بھارتی تاریخ کے سب سے کامیاب اداکار نے 400 ہٹس اور 50 بلاک بسٹرز فلمیں کیں، جو شاہ رخ، امیتابھ بچن اور رجنی کانت کی فلموں کو ملا کر بھی زیادہ ہیں۔
بھارتی فلمی دنیا کے عظیم سپر اسٹارز میں امیتابھ بچن، رجنی کانت، دلیپ کمار، چرنجیوی اور شاہ رخ خان جیسے نام تو اکثر بڑے اسٹارز کے طور پر لیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ ان میں سے کون سب سے بڑا اسٹار ہے؟
اگر کامیابی کی شرح کو معیار بنایا جائے تو دلیپ کمار سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ باکس آفس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مدنظر رکھا جائے تو شاہ رخ خان سبقت لے جاتے ہیں اور اگر ٹکٹوں کی فروخت اور ناظرین کی تعداد کو معیار بنایا جائے تو امیتابھ بچن باقی سب سے کہیں آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔
لیکن کامیاب ترین بھارتی اداکار کا اعزاز ملیالم فلموں کے ہیرو پریم نذیر نے 1952 سے 1986 کے درمیان 720 سے زائد فلموں میں مرکزی رول کرکے حاصل کیا۔
اپنے مداحوں اور چاہنے والوں کی جانب سے نتیہ ہریتا نایاکن (ہمیشہ جوان رہنے والا ہیرو) کہلانے والے پریم نذیر نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ملیالم سنیما پر حکمرانی کی۔ انھوں نے ملیالم فلموں کے اس مثالی ہیرو کی بنیاد رکھی جس کے نقش قدم پر آج بھی بہت سے اداکار چلتے ہیں۔
50 کی دہائی کے اوائل سے 80 کی دہائی کے آخر تک اپنے کیریئر میں انہوں نے تقریباً 1000 فلموں میں کام کیا، جن میں 700 سے زائد فلمیں بطور مرکزی ہیرو تھیں۔ ان کی غیر معمولی رفتار اور مسلسل کام کرنے کی صلاحیت نے انہیں کئی دہائیوں تک ایک کے بعد ایک کامیاب فلم دینے کا موقع دیا۔
فلم انڈسٹری کے مطابق پریم نذیر نے اپنے کیریئر میں 400 سے زائد ہٹ فلمیں جن میں کم از کم 50 فلمیں بلاک بسٹر قرار دی گئیں۔ اس اعداد و شمار کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندی سنیما کے سب سے بڑے سپر اسٹارز میں شمار ہونے والے امیتابھ بچن اس حوالے سے بہت پیچھے ہیں۔ ان کی 60 ہٹس ہیں، جن میں 11 بلاک بسٹرز شامل ہیں۔
رجنی کانت بھی تقریباً اسی سطح پر ہیں، جدید دور کے بالی ووڈ اسٹارز میں بھی کوئی پریم نذیر کے قریب نہیں پہنچتا۔ اکشے، شاہ رخ اور سلمان خان تینوں کی کامیاب فلموں کی تعداد تقریباً 35 سے 38 کے درمیان ہے۔ سلمان کے نام 15 بلاک بسٹرز ہیں، جو کسی ہندی فلم ہیرو کے لیے سب سے زیادہ تعداد ہے۔
پریم نذیر جنکا اصل نام عبدالقادر تھا 1929 میں پیدا ہوئے، اپنے فنی سفر کا آغاز تھیٹر سے کیا، جہاں 1951 میں انہوں نے شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے دی مرچنٹ آف وینس میں شائلک کا کردار ادا کیا۔ اگلے ہی سال انہوں نے فلموں کا رخ کیا اور ابتدا میں اپنے اصل نام سے ہی کام کیا۔ 1950 کی دہائی کے آخر تک وہ ایک معروف اسٹار بن چکے تھے۔ 1970 کی دہائی ان کے کیریئر کا سب سے زیادہ مصروف دور تھا۔ وہ بیک وقت 3 سے 4 فلموں کی شوٹنگ کیا کرتے تھے اور ہر فلم کو چند ہی ہفتوں میں مکمل کر لیتے تھے۔
1979 میں انہوں نے ایک سال میں سب سے زیادہ فلموں میں اداکاری کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ 80 کی دہائی تک پریم نذیر کا اسٹارڈم کم ہونا شروع ہو گیا۔ وہ 50 برس ہو چکے تھے۔ انھوں نے معاون کرداروں کی طرف رخ کیا۔
1988 میں انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک ایسی فلم کی ہدایت کاری کریں جس میں ملیالم سنیما کے اس وقت کے دو نئے بڑے ستارے موہن لال اور مموٹی مرکزی کرداروں میں ہوں۔ لیکن موت نے انھیں مہلت نہ دی اور 16 جنوری 1989 کو طویل علالت کے بعد ان کا 59 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔