• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

استاد محض ایک فرد نہیں، وہ علم، شعور، کردار اور تہذیب کا امین ہوتا ہے۔ وہ نسلوں کی ذہن سازی کرتا، نوجوانوں کو زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کرتا اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں استاد کو روحانی والدین کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اساتذہ کا احترام دراصل علم، تربیت اور ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کی بنیادی شرط ہے۔ علم کے حصول میں کامیابی کے لیے استاد کا ادب اور احترام پہلی اور بنیادی منزل ہے۔

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں اس مقدس رشتے کی حرمت کو مجروح کرنے والے واقعات میں تیزی سے اضافہ تشویش ناک ہے۔ ماضی میں کبھی حاضری کم ہونے پر طالب علم کو امتحان میں بیٹھنے سے روکنے یا امتحان کے دوران نقل سے منع کرنے پر استاد کے ساتھ بدتمیزی یا تشدد کے واقعات سامنے آتے تھے، مگر اب صورتحال اس سے کہیں آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ تعلیمی ادارے کی حدود سے باہر بھی اساتذہ کے ساتھ بدسلوکی، دھمکی اور تشدد کے واقعات ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی علامت ہے۔

گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف خان ساقی کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا واقعہ بھی اسی تشویش ناک صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر کسی استاد کو محض اس لیے زد و کوب کیا جائے کہ وہ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے، تو یہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ علم، تعلیم اور معاشرتی اقدار پر حملہ ہے۔ اگر اس قسم کے واقعات میں بااثر افراد اپنے عہدے، اثر و رسوخ یا دولت کے بل بوتے پر قانون کو خاطر میں نہ لائیں تو اس سے معاشرے میں قانون کی بالادستی اور استاد کے وقار، دونوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے؟

آج ہمارے شہری معمولی معمولی باتوں پر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ سڑک پر معمولی تلخ کلامی جھگڑے میں بدل جاتی ہے، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہوتا جارہا ہے اور معمولی اختلاف بعض اوقات گالم گلوچ، ہاتھا پائی اور تشدد تک جا پہنچتا ہے۔ برداشت، تحمل، شائستگی اور دوسروں کے احترام جیسی بنیادی سماجی اقدار کمزور پڑتی جارہی ہیں۔

اس صورتِ حال کا اثر تعلیمی اداروں پر بھی پڑنا فطری ہے۔ اسکول، کالج اور جامعات معاشرے سے الگ جزیرے نہیں ہوتے۔ جو رویے گھر، گلی، بازار اور سوشل میڈیا پر پروان چڑھتے ہیں، وہی کسی نہ کسی شکل میں تعلیمی اداروں میں بھی داخل ہوجاتے ہیں۔

تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین بچوں کو اگر صرف اچھے نمبروں، مہنگے موبائل فون اور کامیاب کیریئر کی دوڑ میں آگے بڑھنے کا سبق دیں، مگر انہیں ادب، احترام، برداشت، گفتگو کے آداب اور اختلافِ رائے کا سلیقہ نہ سکھائیں تو تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔

افسوس کہ بعض اوقات والدین بھی استاد کی طرف سے بچے کی اصلاح، سرزنش یا نظم و ضبط کی کوشش کو مثبت انداز میں لینے کے بجائے اسے اپنی ذات یا بچے کی توہین سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجتاً استاد کی تربیتی حیثیت کمزور ہوتی ہے اور طالب علم کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ ہر احتساب کا جواب طاقت یا شکایت سے دیا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا اور موبائل فون کے بے جا استعمال نے بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت، غیر ضروری مواد، فوری ردعمل کی عادت اور ہر معاملے کو عوامی بحث بنانے کے رجحان نے نوجوانوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات میں توجہ، تحمل اور سنجیدہ مکالمے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی سے شکایت نہیں، اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے شکایت ہے۔ موبائل فون علم کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور اخلاقی انتشار کا وسیلہ بھی؛ فیصلہ ہمارے استعمال کا ہے۔

تعلیمی اداروں کی بھی اپنی ذمہ داری ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف نصابی کتابیں پڑھانا، امتحانات لینا اور ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں۔ اسکول اور جامعات کو کردار سازی کے مراکز بھی بننا ہوگا۔ طلبہ کو احترامِ انسانیت، استاد کا مقام، اختلافِ رائے کا ادب، قانون کی پاسداری، برداشت اور شہری ذمہ داریوں کے بارے میں باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے۔ اساتذہ کو بھی طلبہ کے ساتھ احترام، شفقت اور پیشہ ورانہ رویے کو یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ احترام یک طرفہ مطالبہ نہیں؛ یہ باہمی رویے سے مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن سب سے اہم ذمہ داری ریاست کی ہے۔

حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔ کسی استاد کو دھمکی دی جائے، تشدد کا نشانہ بنایا جائے یا اس کی تذلیل کی جائے تو قانون حرکت میں آنا چاہیے۔ 

بااثر شخص ہو یا عام شہری، طالب علم ہو یا کوئی بیرونی فرد، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ استاد کو تحفظ فراہم کرنا محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی تعلیمی پالیسی اور سماجی ترجیحات کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔

حکومت، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کو مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ استاد کی تضحیک یا تشدد کو کسی صورت معمول کا واقعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ شکایت کا حق ہر شخص کو حاصل ہے، مگر شکایت کا راستہ قانون اور ادارہ جاتی نظام ہے، تشدد نہیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جس معاشرے میں استاد اپنے شاگرد سے خوف زدہ ہو، وہاں علم کیسے آزادانہ پنپ سکتا ہے؟ جس کلاس روم میں استاد کو یہ اندیشہ ہو کہ کسی طالب علم کی اصلاح کرنے پر اسے دھمکی، شکایت یا تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، وہاں تربیت کا عمل کیسے مؤثر رہ سکتا ہے؟

قومیں صرف بلند و بالا عمارتوں، شاہراہوں اور معاشی منصوبوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ قوموں کی اصل ترقی ان کے اخلاق، کردار، قانون پسندی اور علم سے وابستگی میں ہوتی ہے۔ اور علم کی پہلی درسگاہ میں استاد کا مقام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے، اور علم کی عزت قوم کے مستقبل کی عزت ہے۔

ہمیں اپنے گھروں سے یہ سبق دوبارہ شروع کرنا ہوگا کہ استاد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر بدتمیزی نہیں؛ شکایت کی جاسکتی ہے، مگر تشدد نہیں؛ اصلاح پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے، مگر استاد کی تذلیل نہیں۔ اسی طرح ریاست کو بھی یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ استاد پر ہاتھ اٹھانے والا، دھمکی دینے والا یا اسے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے دبانے والا قانون سے بالاتر نہیں۔

احترام استاد کے لئے حکومت کو واضح اور مؤثر نظام بنانا چاہیے جس کے تحت استاد کو دھمکی، ہراسانی، تشدد یا غیر ضروری دباؤ سے تحفظ حاصل ہو۔ تعلیمی اداروں میں شکایات کے لیے شفاف اور غیر جانب دار نظام موجود ہونا چاہیے تاکہ والدین اور طلبہ کی جائز شکایات بھی سنی جائیں اور اساتذہ کو بے بنیاد الزامات اور انتقامی کارروائیوں سے بھی تحفظ ملے۔

قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ اگر استاد پر ہاتھ اٹھانے والا شخص بااثر ہے تو بھی قانون حرکت میں آئے، اور اگر استاد اپنے منصب کا ناجائز استعمال کرے تو اس کے خلاف بھی قانونی اور ادارہ جاتی کارروائی ہو۔ تحفظ کا مطلب احتساب سے آزادی نہیں؛ تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ احتساب قانون کے دائرے میں ہو، طاقت کے زور پر نہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ استاد معاشرے کا آخری ستون نہیں، پہلی صف کا سپاہی ہے۔ وہ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، صحافی، سائنس دان، افسر، سیاست دان اور معاشرے کے ہر شعبے سے وابستہ افراد کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر ہم استاد کو عزت نہیں دیں گے تو دراصل ہم اپنے ہی مستقبل کی بنیاد کمزور کریں گے، اگر ہم نے آج استاد کے احترام، برداشت، شائستگی اور قانون کی بالادستی کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں شاید اعلیٰ ڈگریاں تو حاصل کرلیں، مگر ایک مہذب معاشرے کی بنیادی اقدار سے محروم ہوجائیں گی۔