وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کچھ قومی معاشی حقیقتوں سے انکار نہیں ہوسکتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی پر اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے وفد سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تجاویز مختلف وزارتوں سے متعلق ہیں، ان سے رائے لی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قابل عمل تجاویز کا خیر مقدم اور ناقابل عمل تجاویز پر وضاحت کرے گی، کچھ قومی معاشی حقیقتوں سے انکار نہیں ہوسکتا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پالیسی ریٹ حکومت نہیں اسٹیٹ بینک طے کرتا ہے، تجاویز پر متعلقہ اداروں سے رائے لے کر تین روز میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہوگا۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ لاہور میں طے پایا تھا کہ اسلام آباد میں پیٹرولیم لیوی پر تفصیلی بات چیت ہوگی، ہم سب کو عوام کا مفاد عزیز ہے، حکومت عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی بھی طرح ریلیف مل سکے تو ہمیں خود بہت خوشی ہوگی، امریکا ایران تعلقات بہتر ہونے پر پیٹرول قیمتوں میں کمی آئی، کشیدگی پر مجبوراً قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خواہش ہے کہ معاشی بحالی سے عوام کو ریلیف ملے، جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی سے متعلق ورکنگ کا جائزہ لینے کے لیے آج کا اجلاس ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سےتجاویز مانگی ہیں، کوئی حکومت نہیں چاہتی ملک میں احتجاج ہو، بعض دفعہ حکومت کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جمعرات کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔
اس موقع پر سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بڑا پن ہے کہ ہر ایشو پر مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا۔
دوران گفتگو نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ خوشی ہے ن لیگ حکومت نے مذاکرات کو ترجیح دی، احتجاج حل نہیں، مذاکرات ہی آخری راستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے، حکومت کو جماعت اسلامی کی تجاویز دے دی گئی ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے چھ تجاویز رکھی ہیں، حکومت ہماری تجاویز کا جائزہ لے گی، حکومت نے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول لیوی حکومت نے بجٹ ٹارگٹ سے زیادہ وصول کرلی ہے، جانتے ہیں آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہیں، بہت سے فیصلے حکومت کی مجبوری ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، جماعت اسلامی احتجاج ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔
جماعت اسلامی کے صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک کے 10 شہروں میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے جاری ہیں۔