بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنوں کی ماضی میں پاپارازی (فوٹو گرافرز) کے ساتھ کئی مرتبہ تلخ کلامی ہوچکی ہے اور انھوں نے ہمیشہ فوٹوگرافرز کے ساتھ ایک حد برقرار رکھنے کی بات کی۔
انہیں اکثر فوٹوگرافرز کے ساتھ بحث کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ان کا موازنہ سینئر اداکارہ جیا بچن سے کرتے ہیں، جو فوٹوگرافرز کی جانب سے نجی زندگی میں مداخلت کے خلاف کھل کر بولتی ہیں۔
ایک حالیہ گفتگو کے دوران دہلی سے تعلق رکھنے والی 39 سالہ تاپسی نے جیا بچن سے اپنے موازنے پر کہا کہ دوسری جیا بچن اور جیا بچن لائٹ کہنا میرے خیال میں یہ ایک اعزاز ہے۔ وہ ایک بہت اچھی اداکارہ اور مضبوط شخصیت کی مالک ہیں۔ لوگ ان سے میرا موازنہ کرکے میری پذیرائی کرتے ہیں۔
پاپارازی کے ساتھ اپنے رویے کا دفاع کرتے ہوئے تاپسی نے کہا سچ کہوں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، میں جانتی ہوں کہ میں نے کبھی کسی پر آواز نہیں اٹھائی۔ میں ایسی نہیں کہ کسی کو گالی دوں۔ ایک ایسی عورت جس کی حدود بالکل واضح ہوں، بہت سے لوگوں کے لیے خوفزدہ کرنے والی ہوتی ہے۔
تاپسی نے کہا کہ وہ لوگوں کے چیخنے چلانے کی عادی نہیں ہیں، اسی لیے جب پاپارازی ان کا نام چیخ کر پکارتے ہیں تو انہیں برا لگتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوٹوگرافرز کا دعویٰ ہے کہ وہ ان پر غصہ کرتی ہیں، حالانکہ جب وہ واقعی غصے میں ہوتی ہیں تو ان کا ردعمل غصہ کرنے کے بجائے بالکل خاموش ہوجانا ہوتا ہے۔
تاپسی پنوں بالی ووڈ کی واحد شخصیت نہیں ہیں جنہیں پاپارازی کے ساتھ تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی میں تارا سوتاریا نے ایک فوٹوگرافر کا کیمرا اس وقت دھکیل دیا جب وہ بظاہر ان کے بہت قریب آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اداکارہ کے اس ردعمل پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان کی حمایت کی.
گزشتہ سال جیا بچن نےکہا تھا کہ میں خود میڈیا کی پیداوار ہوں، لیکن پاپارازی کے ساتھ میرا تعلق بالکل صفر ہے۔ یہ لوگ کون ہیں؟ کیا انہیں تربیت دی گئی ہے کہ وہ اس ملک کے لوگوں کی نمائندگی کریں؟ انہیں لگتا ہے ان کے پاس موبائل ہے، تو وہ کسی کی بھی تصویر لے سکتے ہیں اور جو چاہیں کہہ سکتے ہیں؟