چین نے ایران کے خلاف امریکی حمایت یافتہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی قرارداد کی مخالفت کر دی۔
چین نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی اور دباؤ سے کشیدگی مزید بڑھے گی، بیجنگ نے معاملے کے حل کے لیے مذاکرات کی جانب واپسی پر زور دیا ہے۔
عالمی جوہری ادارے میں چینی مستقل نمائندے لی سونگ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف گورنرز میں سیاسی محاذ آرائی سے ایرانی جوہری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، جبکہ قراردادوں کو زبردستی منظور کرانے سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور معاملے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے سے بھی کوئی راستہ نہیں نکلے گا۔
انہوں نے زور دیا ہے کہ ایرانی جوہری معاملے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
لی سونگ نے نشاندہی کی ہے کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ثالثی کی کوششوں کا اہم نتیجہ تھی، اب جب کہ مذاکرات کا دروازہ کھل چکا ہے، اسے بند نہیں کیا جانا چاہیے، جب تک امن کی امید موجود ہے، اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے آئی اے ای اے کی نگرانی میں آنے والی ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر 2 مرتبہ فوجی حملے کیے، جو ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کی معمول پر واپسی میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔
چینی نمائندے نے کہا ہے کہ چین ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنرز نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمے داریوں کی خلاف ورزی پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کیا جائے گا۔
دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ بورڈ نے ایران کے خلاف اس نوعیت کا قدم اٹھایا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ اقدام ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری سفارتی تعطل میں مزید اضافے کی علامت ہے۔