صداقت صاحب اور زبیر صاحب کے گھرانے ایک ہی محلے میں رہتے ہیں۔ صداقت صاحب کے چار بیٹے ہیں دس مرلے کا مکان ہے چاروں بیٹے بیاہے ہوئے آل اولاد کے ساتھ گھر کے ایک ایک کمرے میں ٹھُنسے ہوئے ہیں۔ گھر کا نظام صداقت صاحب اور انکی بیگم چلاتے ہیں ناشتہ، دوپہر، رات کا کھانا کیا بنے گا، کیا پکے گا وہی بتاتے ہیں۔ کسی بیٹے کی بیوی نے لان کا ایک سوٹ بھی لینا ہو تو اس کی اجازت ساس سسر سے لینی پڑے گی۔ چاروں بیٹے کماتے ہیں مگر انکے گھروں میں معاشی خوشحالی نہیں۔ گھر کے مکینوں کے دل راضی نہیں۔ تمام تر اختیارات صداقت صاحب اور ان کی بیگم کے پاس ہیں ۔ آنے والی بہویں تلملاتی رہتی ہیں گھر سے وابستگی کا احساس مٹ جاتا ہے گھر کو سجانا ،سنوارنا ،سمیٹنا انہیں بوجھ لگتا ہے۔ ایسے میں گھر کی ظاہری حالت ہر وقت بکھری ہوئی ، بوسیدہ نظر آتی ہے۔
دوسرا گھرانہ زبیر صاحب کا ہے چار بیٹے ہیں 10مرلے کا مکان ہے، ایک بیٹا ان کے ساتھ رہتا ہے ۔ ایک بیٹا سرکاری گھر میں رہتا ہے، دو بیٹوں کو گھر کے اندر ہی دو پورشن بنا کر دے دیے ہیں ، سب کے کچن الگ ہیں، زبیر صاحب کا ہربیٹا ایک الگ گھر کے یونٹ کا مالک ہے اس کی بیوی اپنے گھر کے یونٹ کو سجانے، سنوارنے اور چمکانے میں لگی رہتی ہے کوئی مہمان آجائے تو گھر چمکتا ہوا ، مہکتا ہوا صاف ستھرا نظر اتا ہے۔ بیگم زبیر اور انکے شوہر اپنے جس بیٹے کے ساتھ ہیں اس گھر میں باورچی خانے سے لیکر گھر کی اشیاء خریدنے کا اختیار بیٹے اور بہو کو دیا گیا ہے تاکہ وہ اس گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دل سےقبول کریں۔ زبیر صاحب کی بہویں گرمیوں کے اپنے کپڑے خریدتی ہیں تو اپنی ساس اور سسر کیلئے بھی خوبصورت لان کے جوڑے لاتی ہیں اور ان کو یہ گفٹ کرتی ہیں، دونوں اپنے بچوں کی سعادت مندی پر نہال ہو جاتے ہیں ۔ اس گھرانے میں محبت ہے ایک دوسرے کا تعاون ہے، دل جڑے ہوئے ہیں بے برکتی نہیں ہے گھر بھی چمکتا ہے۔
ان دونوں گھرانوں میں کون سا گھرانہ خوش قسمت ہے تصویر آپ کے سامنے ہے کہ زبیر صاحب کا گھر جہاں اختیارات اپنے بچوں میں دیئے گئے ہیں ہر بیٹے کا الگ یونٹ بنایا گیا ہے وہ خوش قسمت ہے کیونکہ وہاں انتظام انصرام بہترین طریقے سے ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بڑے صوبوں میں مرتکز اختیارات کو تقسیم کر کےنئے صوبوں کی صورت چھوٹے انتظامی یونٹ بنانا کتنا ضروری ہے زبیر صاحب اور صداقت صاحب کے گھرانوں کو دیکھ کر واضح ہوجاتا ہے۔
میں نے، بسلسلہ ملازمت والد صاحب ،جنوبی پنجاب کے ایک پرسکون، خوبصورت شہر خان پور میں کئی برس قیام کیا، وہاں سکول، کالج میں تعلیم حاصل کی پھر بہاولپور یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی کیا۔میں ان مسائل کی عینی شاہد ہوں کہ یہاں کے باسیوں کو اہم کام کے سلسلے میں ’’ لہور‘‘ جانا پڑتا مقابلے کے امتحان کیلئے جان توڑ محنت کرنے والے کئی ایسے طالبعلموں کو جانتی ہوں جو سفر کرکے لاہور پیپر دینے تو آئے مگر کسی تیسرے درجے کے ہوٹل کے کھانا کھا کر بیمار پڑ گئے،امتحان تو کیا دیتے ۔صحت کے لالے پڑ گئے۔
راجن پور کے بشیر صاحب کوبرین ہیمرج ہوا تو مقامی اسپتال والوں نے کہا ’’لہور‘‘ لے جائیں بیماری کی حساسیت اورطویل سفر.... وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ جنوبی پنچاب کی ہائی ویز پر سفر کرتے ہوئےچھوٹے چھوٹے شہروںکی دکانوں، پان سگریٹ کے کھوکھوں کیساتھ چلتی دیواروں پر لکھا ہوتا ۔ ’’اساں قیدی تخت لہور دے‘‘ اس کو دی کوڈ کریں، صوبے میں اختیارات کی مرکزیت کے خلاف احتجاج سنائی دیتا ہے۔
ایسی ہی صورتحال پاکستان کے دوسرے بڑے صوبوں کےمضافاتی شہروں اور قصبوں کو بھی درپیش ہے، وہاں کا ہرشہری اپنے ضروری کاموں کے سلسلے میں اختیارات کے مرکز کی طرف سفر کرتا ہے۔ ایک پاکستانی شہری کس طرح سرکاری دفتروں میں رلتا ہے، مضافاتی شہروں کی صورتحال کیا ہے، ہسپتال ہیں یا تعلیمی ادارے، بھوت بنگلے اور بوسیدہ انفرسٹرکچر وہاں بسنے والوں کے لیے کسی سزا سے کم نہیں ۔پھر کیوں نہ ان بڑے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جائے۔ تاکہ مختصر انتظامی مرکز اگر ہوگا تو وہ وہاں کے بسنے والوں کیلئے تعلیمی سہولتیں ،صحت کی سہولتیں ،انتظامی معاملات اور سرکاری ادارے ان کے قریب لے جائیگا۔ کیونکہ ایک عام شہری کو زندگی گزارتے ہوئے ان تمام جگہوں سے پالا پڑتا ہے۔ اسے سرکاری دفاتر میں جانا پڑتا ہے، اسے امتحانات دینے پڑتے ہیں، نوکری کیلئے اسے اچھے اداروں میں اپنے بچوں کو پڑھانا ہوتا ہے، اسے بہتر صحت کی سہولیات کیلئے بڑے شہروں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے ۔ انتظامی مرکز جغرافیائی طور پرمختصر ہوگا، شہریوں کی ان بنیادی سہولیات تک رسائی آسان ہوگی۔
نئے صوبے بننے چاہئیں۔مسائل جغرافیائی اور انتظامی تقسیم سے ہی حل نہیں ہوں گے جب تک فعال مقامی حکومتیں کام نہ کریں۔ مقصد انتظامی اختیارات مزید نچلی سطح تک لے کے جانے کا ہے تاکہ گلی محلے کے مسائل، سیورج سسٹم کی مرمت مارکیٹوں کی صفائی ستھرائی یہ سب انتظامی اختیارات کی ابتدائی اکائی یعنی لوکل حکومتوں کے سطح پر ہوں۔ یہ نقطہ نظر درست نہیں کہ اختیارات کے مرکز سے دور بسنے والوں کے مسائل کے حل کیلئے مقامی حکومتوں کا وجود کافی ہے اور نئے صوبوں کی ضرورت نہیں ۔ صوبے بنیں گے تو وہ اس علاقے کے مسائل کے اور ضروریات کے مطابق معاشی، سماجی، تعلیمی پالیسیاں بنا سکیں گے، نئی قانون سازی کر سکیں گے کیونکہ ہر صوبے کے سماجی اور معاشی حالات کے مطابق مسائل مختلف ہو سکتے ہیں ،نئے صوبے بھی ضرور بنیںاور مقامی حکومتیں بھی قائم ہوں تاکہ دونوں ایک دوسرے کے تعاون سے پاکستانی عوام کیلئے بہتر اور سہولت خیز سماجی سیاسی معاشی ڈھانچا بنا سکیں۔ انتظامی اختیارات کو سینٹرلایز کریں گے تو شہریوں میں محرومی کا احساس ہوگا وہ بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رہیں گے اور اگر اختیارات کو ڈی سنٹر لائز کریں گے تو بنیادی سہولتیں دور دراز بسنے والے پاکستانیوں تک پہنچیں گی۔
اس حقیقت کو صداقت صاحب اور زبیر صاحب کےگھرانوں کے حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھیں تو بات بہت سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے۔ آپ کیسی زندگی چاہتے ہیں صداقت صاحب کے گھرانے جیسی یا زبیر صاحب کے گھرانے جیسی؟