• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلمان خان کو بڑا ریلیف، دہلی ہائیکورٹ نے فلم ’کالا ہرن‘ کی ریلیز روک دی

سلمان خان---فائل فوٹو
سلمان خان---فائل فوٹو

بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو بڑا ریلیف مل گیا، دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کو پیش آئے واقعے سے متاثرہ فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کی ریلیز روکنے کا حکم دے دیا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق جمعرات 10 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ فلم کو فی الحال سنیما گھروں میں ریلیز نہیں کیا جا سکتا۔

’کالا ہرن‘ ایک کرائم تھرلر اور ڈرامہ فلم ہے، جس کی کہانی 1998ء میں راجستھان میں پیش آنے والے کالے ہرن کے شکار کے متنازع مقدمے سے متاثر ہے، جس میں سلمان خان ملوث تھے۔

فلم کی کہانی 1998ء کے اس واقعے کے گرد گھومتی ہے جس میں ایک بھارتی کالے ہرن کا شکار کیا گیا تھا، یہ جانور بشنوئی برادری کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے، جس کے بعد اس معاملے نے کئی اہم قانونی تنازعات کو جنم دیا۔

فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کا بیان ریکارڈ کیے جانے کے بعد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کی جانب سے فلم کی منظوری زیرِ التواء ہونے کے باعث اسے فی الحال سنیما گھروں میں ریلیز نہیں کیا جا سکتا۔

سلمان خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل پراگ کھنڈھر نے بتایا کہ کیس کی اگلی سماعت 30 ستمبر 2026ء کو ہو گی، اگلی سماعت تک فلم کو نہ سنیما گھروں اور نہ ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کیا جا سکے گا۔

 عدالت نے فریقین کو اگلی سماعت سے قبل اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

سلمان خان نے ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسرز کے خلاف فلم کی تیاری، تشہیر اور ریلیز روکنے کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

 اداکار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم میں میری شخصیت اور عوامی تشخص کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، فلم میں میری عوامی شخصیت کا غیر قانونی استعمال کیا گیا ہے، جس سے میری ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

اپنی درخواست میں سلمان خان نے کہا تھا کہ فلم میرے خلاف 1998ء کے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے جبکہ فلم کے پوسٹرز، ٹیزر اور تشہیری مواد میں یہ واضح طور پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔

ان کی قانونی ٹیم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ فلم سازوں نے سلمان خان سے مشابہ شخص کو ان کا مخصوص بریسلٹ پہنا کر استعمال کیا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید