کچھ دن تک ستھرا پنجاب کا بہت غلغلہ رہا۔ ٹی وی پر بھی گلیاں دھوتے اور کوڑا صاف کرتے دکھایا گیا،پھر چاندنی راتوں کو گہن لگ گیا۔ وجہ تھی کہ مقامی سطح پرجو اسٹاف رکھا گیا، وہ ویسا ہی کرنے لگا، جیسا کہ سارے شہروں کے خاکروب کرتے ہیں۔ اسکا ایک سبب نہیں۔ اول تو ہمیں ،خاص کر پنجابیوں کو عادت ہےکہ گھر صبح صبح دھولیں۔ پھر نالی،گلی اور محلے میں غلاظتوں کو اٹھانا، ہماری عادتوں میں شامل نہیں۔ بچے اور بڑے ان سب میں گلی محلہ صاف رکھنے کا شوق اور ذمہ داری نہیں سمجھی جاتی۔
میرا بیٹا اسپین میں ہے اسکا پالتو چھوٹا سا کتا مرگیا ۔ہم ہوتے تو جھٹ گلی میں پھینک دیتے۔ وہاں پر لوکل گورنمنٹ کو اطلاع کی جاتی ہے اور دوگھنٹے کے اندر اندر وہ گاڑی آکراٹھا لےجاتی ہے ہمارے یہاں منٹو کا کتا یاد آجاتا ہے۔
ہمارے ملک میں سوائے سندھ کے، مقامی بلدیاتی الیکشن نہیں ہوتے ہیں ۔ ہمار ے ہاں مسجد کے پاس بھی پڑے کوڑے کو پھلانگ کر چلے جائینگے۔ ہائی وے پر بھی بچہ یا کوئی اور برگر کھا کر گند فوراً باہر پھینک دیتاہے۔ چلیں اب یہ وزیر داخلہ اسلام آباد یونٹ الگ بنانے لگے ہیں ،مغرب میں تو باقاعدہ منتخب لوگ لندن کے صادق خان اور نیویارک کے ممدانی کی طرح خود اور عوام کو اپنے ساتھ ملا کر کام کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ کوضد چڑھی ہے کہ میں نے اسلام آباد میں اس طرح کا میئر لانا ہے اور اسلام آباد یونٹ بنانا ہے ویسے تو شہر میں میئر کی پوسٹ الگ تھی اور سی۔ڈی۔ اے کی الگ۔
موقع ملتے ہی سی ڈی اے کارکنوں نے کاغذوں پرچالاکی سے میئر کی پوسٹ ختم کرادی اور اب کوئی دس سال سے میئر سی ڈی اے کی اسلام آباد پرحکومت ہے۔ وزیر داخلہ جب تک لاہور میںرہے تو جتنے انڈر پاس، پل، اسٹیڈیم اوردیگر تعمیرات تھیں، پہلے وہ شہباز صاحب کی نگرانی میں بنتی تھیں اور جب محسن صاحب آگئے تو وہ سب کچھ چلاتے چلاتے اسلام آباد میں براجمان ہوئے۔ اب یہاں بھی پل اور انڈر پاس بنالیے ہیں اور سیاست کے بھس میں آگ لگادی ہے۔ نہ کہنے والے تو پیدا ہی نہیں ہوئے۔ویسے آج پھر پیڑول چھلانگ مارکر ، ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔
گرچہ سندھ میں بلدیاتی مراکز ہیں مگرایسے کہ وہاں بارش کی ایک چھینٹ بھی پڑ جائے تو سڑکوں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے۔لاہور میں اپنی دوٹرم میں شہباز صاحب بھی لکشمی چوک میں کھڑے پانی میں غصے میں آکر متعلقہ افسر کو پانی میں ڈبکی لگوادیتے تھے۔ پانی تواب بھی لکشمی چوک میں کھڑا ہوتا ہے، بی بی مریم، فوراً مداوے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ خودکام کرکے خوش ہوتی ہیں۔ اسلئے بلدیاتی الیکشن کا نام تک نہیں سن سکتیں۔ جبکہ کراچی میں سڑکیں، نالے سب کچھ خراب ہے۔مگر مرتضیٰ وہاب تقریریں زیادہ کرتے ہیں۔
کام کرنا تو ٹھیکیدار جانے، اسی لئے سارا سال کراچی کی سڑکیں ٹھیک اور خراب ہوتی رہتی ہیں۔ جواب میں وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ میری نوکری رہے یا نہ رہے میں نے پاکستان میں تبدیلیاں لانی ہیںاور یہ جومسلسل 30یا 22دہشت گرد کہہ کرمار دئیے جاتے ہیںانکی لاشیں دکھانے کی ضرورت نہیںکہ ہم جو کررہے ہیں وہ ملک کو بچانے کیلئے ہے۔
ابھی پچھلے ہفتے، زرداری صاحب نے بختاور، آصفہ اور بلاول سب کو لندن بلالیا تھا سوچا اولاد سے ملے بہت دن ہوگئے۔ اس لئے چھٹی لینے اور پھر پیرس جانے کا سوچا۔ دل میں کیا آئی یا پھر وزیر داخلہ نے کان میں کچھ کہاکہ واپس آنے والی تھاں پر آرہے ہیں۔ وہ جو مسودہ بنایا گیا، پھر پرائم منسٹر کی ٹیبل پر آیا۔ اسلام آبادیوں نے مکھن تلاش کرنا شروع کردیا کہ وزیر داخلہ بار بار دہرا رہے ہیں کہ میں نقشہ بدل کے رہوں گا۔ جبکہ پنجابی خاص کر کہہ رہے ہیں ہم بھی دیکھیںگے۔
آپ میں سے میری طرح کے بزرگوں کو یاد ہوگا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی، ہندوستان میں تجارت کرنے آئی تھی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ بہادر شاہ ظفر، شعر لکھنے میں محو ہیں اور انکے بیٹے شباب وشراب میںمگن ہیں تو انہوں نے برطانیہ کی سیاسی ابتری کو کامیابی میں بدلنے کیلئے ،بڑے بڑے جاگیردار پھنسائے، کسی کو زمینوں کےمربعے، کسی کو ٹھیکے دینے شروع کیے۔ پھر کیا ہوا، سڑکیں بنیں، بجلی گھر گھر آئی ،ریلوے لائن اور یونیورسٹیاں، کلب بنائے گئے۔ڈیڑھ سو سال میں جو کچھ خزانے میں تھا وہ سمیٹ کر یہ کہہ کر چلے گئے کہ15اگست کو دوقومی نظریہ پرعمل کرو ،ہم تو چلے۔
یہ بھی انتظام کرکے گئے کہ قائد اعظم جب خدا کو سونپ دیے جائیں گے۔ مہاتما گاندھی کو مروا دیا جائے گا۔ دونوں ملک جب چاہیں گے لڑیں تو لڑنے دیں گے۔ پھر صلح کرانے ہم ہی آئیں گے۔ یوں آنا جانا لگا رہے گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ محسن نقوی نیا دربار کیسے لگائیں گے۔