فلسطینی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسرائیلی جیلوں میں تشدد، تذلیل، ناقص طبی سہولتوں اور غیر انسانی حالات میں اضافے سے متعلق سنگین انکشافات کیے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اور جیلوں کے نظام کے نگراں اتمار بن گویر کو بعض ویڈیوز میں جیلوں میں قیدیوں پر کی جانے والی سختیوں کو اپنی پالیسی کی کامیابی قرار دیتے دکھایا گیا ہے۔
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ اور سابق قیدی معاذ عمارنہ نے بتایا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو تشدد اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا بڑا حصہ کیمروں سے چھپا رہتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق معاذ عمارنہ کو غزہ جنگ کے بعد 2 مرتبہ انتظامی حراست میں لیا گیا اور بغیر کسی فردِ جرم کے مجموعی طور پر 17 ماہ قید میں رکھا گیا۔
معاذ عمارنہ کا کہنا ہے کہ قید کے دوران میرا وزن 35 کلو گرام تک کم ہو گیا۔
فلسطینی قیدیوں کی تنظیم اڈامیر کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 3 ہزار 200 قیدی موجود ہیں جبکہ 7 اکتوبر 2023ء سے قبل یہ تعداد تقریباً 1 ہزار 300 تھی۔
اڈامیر کی وکیل سحر فرانسس کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد حالات مزید خراب ہوئے، اہلِ خانہ کی ملاقاتیں اور ریڈ کراس کی رسائی معطل ہوئی، ابتدائی 4 سے 5 ماہ تک وکلاء کو رسائی نہیں دی گئی، خوراک، کپڑے اور کتابیں ضبط کی گئیں جبکہ جیلوں میں روزانہ چھاپوں اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
معاذ عمارنہ نے بتایا ہے کہ مجھے 6 ماہ تک چشمے سے محروم رکھا گیا، طبی علاج میں شدید غفلت برتی گئی اور ٹانگ کے انفیکشن کے باعث میں جزوی طور پر مفلوج ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ میری مصنوعی آنکھ کا پیوند متاثر ہونے کے باوجود مجھے اسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جیل میں موجود گارڈز فلسطینی قیدیوں کو جانور کہتے اور قتل کی دھمکیاں دیتے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ (United Nations Working Group on Arbitrary Detention) نے 2024ء میں معاذ عمارنہ کی پہلی حراست کو غیر قانونی اور امتیازی قرار دیا تھا۔
سحر فرانسس کے مطابق بن گویر کے اپنے بیانات جن میں وہ جیلوں کے حالات کی براہِ راست ذمے داری قبول کرتے ہیں، مستقبل میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں ممکنہ کارروائی کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق بن گویر، اسرائیلی قومی سلامتی کی وزارت اور اسرائیلی فوج سے فلسطینی قیدیوں کی جانب سے کیے گئے انکشافات پر جب مؤقف مانگا تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رہائی کے بعد معاذ عمارنہ کو دوبارہ گرفتاری کی دھمکیاں دی گئیں۔
معاذ عمارنہ کا کہنا ہے کہ میں اب بھی خوف اور شدید ذہنی دباؤ میں زندگی گزار رہا ہوں۔