• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زلزلہ آنے والا ہو تو حشرات الارض کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیڑیاں (چیونٹیاں) بے کلی اور بے چینی میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگتی ہیں مگر کبوتر بلّی کو آتا دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتاہے۔ ہونی، ہونے کو تھی سو ہو کر رہی، نقارہ بج چکا۔ سیٹی کی بلند آواز ہر کس و ناکس کو قطار میں لگنے کا واضح اشارہ دے رہی ہے۔ اب گو مگو کا وقت گزر چکا، اِدھر یا اُدھر؟ عرصہ دراز سے اس ہونے کی تیاری کی جا رہی تھی خبردار، ہوشیار،تیار جون کے ابتدائی دنوں میں لکھ کر آنیوالے واقعات کو کھوجنے کی طالب علمانہ کوشش کی تھی۔ اب توپےدرپے ہونیوالے واقعات نے رفتار پکڑ لی ہے، سیاسی حکومت سے معیشت اور سیاسی بیانیے تک کے حوالے سے جو کوتاہیاں اظہر من الشمس تھیں انکا کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکلنا تھا۔ کاٹھ کی حکومتی ہنڈیا کے دو بڑے اتحادی نون اورپپلیےوعدے و عید کرکے اکٹھے چل رہے تھے مگر دونوں کی زلزلےکے حوالے سے کوئی تیاری تھی اور نہ ہی اب ہے۔ کاٹھ کی ہنڈیا چوراہے میں پڑی ہے اور اسے پتھر پڑ رہے ہیں۔ کہانی وہی پرانی ہے لوہے اور پارس کی قربت کی۔ برصغیر کی قدیم ہندی اوراردو صوفیانہ روایت میں لوہے اور پارس کا استعارہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسکی بنیاد ’’پارس‘‘ پتھر کے اس تصوراتی خیال پر ہے کہ پارس کے لمس اور چھو جانے سے لوہا سونا بن جاتا ہے۔ سائنس میں کوئی ایسا ثابت شدہ پتھر نہیں ہے مگر لوہے اور پارس کی کہانی اساطیری اور ادبی دنیا میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے حالات کو پڑھنے اور آگے کا نتیجہ نکالنے کیلئے اسی کہانی سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پارس کی نسبت سے پرانے کیمیا گروں کا خیال تھا کہ حیوان ایک پتھر کی شکل میں منقلب ہو چکا ہے۔ گندھک اور پارہ ملا یہ تصوراتی سرخ رنگ کا پتھر لوہے کو سونا بنا سکتا تھا۔ یہ اساطیری کہانی اس قدر مقبولِ عام تھی کہ برطانیہ کے بادشاہ ہنری ششم نے 1455ء میں ایک باقاعدہ کمیشن قائم کیا تاکہ لوہے سے سونا بنا کر سلطنت کا قرضہ ادا کر سکے۔ ظاہر ہے کہ یہ کمیشن تو ناکام ہوا مگر وُہ تصور مشرق و مغرب میں اب بھی عام ہے۔ سنیاسی اب بھی اس پتھر کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں تاکہ وُہ راتوں رات امیر ہو جائیں۔ ادبی اور صوفی روایت میں پارس، طاقت، اختیار اور دولت کا استعارہ ہے جبکہ لوہا، عام یا خام کی علامت ہے۔ لوہا عام لوگوں کا استعارہ ہے مگر جب انہیں پارس چھو جائے تو وُہ سونا بن کر خاص لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔حالات معمول کے مطابق ہوں تو کوئی غور نہیں کرتا کہ کون سا لوہا کون سے پارس سے بارِ خاص حاصل کرچکا ہے مگر غیر معمولی حالات ہوں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔ قیامت کبریٰ برپا ہو گی تو ماں بچے کو نہیں سنبھال سکے گی۔ سیاسی قیامت صغریٰ بپا ہے، تو صفیں ٹوٹ چکی ہیں، حد تو یہ ہے کہ وفاقی کابینہ بھی یک آواز نہیں ہے۔

کچھ لوہے بھاگ کر پارس کی طرف ہو چکے ہیں جبکہ ’’لوہوں کے لوہے‘‘ کا پارٹی اور اصلی موقف ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ۔ پپلیےلوہے گزشتہ 17 سال سے سندھ میں راج کر رہے ہیں، انہیں پارس اس قدر راس آیا کہ وہ خود کو پارس سمجھنے لگے مگر لوہا لوہا ہوتا ہے اور پارس، پارس۔ ضرورت اور ترجیح بدل جائے تو پارس کو لوہا بدلنے میں دیر نہیں لگتی، اسے ہر وقت، ہر طرح کے لوہے دستیاب ہوتے ہیں۔اقتدار اور طاقت کی کرسی وُہ پارس ہے جو بڑے سے بڑےسخت لوہے کو نرم کر دیتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ ماضی کا سنگ توڑ لوہا، خود ہی تڑ مڑ جاتا ہے۔ پپلیے لوہے اب دوراہے پر کھڑے ہیں، ایک طرف پارس کی رعنائی اور چمک ہے اور دوسری طرف نظریات اور سیاست کی قربانی۔ پارس سے لگے رہتےہیں تو چمک اور شان و شوکت برقرار رہے گی لیکن قدموں کے نیچے سے سیاست کی مٹی ہمیشہ کیلئے نکل جائیگی اور اگرپپلیا لوہا سیاست کی مٹی کو پکڑ کر پارس کو چھوڑتا ہے تو اندیشہ ہے کہ لوہے کو پھر سے آگ و خون کے دریاسے گزرنا پڑے گا اوریہ راستہ مشکل ترین ہے۔ اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے، بگل تو بج چکا، اب لوہے کی مفاہمت چلتی نظر نہیں آتی۔

دوسری طرف نونی لوہے کے پردھان نے دو دہائیوں سے پارس کو گلے لگا رکھا ہے۔ بات پارس کے بوس و کنار اور احترام و پیار تک محدود نہیں، اب تو اس نے اسے مرکزِ عقیدت بنا لیا ہے۔ پارس اور نونی لوہا، ایک صفحے کی کہانی سے بڑھ کر سلیبس میں شامل ہو چکے۔ پارس کو نونی لوہے اور نونی لوہے کو پارس سے اس قدر پیار ہے کہ انہیں الگ کرنا مشکل ہے مگر پردھان سیٹی بجنے پر حیران ہے اور ان لوہوں پر ضرور پریشان ہوگا جو ابھی سے اسکی صف توڑ کر پارس سے مَس ہونے کی خواہش میں اپنی گردنیں لمبی کر کے اپنے نام لکھوا رہے ہیں۔ نونی ’’لوہوں کے لوہے‘‘ اور آئرن مین نے ہمیشہ کی طرح چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ صوبے کی تقسیم پر بھی وُہ مہر بہ لب رہتا ہے یا پھر بول پڑتا ہے۔ نونی پردھان تو پارس کی خاطر صوبے کی تقسیم سمیت ہر کام کرنے کو تیار ہے کیونکہ وُہ سمجھتا ہے کہ لوہے اور پارس کا اشتراک ہی پاک سرزمین کو سونا بنا سکتا ہے۔

لو ہے اور پارس کی اس کہانی کو جیل میں بیٹھے انصافی لوہے کے بغیر مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے۔وجہ جو بھی ہے کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ رہی ہے تو جیل میں بیٹھے لوہے کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ، ایک طرف لوہے کو جیل میں بیٹھے روحانی اشارے مل رہے ہیں کہ وُہ اب لوہا نہیں رہا کندن بن چکا ہے جبکہ بیرسٹر گوہر اور انکے ساتھی یہ منطقی اور عملی دلیل دے رہے ہیں کہ پارس کو چھوئے بغیر لوہا بیکار ہے وُہ بس عام سی دھات ہے یا 2018ء میں بھی پارس چھوا تھا تو اقتدار ملا تھا، اب بھی راستہ کھولنے کی ضرورت ہے، سرکاری طوطی اسے سہیل آفریدی کے لائو لشکر کے ہمراہ لاڑکانہ فتح کرنے کی خبر سنانے کو بھی بے چین ہو گا۔انصافی مچھلی بھوک سے بے چین ہے اور دوسری طرف رہائی اور سہولتوں کا چارہ اسے شکار کرنے کو تیار ہے۔ حکومت کے اتحادیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انکی آپس میں لڑائی جہاں انہیں زوال کی طرف لے جا رہی ہے، دوسری طرف فیصلہ کن طاقت انکے ازلی حریف کے ہاتھ میں چلی گئی ہے زوال کا آغاز ایسے ہی ہوتا ہے۔دوسری طرف انصافی لوہے نے بھی یہ طے کرنا ہے کہ وُہ مصلحت اور مصالحت کےمثبت ناموں کے ذریعے کہیں زیر دام نہ آ جائے اور اسکی جیل کی قربانیاں اور تحریک ضائع نہ ہو جائے۔ دوسری طرف پارس کے ہمنوا لوہے چمکتے ہوئے سونے جیسے تو نظر آتے ہیں مگر وُہ کچھ بھی کر لیں خود پارس نہیں بن سکتے۔ لوہا، لوہا ہی رہتا ہے، چمک وقتی ہوتی ہے، اقتدار اور طاقت کا سایہ دائمی نہیں عارضی ہوتا ہے۔ پارس پاس ہو تو ہر ناممکن کو ممکن بنانا آسان لگتا ہے۔ اپنی مرضی منوانا ہو یا لوہے کو موڑنا ہو، بائیں ہاتھ کا کھیل محسوس ہوتا ہے، تاریخ میں کیا کیا نہیں ہوا اور کیا کیا نہیں ہو گا۔ لوہا وہی یاد رکھا جاتا ہے جس نے عوامی مفاد اور عوامی مرضی کو مدنظر رکھا ہو۔ زور زبردستی سے کئی پارس لاشوں کے مینار تعمیر کرتے رہے، کئی نئے نئے نظام لاتے رہے، کئی تقسیم در تقسیم کرتے رہے مگر تاریخ کا ازلی سبق یہ ہے کہ سنہرے لفظوں میں وہی یاد رکھا جاتا ہےجو چیزوں اور خطوں کو جوڑے ، لوگوں کو آسانیاں دے،امن اور خوراک وافر پہنچائے۔

تازہ ترین