر کس و ناکس نے اپنےاپنے مفادات کے تحفظ کیلئےبے دریغ استعمال کیا۔ ہر الیکشن کے موقع پر بعض مذہبی جماعتوں کے نزدیک اسلام خطرے میں آ جاتا ہےلیکن اسلام کبھی خطرے میں نہیں تھاالبتہ اپنے مقاصد کیلئے مذہب کا نام استعمال کرنیوالوں کی بقا خطرے میں رہتی ہے جسے بعض طبقات سہارا دیتے رہتے ہیں تاکہ وہ جماعتیں مسلم دنیا میں اٹھنے والی جمہوری، ترقی پسند اورروشن خیال تحریکوں کا راستہ روکنے میں انکی مدد کریں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر باقی ماندہ دنیا میں عوامی راج، جمہوریت اور انسانی حقوق پر مبنی تحریکیںکامیاب ہو گئیں تو خود ان کا اقتدار بھی خطرے میں پڑ جائیگا۔ "اسلام خطرے میں ہے " کئی عشروں سے ہمارے ہاں کے شاعروں، ادیبوں ،مذہبی رہنماؤں اور فلم سازوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ بہت سے اہلِ علم حضرات مستقبل کی طرف دیکھنے کی بجائے قوم کو ماضی پرستی کا درس دیتے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں دائیں بازو کے خواتین و حضرات نسیم حجازی کے ناولوں کے بڑے شوقین ہوتے تھے جو تاریخی ناولوں کو مکالموں کی شکل میں لکھا کرتے تھے۔ اور صرف یہی ایک بات پوری تاریخ کو مشکوک بنا دینے کیلئے کافی تھی کہ صلاح الدین ایوبی اور یوسف بن تاشفین جیسے کرداروں کی زبان سے ادا ہونے والے مکالمے نہ جانے نسیم حجازی صاحب کس علمِ غیب کی بنیاد پر کہاں سے حاصل کر لیتے تھے۔ البتہ ان کے ہر ناول سے دو نتائج بآسانی اخذ کیے جا سکتے تھے۔ اول تمام دنیا اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی اور اسلام کو مٹا دینے کے در پےہے۔ دوم اسی وجہ سے اسلام ہمیشہ خطرے میں رہا ہے۔ تاریخِ عالم کا ایک ادنی سا طالب علم بھی ان دونوں مفروضوں کو جھٹلا دینے کیلئے کافی مواد رکھتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ دنیا کا کوئی مذہب دوسرے کے خلاف جنگ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔قوموں کے درمیان جنگیں مذہب کی بنیاد پر کبھی نہیں ہوئیں ۔ جنگ ہمیشہ معاشی مفادات اور سیاسی بالا دستی کے لیے لڑی جاتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثال حالیہ تاریخ میں یوں ملتی ہے کہ 1914ءکی پہلی عالمی جنگ اور1939ءکی دوسری عالمی جنگ میں متحارب قوموں کی غالب اکثریت ایک ہی مذہب یعنی عیسائیت کے ماننے والوں کی تھی۔ یہ وہ جنگیں تھیں جن میں سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔ مذاہب کے بارے میں دو باتیں نہایت اہم ہیں ایک یہ کہ دنیا کے تمام مذاہب کے بنیادی اصول ایک جیسے ہیں کیونکہ ان کا منبع ایک ہی ذات یعنی ذاتِ باری ہے۔ چونکہ انسان مرکب الخطا و نسیان یعنی بھول چوک کا مرکب ہے چنانچہ پیغمبروں کو مبعوث کرنے کا سلسلہ جاری رہا ، ورنہ جھوٹ نہ بولو ،پورا تولو ،کسی پر ظلم نہ کرو وغیرہ وغیرہ وہ اصول ہیں جو حضرت آدم ؑکے زمانے سے چلے آرہے ہیں۔ اسی لیے دنیا کے تمام مذہب اچھے اور سچے ہیں اور یہی ہمارے ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ تمام مذاہب نے تمام انسانی معاشروںپر اپنے گہرے مثبت نقوش اس طرح چھوڑےہیں کہ وہ ہماری زندگیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ اخلاقیات کے وہ تمام اصول جو اقوام متحدہ کے منشور کی بنیاد ہیں وہ تمام مذاہب کی تعلیمات کا نچوڑ ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم غیر مسلم اقوام کے اعمالِ صالحہ کو بھی متعصبانہ خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ مثلاً ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلموں نے ہمارے اصول اپنا کر ترقی کی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے مذہب میں بھی اعمال صالحہ کے وہی اصول ہیں جو ہمارے مذہب میں ہیں۔

نائن الیون کے بعد دنیا کے سامنے طالبان کی شکل میں اسلام کے نام پر جو خوفناک دہشت گردی مرد و زن میں صنفی امتیاز، جدید تعلیم سے نفرت اور انتہا پسندی کے مظاہرے دیکھنے میں آرہے ہیں ان کی وجہ سے پہلی مرتبہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسلام خطرے میں ہے۔ کسی غیر مسلم کی وجہ سے نہیں خود مسلمانوں کی وجہ سے۔ دنیا سب سے پہلے کسی کے کردار سے متاثر ہوتی ہے پھر اس کے مذہب خاندان یا ملک سے۔ آج ہماری جو تصویر دنیا کے سامنے ہے وہ ہے تنگ نظری جہالت، نفرت اور قتل و غارت گری سے دنیا کو دور جہالت کے غاروں میں واپس بھیجنے والے دہشت گردوں کی۔ حالانکہ اسلام تحمل بردباری، علم، امن اور سلامتی کا مذہب ہے اگر ہم نے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کو نہ دکھائی تو پھر یہ خطرہ یقیناً حقیقی خطرہ بن سکتا ہے۔

تازہ ترین