بادشاہ چارلس نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ واپسی کے بعد بھی شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل بدستور غیرفعال شاہی ارکان رہیں گے۔
بادشاہ چارلس کی جانب سے سینئر شاہی نمائندوں، حکومت اور فوجی افسروں کو غیرمعمولی طور پر خط جاری کیا گیا ہے جس میں ہیری اور میگھن کی اصل حیثیت کی یاد دہانی کرادی گئی ہے۔
بادشاہ کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس ’فعال شاہی ارکان‘ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس خط کا مقصد حالیہ دنوں امریکا سے برطانیہ واپس آنے والے شہزادہ ہیری اور میگھن کی حیثیت کو واضح کرنا ہے۔
شاہی محل کی جانب سے جاری کردہ خط کے مطابق یہ جوڑا اب ہز اور ہر رائل ہائینس کے القاب استعمال کرنے کے اہل نہیں ہوگا اور وہ نجی شہری بن کر رہیں گے۔
اس خط میں واضح کیا گیا ہے کہ سسیکس جوڑے کی جانب سے انجام دی جانے والی کوئی بھی مصروفیات نجی حیثیت میں ہوں گی اور وہ شاہی خاندان کی نمائندگی نہیں کریں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ہیری اور میگھن بڑے ارمانوں کے ساتھ امریکا سے اچانک برطانیہ واپس لوٹے ہیں، وہ عوامی سطح پر ایسی تقریبات میں شرکت کے خواہش مند ہیں جہاں میڈیا بھی مدعو ہو۔
ہیری یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں پُرکشش کمرشل مواقع ملیں اور محدود سرکاری فرائض بھی انجام دیں، تاہم اس ماڈل کو برطانیہ کی آنجہانی ملکہ الزبتھ جو شہزادہ ہیری کی دادی تھیں، انہوں نے 2020 ہی میں مسترد کردیا تھا۔
ملکہ الزبتھ کے اس فیصلے پر ہیری اور میگھن نہ صرف شاہی زندگی بلکہ برطانیہ چھوڑ کر امریکا منتقل ہوگئے تھے اور شاہی گھرانے پر کھلے عام تنقید شروع کردی تھی، یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ برطانیہ میں محفوظ نہیں۔
اب اہم شخصیات کو خط میں بادشاہ چارلس نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کی جانب سے پوتے ہیری اور اسکی اہلیہ میگھن پر عائد پابندیوں پر پوری طرح عمل چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ بادشاہ کی جانب سے یہ خط ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب پیر ہی کو شہزادہ ہیری نے عوامی سطح پر پہلی تقریب میں شرکت کی تھی۔
لندن کے ٹاور بریج اسٹوڈیو میں انہیں مسکراتے ہوئے اور ایک میورل پر سائن کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور میگھن نے اپنے پالتو کتے کے ساتھ تصویر بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی تھی۔
برطانیہ لوٹنے کے بعد ہیری اور میگھن کی یہ پہلی تصاویر میڈیا پر آئی تھیں۔