نئے صوبوں کی تشکیل میں اتنی بے چینی کیوں ؟ قوم پرستی کی اجتماعی آرزو کوسمجھنے میں غلطی کی جائے تو نتیجہ بھیانک ہوتا ہے ۔ ایک عام سول یا فوجی افسر تو کجا، تحریک پاکستان کے نادرِ روزگار لیڈر نے جب بنگالی قوم پرستی کو سمجھنے میں غلطی کی تونتیجہ کیا نکلا۔دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے زخم آلود انگریز کو برصغیر سے بہرحال واپس جانا تھا۔ نقشہ ان کے ذہن میں یہی تھا کہ اقتدار برہمن کے سپرد کر دیا جائے ۔
آج تک بھارتیوں کو اس بات کا غم ہے کہ مسلمان اقلیت ان پہ حکومت کرتی رہی۔
انگریز سرکار کو اکھنڈ بھارت کے منصوبے پہ کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ وہ اس کی سرپرست تھی ۔ مسلمانوں کے اندر خان عبد الغفار خان جیسے لیڈر موجود تھے ، جو پاکستان کی تخلیق کے مخالف تھے ۔۔ مذہبی رہنمائوں میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی ، عطا اللہ شاہ بخاری جیسے لوگ قائدِ اعظم کے مخالف تھے ۔ محمد علی جناح نے انگریز اور برہمن ہی نہیں ، ان تمام مسلمان لیڈروں کوبھی شکستِ فاش سے دوچار کیا ۔ساری زندگی آپ نے ماسٹر اسٹروکس کھیلے۔ آخری برس وہ تباہ شدہ صحت کے ساتھ قومی ادارے تخلیق کرتے رہے۔
قائدِ اعظم مگر ایک انسان تھے ۔بنگال میں بنگالی کورائج کرنے کی شدید خواہش پائی جاتی تھی ۔ 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ ریس کورس گرائونڈ میں خطاب کرتے ہوئے قائدِ اعظم نے یہ کہا : میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ پاکستان کی ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی ۔اس کی مخالفت کرنے والوں کو انہوں نے پاکستان کا دشمن قرار دیا۔
بنگال میں قوم پرستی کے جذبات شدید تھے۔ انہیں شکایت تھی کہ دوسری قومیں انہیں کمتر سمجھتی اور انکے رنگ ، قد اور زبان کا مذاق اڑاتی ہیں ۔ قائدِ اعظم کی سحر انگیز شخصیت کے سامنے تو وہ خاموش ہو رہے لیکن بعد میں آنیوالوں کے طرزِ عمل سے یہ زخم بگڑ کر ناسور بن گئے ۔نتیجہ 1971ء میں سامنے آیا۔
آج میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ ون یونٹ سمیت اس ملک پہ کون کون سا تجربہ نہیں ہوا۔ جنرل مشرف کے دور میں بلدیاتی حکومتوں کا تجربہ ہوا۔ 70ء کے نتائج ماننے اور فاتح شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا گیا ۔ بار بار مارشل لا نافذ ہوتے رہے ۔ ضیاء الحق نے مذہب کو فروغ دیا۔ پرویز مشرف نے روشن خیالی کا چراغ جلایا ۔ جمہوری حکومتوں کو ریموٹ سے چلایا گیا۔ انتخابات میں دھاندلی کی جاتی رہی ۔ اسلامی جمہوری اتحاد جیسے تجربے کیے گئے ۔الطاف حسین جیسے عفریت بنائے اور مٹائے گئے ۔ملک کو کیا حاصل ہوا؟
نئے صوبوں کے مشن میں محسن نقوی ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ذمہ داریاں ان پر بہت ہیں ۔ کرکٹ کی صورتِ حال آپ کے سامنے ہے ۔ وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے ان کا یہ جملہ بار بار دہرایا گیا : یہ دہشت گرد توایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔
پچھلے 79سال میں اس ملک پہ جو جو تجربے کیے گئے ، ان سب سے کیا حاصل ہوا؟ آج ملک 99.5ٹرلین روپے کا مقروض ہے ۔ زرِ مبادلہ ادھار لے کر ہم نادہندگی سے بچتے پھر رہے ہیں ۔ ملک سیاسی طور پر حالتِ جنگ میں ہے ۔ اہم قومی لیڈر جیل میں ہیں ۔ صوبے آپس میں گتھم گتھا ہیں ۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ انہیں بھارت کی نسبت ہمسایہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے ، جہاں سے دہشت گرد پنجاب کا رخ کرتے ہیں۔ کبھی وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے طالبان سے درخواست کی تھی کہ پنجاب پر حملے نہ کریں ۔ بلوچستان اور پختون خوا جل رہے ہیں ۔ ایسے میں چھوٹے صوبوں کی آہ و بکا نظر انداز کرتے ہوئے نئے صوبوں کی آرزو ؟
ایسی بھی کیا جلدی پیارے، جانے ملیں پھریا نہ ملیں ہم
کون کہے گا پھر یہ فسانہ ،بیٹھ بھی جائوسن لو کوئی دم
حکومت اپنی داخلی خرابی کو خارج میں تلاش کر رہی ہے ۔ معاشی طور پر حکومت ناکام ہوچکی ۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپریل میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کی حکومت میں 100ارب ڈالر ملک سے فرار ہو چکے ۔صاف ظاہر ہے کہ ساڑھے تین سو روپے لیٹر پیٹرول پر بھی معیشت بمشکل گھسٹ رہی ہے ۔ شدید برین ڈرین ہورہاہے ۔ ان ساری خرابیوں کی توجیہہ حکومت یہ پیش کر رہی ہے کہ 79برس پہلے اس ملک میں جو نظام قائم کیا گیا، وہ نظام ہی غلط تھاتو ہم کیسے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کریں ؟ ناچ نہ جانے ، آنگن ٹیڑھا۔
آپریشن تھیٹر میں لیٹے ہوئے مریض پہ جھکا ہوا سرجن زیرِ لب بار بار کہہ رہا تھا : بشیر یہ تو صرف ایک چھوٹا سا آپریشن ہے ۔ تم اس میں سے گزر جائو گے ۔بشیر تم اس میں سے گزر جائو گے۔ مریض نے کہا : میرا نام بشیر نہیں ساجد ہے ۔ سرجن نے کہا: جانتا ہوں ۔ بشیر دراصل میرا نام ہے ۔
مرض کی تشخیص ہی اگر غلط ہو تو علاج ٹھیک کیسے ہو ۔ مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ ساز اب اتنا آگےبڑھ چکے کہ بظاہر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ۔ واپسی کا راستہ مگر ہمیشہ موجود ہوتاہے ۔یہ راستہ عقل کھولتی ہے ۔ سب فریق ایک دوسرے کو گارنٹی دیں ۔ یہ راستہ بات چیت سے کھل سکتا ہے ۔ بنیاد اگر ٹیڑھی ہو تو عمارت جتنی مرضی اونچی ہوتی جائے ، ایک دن گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا پڑتی ہے ۔ شیخ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش نے معاشی ترقی بھی کی تو نفرت کے طوفان نے بالآخر سب ملیا میٹ کر دیا۔ حسینہ واجد کا اقتدار نصف النہار پہ تھا، جب میں نے لکھا تھا کہ جو کھیل وہ کھیل رہی ہے ، اس کا انجام اگر اسکے قتل پر منتج ہو تو مجھے کوئی حیرت نہ ہوگی ۔ قتل ہونے سے تو بچ گئی مگر اب پردیس میں رسوائی کی زندگی گزار رہی ہے۔
اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ملک کو شفاف الیکشن درکار ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کو معاف کرنا اور راستہ دینا ہوگا وگرنہ پانی میں جتنی مرضی مدھانی ماری جائے، مکھن نہیں نکلنے کا۔ آئن اسٹائن نے کہا تھا: پاگل پن یہ ہے کہ ایک ہی تجربہ بار بار دہرا کر مختلف نتائج کی امید رکھی جائے ۔ ہمارا کام تھا سمجھانا۔ اگے تیرے بھاگ لچھیے!