نقشے پر لکیر کھینچنا آسان ہے۔ قلم اٹھایا، حد کھینچی اور رنگ بھر دیا۔ مگر لکیر کاغذ پر پیدا ہوتی ہے، حکومت زمین پر۔ لکیر کے ساتھ نئی اسمبلی، نیا دارالحکومت، نیا سیکرٹریٹ، نئی بیوروکریسی، نیا خزانہ اور نئے دروازے آتے ہیں، جن پر وہی پرانے دربان بیٹھ سکتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ صوبے کتنے ہوں۔سوال یہ ہے کہ اختیار کتنے ہاتھوں تک پہنچے۔دریا پہاڑ سے اترتا ہے تو شہر میں نہیں رک جاتا۔ وہ میدانوں، کھیتوں اور بستیوں تک جاتا ہے۔ اختیار دریا ہے۔ اسلام آباد سے نکلا، لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور پہنچا، مگر کئی جگہ پربہنا بھول گیا۔لوگ بھی پیاسے کھڑے ہیں۔اٹھارھویں ترمیم کو موردِ الزام ٹھہرانا کہ اس نے صوبوں کو طاقت دی، آدھی تصویر دیکھنا ہے۔ وفاق وہ درخت نہیں جس کی شاخیں کاٹ دی جائیں تاکہ تنا مضبوط رہے۔ مضبوط وفاق وہ ہے جس کی شاخیں زندہ ہوں اور جڑیںتعلیم، صحت، پولیس، زراعت اور شہری معاملات صوبوں کے پاس ہیں، تو وسائل بھی وہیں جانے تھے۔ سوال یہ نہیں کہ خزانہ صوبوں تک کیوں پہنچا؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر عوام کا راستہ کیوں بھول گیا۔ہم مرکزیت سے لڑتے لڑتے چھوٹی مرکزیتیں بنا لیتے ہیں۔لاہور، مظفرگڑھ سے میلوں دور نہیں، فیصلوں میں دور ہے۔ کراچی، کشمور کے لیے شہر نہیں، اقتدار کا دوسرا کنارا ہے۔ چاغی سے کوئٹہ کا راستہ سڑک پر ناپا جا سکتا ہے، اختیار میں نہیں۔ چترال کا آدمی پشاور تک پہاڑ عبور کرتا ہے، مگر سب سے اونچا پہاڑ دفتر کی میز ہوتی ہے۔اسلام آباد سے اختیار نکلا تاکہ عوام کے قریب جائے، مگر صوبائی دارالحکومت پہنچ کر پھر تخت بن گیا۔کہا جارہاہے:صوبے مزید بنا دو۔ممکن ہے یہ ضرورت ہو۔ سرحد مقدس نہیں۔ انسان کے بنائے نقشے انسان بدل سکتے ہیں۔ سرائیکی علاقہ، ہزارہ یا کسی اور خطے میں عوامی خواہش، معاشی جواز، انتظامی ضرورت اور آئینی اتفاق ہو تو بات ہو۔لیکن ایک بات یاد رہے۔بخار کا علاج ہمیشہ نیا جسم نہیں ہوتا۔اگر ضلع بے اختیار ہے تو نیا صوبہ بنانے سے پہلے ضلع کو اختیار کیوں نہ دیا جائے؟ اگر شہر کے پاس وسائل نہیں تو نئی اسمبلی سے پہلے شہر کو خزانہ کیوں نہ ملے؟ اگر میئر صرف ربن کاٹتا ہے تو اسے اختیار کیوں نہ دیا جائے؟آئین نے مقامی حکومت کا راستہ دکھا رکھا ہے۔ سیاسی، مالی اور انتظامی اختیار نیچے جانا چاہیے۔ مگر ہماری سیاست کو نیچے جاتا اختیار ہمیشہ بھاری لگتا ہے۔ہر وزیراعلیٰ اسلام آباد سے آزادی مانگتا ہے، مگر اپنے ضلع کو آزادی دیتے ہوئے اسکاہاتھ کانپتا ہے۔یہ بھی عجیب منظر ہے۔مرکز صوبے سے کہتا ہے: میرے پاس رہو۔ صوبہ ضلع سے کہتا ہے: میرے پاس رہو۔ضلع شہر سے کہتا ہے:میرے پاس رہو۔آخر میں شہری کے پاس صرف درخواست رہ جاتی ہے۔اگر ہر ڈویژن صوبہ بن جائے تو کیا ہوگا؟نیا وزیراعلیٰ، نیا گورنر، نئی اسمبلی، نئی گاڑیاں، نئے دفاتر، نئے پرچم، نئے پروٹوکول۔ لیکن اقتدار کا مزاج پرانا رہا تو شہری کے حصے میں کیا آئے گا؟بادشاہ ایک سے چھ ہو جائیں گے۔رعایا پھر بھی رعایا رہے گی۔ایک بڑا دروازہ چھ چھوٹے دروازوں میں تقسیم ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے، اگر سب پر تالا لگا ہو۔یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث کو جذبات سے نکال کر عقل کے سامنے بٹھانا چاہیے۔صوبہ بنانا صرف نام بدلنا نہیں۔ سینیٹ کی نمائندگی، قومی اسمبلی کا حساب، این ایف سی، پانی، اثاثے، قرض، پولیس، سول سروس، ہائی کورٹ اور دارالحکومت، سب نئے سوال بن جاتے ہیں۔نقشے کی ایک لکیر کئی دفتر کھول دیتی ہے اور کئی زخم بھی۔اسی لیے ’’عوام سے پوچھ لیتے ہیں‘‘ خوبصورت جملہ ہے، مگر ادھورا۔کن عوام سے؟جنوبی پنجاب کا فیصلہ پورا پاکستان کرے یا جنوبی پنجاب؟ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ کراچی کرے، سندھ کرے یا وفاق؟ جمہوریت صرف اکثریت نہیں، متعلقہ لوگوں کی رضامندی بھی ہے۔ ورنہ عدد جیت جاتا ہے اور آدمی ہار جاتاہے۔ہم نے ایک زمانے میں وحدت بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔ دلیل تب بھی سہولت، کم اخراجات اور قومی یکجہتی تھی۔ مگر نقشہ ایک ہوا تو دل ایک نہ ہوئے۔ کاغذ نے فاصلے مٹا دیے، سیاست نے بڑھا دیے۔تاریخ ہمیشہ کتاب میں نہیں بولتی۔کبھی ناکامی کی خاموشی میں بولتی ہے۔سبق یہ نہیں کہ کل سب کو جوڑا تھا، آج سب کو توڑ دو۔ سبق یہ ہے کہ نقشہ بدلنے سے پہلے نظام کا مزاج بدلو۔سابق فاٹا کا قصہ بھی یہی کہتا ہے۔ سرحد بدلی، شناخت بدلی، وعدے ہوئے، مگر ہر وعدہ منزل تک نہ پہنچا۔ محرومی کا تعلق صرف نقشے سے نہیں، نیت، وسائل اور عمل سے بھی ہے۔پاکستان کو شاید نئے صوبوں سے پہلے نئے سیاسی اخلاق کی ضرورت ہے۔ ایسااخلاق جس میں طاقت جمع کرنا کامیابی نہ سمجھا جائے، بانٹنا سمجھا جائے۔اختیار وفاق سے صوبے کو ملے،صوبے سے ضلع کو،ضلع سے شہر کواور شہر سے شہری کو۔ریاست کا مضبوط ترین مقام دارالحکومت نہیں، وہ دروازہ ہے جہاں عام آدمی کا کام بغیر سفارش ہو جائے۔اتنی بڑی آئینی تبدیلی ایسے سیاسی ماحول میں نہیں ہونی چاہیے جہاں مینڈیٹ پر پینتالیس اور سینتالیس جیسے بھیانک سوال اٹھ رہے ہوں۔ مستقل نقشے عارضی طاقت سے نہیں بننے چاہئیں۔ جو لکیر نسلوں کو متاثر کرے، اسے ایک حکومت کے قلم سے نہیں، وسیع قومی رضامندی سے کھینچا جانا چاہیے۔نقشہ بدلنا آسان ہے۔اقتدار کا مزاج بدلنا مشکل۔سرحد کھینچنا آسان ہے۔اختیار بانٹنا مشکل۔نیا صوبہ بنانا آسان ہے۔نیا انصاف پیدا کرنا مشکل۔اور ملک آخر نقشوں سے نہیں بستے۔ملک تب بستے ہیں جب دور بیٹھا اقتدار قریب آ جائے، اور قریب بیٹھا حاکم خود کو مالک نہیں، امانت دار سمجھے۔