• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجابی رہتل(Way of life)کی جڑیں ہزاروں سال پرانی تہذیب وثقافت میں جڑی ہوئی ہیں پنجاب کی عام زندگی میں منجی (چارپائی) کی بڑی اہمیت تھی اس لئے منجی کو کئی محاوروں اور استعاروں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے منجی کے حوالے سے سب سے مشہور فقرہ’’ منجی کتھے ڈاہواں‘‘ فلم جی دار میں احمد رشدی کے گیت کا مزاحیہ فقرہ تھا، ’’ ہاں اوئے، میں منجی کتھے ڈاہواں‘‘ بعد ازاں1974ء میں پاکستان میں ایک پنجابی مزاحیہ فلم’’ منجی کتھے ڈاہواں‘‘ کے نام سے بھی بنی اسکی کاسٹ میںمنور ظریف، رنگیلا، سنگیتا، صاعقہ اور عشرت چودھری شامل تھیں۔ رہتل میں چونکہ ثقافت، سوچ فکر اور روزمرہ کے تجربات شامل ہوتے ہیں اس لئے ان پنجاجی فقروں،محاوروں اور گیتوں میں بہت سے معانی چھپے ہوتے ہیں یہ فقرے اہم تو ہوتے ہی ہیں مگر کسی فقرے کی اہمیت مخصوص حالات میں کبھی زیادہ اور کبھی کم ہوتی رہتی ہے ۔آئیے بدلتے ہوئے حالات کومنجی سے جڑے فقروں اور محاوروں سے سمجھنے کی کوشش کریں۔

تازہ حالات میں زبان زدعام (زبان چڑھیا/(buzzwordمحاورے’’ منجی تھلے ڈانگ پھیرنا‘‘ اور منجی ٹھوک دینا‘‘ ہیں سیاست میں سب سے برا حال آج کے اہل اقتدار کا ہے آئے دن ان کی ’’ منجی ٹھوکی‘‘ جارہی ہے مگروہ اتنے بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں کہ ’’ ٹھوکے‘‘ جانے کے باوجود اونچی آواز میں رو بھی نہیں پارہے صاف لگ رہا ہے کہ وہ اپنے آنسو چھپا رہے ہیں عام رواج تو یہی ہے کہ صرف اپوزیشن کی منجی ٹھکتی ہےجبکہ اہل اقتدار محفوظ ومامون آرام دہ منجیوں پر براجمان رہتے ہیں مگر اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہےاور اس میں اگر اپنوں کی بھی ’’ منجی ٹھک‘‘ رہی ہے تو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ اہل حکم، دباؤ اور احساسات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اپنا یا پرایااوراتحادی یا مخالف،اہم نہیں ہوتے ایجنڈا اہم ہوتا ہے اس میںکسی کی ’’منجی چکی جائے‘‘ یا’’ منجی بسترا گول ہوجائے‘‘ انہیں اس سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ اسکی پروا ۔ اسی لئے تو وہ اہل حکم ہوتے ہیں اور باقی سب اہل ظلم۔

پنجابی رہتل میں منجی کے ساتھ ’’ڈانگ‘‘ اور سوٹا‘‘ بھی بڑے بامعنی الفاظ ہیں ڈانگ اور سوٹا دونوں کا مطلب ڈنڈا ہے ڈانگ البتہ سوٹے سے بڑی اور لمبی ہوتی ہے پنجابی کا مشہور محاورہ ہے ’’جیدھی ڈانگ اوہدی مَجھ’’ یعنی جس کے پاس ڈنڈا ہے بھینس بھی اسکی ہے اردو میں یہی محاورہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس کے حوالے سے مشہور ومعروف ہے۔ اس وقت صوبے بنانے کی جو سیاست ہورہی ہے اس میں ڈانگ سوٹا چلے گا مگر اہل حکم کو اہل ظلم کے اس خدشے کی پروا نہیں۔ اہل حکم کے ایک پرستار نے کہا نظام کی بہتری کیلئے سوپچاس جانوں کی قربانی کوئی بڑی تو نہیں ہوتی۔ لگ تو یوں رہا ہے کہ ’’ڈانگ چک لئی گئی اے‘‘(لڑائی کی تیاری ہے) اور ڈانگ سے ہی سب کو سیدھا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے دوسری طرف اہل ظلم ’’ڈانگیں کھانے‘‘ کیلئے بھی تیار بیٹھے ہیں گو حکومتی منجی کے مستقبل کا حال اچھا نظر نہیں آرہا۔

پنجاب کی شہری اور اشرافیہ کی زندگی میں اب منجی کا کردار کم ہوگیا ہے کیونکہ بیڈروم میں تو بیڈ ہوتے ہیں یا امراء پلنگ استعمال کرتے ہیں۔عام آدمی کی زندگی میں پہلے بھی منجی اہم تھی اور دیہاتی زندگی میں یہ آج بھی اہم ترین ہے خدا کی مخلوق انسان بیمار ہوتے ہیں اور انسان کی تخلیق’’ منجی‘‘ کئی بار خراب بھی ہوجاتی ہے، جس طرح انسان کو نزلہ اور زکام لگتا ہے تو گولی کھاکریا جوشاندہ پی کر آرام آجاتا ہے اسی طرح اکثر منجی کی ’’دوائن‘‘ ڈھیلی ہوجاتی ہے اور اسے کسا جائے تو منجی پھر سے ’’ صحت یاب‘‘ ہوجاتی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ نظام کی صرف دوائن ڈھیلی ہے اسے بااختیاربلدیاتی اداروں سے کسا جائے گا تو نظام دوڑنے لگ جائے گا مگر اعلان ہوا کہ نظام ڈھیلا نہیں بلکہ’’ ڈھے‘‘ چکا ہے منجی شدید بیمار یا خراب ہوتو اسے پنجابی میں ’’کانڑ‘‘ یا ٹیڑھا پن کہتے اگر منجی بارش میں بھیگ جائے تو وہ آڑی اور ترچھی ہوجاتی ہے اس کا طریقہ علاج یہ ہوتا ہے کہ منجی یا چارپائی پر بھاری وزن ڈال کر اسے سیدھا کیا جاتا ہے لیکن وزن کو اگر منجی سے فوراً اٹھالیا جائے تو منجی میں پھر سے کانڑ پڑجاتا ہے لیکن اگر وزن برقرار رکھاجائے تو منجی پھر سے درست اور پرانی حالت میں بحال ہوجاتی ہے بڑی سیاسی جماعتوں کے اکابر کا خیال تھا کہ نظام کی منجی میں کانڑ ہے یعنی اداروں کے اختیارات میں عدم توازن سے منجی آڑھی ترچھی ہے اگر کچھ سال اس پر جمہوری اور سیاسی وزن برقرار رکھا گیا تو نظام کی منجی پھر سے درست حالت میں بحال ہوسکتی ہے مگر ان کا یہ خیال غلط نکلا جب انکشاف ہوا کہ وزیر اعظم کی18گھنٹے محنت کے باوجود نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا تو یہ وہم رفع ہوگیا کہ منجی میں کانڑ ہے کیونکہ کانڑ تو قابل اصلاح ہے۔’’ منجی ٹوٹنے‘‘ سے پہلے بیماری کی جو علامت ظاہر ہوتی ہے اس بیماری کو منجی کی’’ چولیں ‘‘ہلنا کہتے ہیں یعنی چارپائی کے جوڑ کمزور ہونے سے اسکا ڈھانچہ کمزور ہوجائے اس پر بیٹھنے سے جب اس کے اندر سے آوازیں آئیں اور کئی بار ایسا لگے کہ منجی کے بائیاں پایا وے( بازو اور پائے) ٹوٹنے لگےہیں، اہل حکم کو لگتا ہے کہ چارپائی یا منجی کی چولیں ہل چکی ہیں اس لئے تو نظام کے ترکھان اور بڑھئی رندہ اور آری لیکرنظام کے اندر موجود بازو اور پاوے بھی کاٹنے کے درپے ہیں۔

منجی یا چارپائی کی ساخت کا ہرجزواہم ہے پائے کی اپنی اہمیت ہے بازو کی اپنی اور چولوں کی اپنی۔ مگر سب سے اہم ترین’’ بان‘‘ہوتا ہے جس سے چارپائی کی بُنائی ہوتی ہے اس پر بیٹھنا اسکی وجہ سے ہی ممکن ہوتا ہے بان اور بنائی نہ ہوتو چارپائی صرف ایک ڈھانچہ ہوتی ہے بان ہی اس ڈھانچے کا گوشت پوست ہے۔نظام کی منجی یا چارپائی میں بان دراصل عوام یا اہل ظلم ہیں جن کا نام تو بہت استعمال ہوتا ہے مگر انہیں صرف استعمال کیا جاتا ہےانکی ضرورت اور استعمال کا کسی کو خیال تک نہیں حد تو یہ ہورہی ہے کہ2024ء کو اپنے ہی کروائے گئے انتخابات کے ماتحت بنا ئی گئی اسمبلیوں کے ذریعے صوبوں پر قانون سازی کو رد کرکے ریفرنڈم کروانے کا سوچا جارہا ہے گویا یہ اسمبلیاں عوام کی نمائندہ نہیں ہیں اورصرف ریفرنڈم کے ذریعے ہی عوامی رائے کا پتہ چل سکتا ہے۔ اگر واقعی یہ اصول کارفرما ہے تو ہر آئینی ترمیم پر پہلے ریفرنڈم کروایا جائے پھر بعد میں اسےاسمبلیوں سے منظور کروایا جائے۔ منجی یا کھاٹ سیدھی بڑی ہو تو اچھی لگتی ہے جس طرح آئین، قانون اور مسلمہ اصول وضوابط سے ہٹ کر بات کی جارہی ہے مجھے اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ نظام کی چولیں ٹھیک کرتے کرتے ناتجربہ کاربڑھئی کھاٹ(منجی) ہی نہ الٹا دیں۔ جس طرح اتائی ڈاکٹر سے آپریشن کروانا خطرناک ہوتا ہے اسی طرح سیاست کے اتائیوں سے نظام کی منجی ٹھیک کروانا دانش مندی نہیں۔ ’منجی‘ گھر والوں کی مرضی سے بان کی رضامندی، بائیوں کی حمایت سے اور چارپایوں کی مدد سے مرمت کی جائے گی تو کھاٹ (منجی) یا نظام کھڑا رہے گا عوام اور خواص دونوں اسی سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اگر کھاٹ ہی اوندھی ہوگئی توسب سے زیادہ گھاٹے میں اہل حکم ہی رہیں گے۔

تازہ ترین