2026 کی پہلی ششماہی میں یورپی ممالک کو بین الاقوامی تحفظ کے لیے 332,000 درخواستیں موصول ہوئیں، جو 2025 کی اسی مدت کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہیں۔ یہ 2021 کے بعد سے کسی بھی سال کی پہلی ششماہی میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم تعداد ہے۔
یہ بات یورپی یونین کی ایجنسی برائے اسائلم کی تازہ ترین رپورٹ میں بتائی گئی۔ پناہ کے حصول کے تازہ ترین رجحانات کا '2026 کا سال کے وسط میں جائزہ' کے عنوان سے شائع شدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال کی پہلی ششماہی میں، ای یو پلس ممالک کو پناہ کی تقریباً 332,000 درخواستیں موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 17 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمی کا یہ تازہ ترین رجحان 2024 کے اواخر سے جاری سلسلے کا حصہ ہے۔ یہ رجحان درخواست دہندگان کی قومیتوں کے بدلتے ہوئے امتزاج (جس کی وجہ شام میں نازک مگر جاری سیاسی تبدیلی) اور ساتھ ہی یورپی یونین کی جانب سے آبائی اور راہداری والے ممالک کے ساتھ تعاون کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور لڑائی میں اضافے کے باوجود ای یو پلس میں پناہ کی درخواستوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان شہریوں کی جانب سے پہلی ششماہی میں 39000 درخواستیں جمع کرائی گئیں جن میں سال بہ سال 7 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2025 کے اواخر میں ان درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا جس کی بڑی وجہ ای یو پلس میں پہلے سے موجود افغان خواتین کی جانب سے بار بار جمع کرائی جانے والی درخواستیں تھیں۔
وینزویلا کے شہریوں کی درخواستوں کی تعداد 33,000 رہی۔ ان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی، ان میں سے 93 فیصد درخواستیں اسپین میں جمع کرائی گئیں۔ 2,000 بنگلا دیشی شہری بھی پناہ کے خواہشمند سرفہرست ممالک کے شہریوں میں شامل رہے، ان کی درخواستوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔
سب سے زیادہ درخواستیں (69,000) فرانس کو موصول ہوئیں جو کل درخواستوں کا پانچواں حصہ تھیں۔ اس کے بعد اٹلی (66,000)، اسپین (55,000) اور جرمنی (55,000) کا نمبر رہا۔ مجموعی طور پر ان چار ممالک کو پناہ کی تقریباً تین چوتھائی درخواستیں موصول ہوئیں۔
فی کس درخواستوں کے اعتبار سے یونان (23,000) سرفہرست رہا، جہاں تقریباً ہر 400 رہائشیوں کے مقابلے میں ایک درخواست موصول ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی مرحلے کے فیصلوں میں سے ایک تہائی سے بھی کم کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ جبکہ سال 2026 کی پہلی ششماہی میں ای یو پلس میں تسلیم کیے جانے کی شرح 31 فیصد رہی۔ جس کا مطلب ہے کہ ابتدائی مرحلے کے فیصلوں میں سے ایک تہائی سے بھی کم کے نتیجے میں بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا گیا۔