• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’استاد پر اٹھنے والا ہاتھ، علم کے چہرے پر طمانچہ‘‘ آنے والی نسلوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

صبا ناصر

گزشتہ دنوں ایک ’’محترم اُستاد‘‘پر جس طرح تشدد کیا، اُس نے یقیناََ سب کو سوچنے پر مجبور کردیا ہوگا۔ واقعہ کچھ یوں ہے:

جامعہ کراچی میں اسلامک لرننگ کے چیرمین پروفیسر عارف خان ساقی اپنے بھتیجے وحید الرحمن کے ساتھ بائیکیا موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ، صفورہ چورنگی کے قریب ایک مقامی ہوٹل سے نکلنے والی تیز رفتار ڈبل کیبن گاڑی نے ان کی بائیک کو ٹکر مار کرڈرائیور نے تیزی سے گاڑی آگے بڑھائی دی، تو پروفیسر نے آگے بڑھ کر اسے روکا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ،’’ یہ آن لائن رائڈر ایک غریب آدمی ہے، اس کی گاڑی کا جو نقصان ہوا ہے اس کا معاوضہ دے دیں‘‘ لیکن اُس نے معاوضہ دینے کے بجائے اپنے گن مینوں کے ساتھ مل کر پروفیسر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ان کے سر پر پستول کا بٹ مار کر لہو لہان کردیا، نہ صرف انہیں بلکہ ان کے بھتیجے پر بھی بہیمانہ تشدد کیا، صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، انہیں ہوٹل کے اندر لے گئے اور حبسِ بے جا میں رکھا، وہاں بھی تشدد کرتے رہے۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ، طاقت، رعونیت، اور اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات کی سب سے بڑی وجہ کمزور قانون نافذ کرنے والا نظام، سزا جزا کا نہ ہونا اور گہرے سماجی و معاشی تفاوت ہیں۔ جب بااثر افراد یا مجرموں کو یہ یقین ہو کہ وہ اپنے پیسے، طاقت یا سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے، تو معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

اسلحے کی کثرت نے لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت دے دی ہے، جس کی وجہ سے معمولی تلخ کلامی بھی جان لیوا حادثات میں بدل رہی ہے۔ اخلاقی تربیت کی کمی اور معاشرے میں یہ تاثر عام ہونا کہ ’’طاقتور ہی ہمیشہ صحیح ہوتا ہے‘‘، لوگوں کے رویوں میں تکبر پیدا کر رہا ہے۔ ایک اُستاد پر تشدد کے واقعے کی روشنی میں زیرِ نظر مضامین ملاحظہ کریں اور سوچیں معاشرے سے برداشت، احترام کیوں ختم ہوتا جارہا ہے۔

 ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے،جس کا جواب ہمیں نہیں مل رہا۔یہ ہمارے لیے رونے کا مقام ہے، جس ہاتھ میں کتابیں ہونی چاہیں، وہ ہاتھ استاد کے گریبان تک کیسے پہنچ گئے، ہاتھ نہیں کانپے، دل کی دھڑکن تیز نہیں ہوئی، ایسا کر لیا تو اُنہیں توڑ کیوں نہیں دیا۔ لیکن ایسا ہو گیااور جب ایسا ہو جا تا ہے تو پھربات صرف ایک استاد پر حملے کی نہیں رہتی، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہوجاتا ہے۔

رواں ہفتے شہر کراچی میں طاقت و رعونیت کے واقعے نے ثابت کر دیا، ہمارا سُدھرنا مشکل ہے۔ معمولی اختلاف، تلخ کلامی یا کسی تنازع کا جواب اب دلیل کے بجائے طاقت، دھمکی اور تشدد سے دیا جارہا ہے۔ ایک معمولی نوعیت کا تنازع بات چیت سے حل ہونے کے بجائے مبینہ طور پر تشدد میں بدل گیا۔

یہ واقعہ اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ متاثرہ شخص کوئی عام راہ گیر نہیں بلکہ استاد محترم تھے۔ اُستاد، جو کبھی تربیت اور رہنمائی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ جن کے احترام میں عدالتوں میں جج اپنی کرسی سے کھڑے ہوجاتے ہیں، والدین سر جھکائے ادب سے بات کرتے ہیں۔ ’’اساتذہ‘‘ ان کے سامنے آواز بلند کرنا تو دُور کی بات، شاگرد ادب سے بیٹھنے کو بھی اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ رشتہ بھی کمزور پڑگیا۔

اساتذہ کا احترام کسی ایک شخص کی عزت نہیں، علم، تربیت، کردار اور آنے والی نسلوں کے احترام کا نام ہے۔ اُن سے اختلاف ہو تو سوال کیجیے، دلیل دیجیے، شکایت کیجیے، انتظامیہ سے رجوع کیجیے، قانونی راستہ اختیار کیجیے، مگر تشدد کا اختیار کسی کو نہیں، کیونکہ جس معاشرے میں استاد سے اختلاف کا جواب دلیل کے بجائے طاقت بن جائے، وہاں مسئلہ صرف ایک استاد کا نہیں رہتا۔

سوال یہ بھی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم دے رہے ہیں یا طاقت کے ذریعے اپنی بات منوانا سکھا رہے ہیں؟ اور اگر استاد خود محفوظ نہ ہو تو وہ اپنے شاگردوں کو امن، برداشت اور احترام کا سبق کیسے دے گا؟

ایک معمولی حادثہ، ایک تلخ جملہ، ایک شکایت، ایک فیصلہ یا کسی بات پر اختلاف، کیا ان کا جواب اب دھمکی اور تشدد سے دیا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہم اپنے بچوں کو تعلیم نہیں، صرف ڈگریاں دے رہے ہیں۔

تعلیمی ادارے وہ جگہ ہوتی ہیں، جہاں اختلاف ہونا چاہیے، سوال اٹھنے چاہئیں، بحث ہونی چاہیے، استاد سے سوال بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اختلاف کا جواب دلیل ہے، مُکہ، لات، گولی یا دھمکی نہیں۔ سوچیں ہی نہیں، غور بھی کریں کہ، جب اساتذہ محفوظ نہ رہیں تو علم کیسے محفوظ رہے گا؟

ماضی میں بھی جھانکیں

تلخ حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کے ساتھ بدسلوکی یا تشدد کا واقعہ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔

2011 میں جامعہ کراچی میں شعبہ فلسفے کے لیکچرار اسلم شاہ کو طلبہ کی جانب سے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے خلاف جامعہ کراچی ٹیچرز سوسائٹی نے احتجاج بھی کیا۔ اسی برس جامعہ کراچی میں امتحانی ڈیوٹی انجام دینے والے استاد انور راجپوت کو بھی مبینہ طور پر طلبہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

2016 میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبد الحق کیمپس میں بین الاقوامی تعلقات کے استاد ڈاکٹر اصغر دشتی پر حملہ ہوا،جبکہ 2022 میں اردو یونیورسٹی کے گلشن کیمپس میں اسسٹنٹ پروفیسر سکندر شیروانی کو طلبہ کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ لیکن گزشتہ دنوں والا واقعہ سرراہ ہوا، وہ بھی نودولتیے نوجوان کے ہاتھوں، اسے نو دولتیاہی کہیں گے کہ وہ دولت کے نشے میں دھت تھا، اسے بات کرنے کی تمیز تھی نہ سامنے والے کی عمر کا لحاظ۔

یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ مسئلہ کسی ایک جامعہ، ایک استاد یا ایک طالب علم تک محدود نہیں۔

استاد سے غلطی ہوسکتی ہے، اس کا فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہوسکتا ہے، اس کی بات طالب علم کو ناگوار گزر سکتی ہے۔لیکن ہزار غلطیوں، کوتاہیوں کے باوجود طلبا کے ہاتھ اُستاد کا گریبان اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے۔ طالب علم انتظامیہ سے رجوع کرسکتا، شکایت، اپیل، احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کرسکتا ہے، مگر کسی استاد کو دھمکانا یا اس پر ہاتھ اٹھانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی استاد طالب علم کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے بھی تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کا احترام استاد اور طالب علم دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔

تشدد جامعات میں ہو یا اسکول، کالج، سڑکوں پر، طلبا کریں یاراہ گیر، اس کے پیچھے سیاسی مداخلت، گروہی مفادات، انتظامی کمزوریاں، طاقتور لوگوں کا اثرورسوخ اور قانون پر کمزور عمل درآمد بھی شامل ہے۔

جب کوئی نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ طاقتور شخص قانون سے بچ سکتا ہے تو اس کے ذہن میں بھی یہی تصور جنم لیتا ہے کہ طاقت ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ پھر کتاب پیچھے رہ جاتی ہے، گروہ آگے آجاتا ہے، دلیل پیچھے رہ جاتی ہے، دھمکی آگے آجاتی ہے۔

جامعہ ہو یا کالج ، گلی محلہ ہو یا بیچ بازار،شکایت پر سوال ہونے چاہئیں، خوف نہیں۔ تعلیمی ادارے تو دراصل معاشرے کی فکری تجربہ گاہ ہوتے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں، نظریات ٹکراتے ہیں، نوجوان اپنی سوچ بناتے ہیں۔ اساتذہ صرف کتب نہیں پڑھاتے بلکہ اختلاف کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں، نہیں سکھاتے تو سکھانا چاہیے۔

اگر طالب علم کو یہ سکھایا جائے کہ جس سے اختلاف ہو اسے خاموش کرادو، جس نے بات نہ مانی اسے ڈراؤ اور جہاں دلیل ختم ہوجائے وہاں طاقت استعمال کرو تو پھر ہم مستقبل کے لیےمسائل پیدا کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی میں کتابیں ہونی چاہئیں، بحث ہونی چاہیے، احتجاج بھی ہو،مگر تشدد اور اسلحہ کا استعمال ہرگز نہیں۔ اساتذہ صرف ملازم نہیں، نسلوں کے معمار ہوتے ہیں۔ لیکن آج کی نسل نو، اکثر استاد کو صرف ایک ملازم سمجھتی ہے، جو کلاس میں آتے، لیکچر دیتے اور چلے جاتے ہیں۔

آج کے استاد کے سامنے بیٹھا طالب علم مستقبل کا ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، وکیل، جج، افسر ہوگا یا شاید خود استاد کے رتبے پر فائز، اگر کل ان کے ساتھ کچھ برا ہوا تو ان پر کیا بیتے گی۔ ذرا سوچیں۔ استاد کی بے عزتی دراصل علم کی بے حرمتی ہے۔ اور جس معاشرے میں علم دینے والے ہاتھ محفوظ نہ ہوں، وہاں ترقی کے خواب دیکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ ہر واقعے کے بعد مذمت کافی نہیں۔ کسی استاد پر حملہ ہوتا ہے تو چند دن احتجاج ہوتا ہے، مذمتیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے اور پھر معاملہ وقت کے ساتھ دب جاتا ہے۔کیا اس طرح تشدد ختم ہوسکتا ہے؟

ضرورت مستقل اور واضح پالیسی کی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے تحفظ کا مؤثر نظام اور طلبہ کی شکایات کے لیے شفاف طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ کسی استاد یا طالب علم کے خلاف زیادتی ہو تو غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور تشدد کرنے والے کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ وہ چند دن بعد دوبارہ اسی ماحول میں واپس آکر اپنا اثر قائم رکھ سکے گا۔

خاموشی بھی تشدد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں ہر اختلاف گالی، دھمکی اور تشدد میں بدل جائے یا ایسا معاشرہ جہاں مخالف رائے رکھنے والا بھی عزت کے ساتھ اپنی بات کہہ سکے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور استاد کی باری ہوسکتی ہے۔اور پھر شاید کوئی طالب علم بھی محفوظ نہ رہے۔

آج ضرورت صرف پروفیسر عارف ساقی کے لیے انصاف کی نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف کھڑے ہونے کی ہے جو اختلاف کو دشمنی اور طاقت کو دلیل سمجھتی ہے۔

والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں، اُن میں شعور آئے، سوال کرنا سیکھیں، اختلاف کا سلیقہ سیکھیں اور معاشرے کو بہتر بنائیں۔ لیکن اگر تعلیمی اداروں میں انہیں یہ پیغام ملنے لگے کہ طاقتور کا ہاتھ دلیل سے زیادہ مضبوط ہے تو پھر ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ استاد پر اُٹھنے والا ہاتھ صرف ایک فرد کو زخمی نہیں کرتا، وہ علم، تربیت اور معاشرتی اقدار کے چہرے پر بھی زخم لگا دیتا ہے۔

اس زخم کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اگر استاد محفوظ نہیں، طالب علم محفوظ نہیں، تعلیمی ادارے محفوظ نہیں تو پھر سوال صرف تعلیم کا نہیں ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہے۔

آج صورتِ حال صرف بدتمیزی تک محدود نہیں۔ اساتذہ کو دھمکانے، ہراساں کرنے، گالم گلوچ اور بعض مواقع پر جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

دنیا میں اساتذہ کا مقام

دنیا بھر میں اساتذہ کو قوم کی فکری تعمیر کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ فن لینڈ میں استاد کی پیشہ ورانہ خودمختاری اور سماجی احترام کو تعلیمی نظام کی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں انہیں’’پیشہ ورانہ فخر‘‘ اور معاشرتی احترام کو ان کی پیشہ ورانہ وابستگی قرار دیا گیا ہے۔

چین میں ’’استاد کا احترام اور علم کی قدر‘‘ صدیوں پرانی روایت ہے۔ چینی وزارتِ تعلیم کے مطابق کنفیوشس کے زمانے سے تدریس کو عزت حاصل ہے۔10 ستمبر کو ’’یومِ اساتذہ‘‘ منانے کا مقصد بھی استاد کے سماجی مقام اور احترام کو فروغ دینا ہے۔ ہم استاد کے مقام کو تقریروں، یوم اساتذہ اور چند رسمی جملوں سے آگے کب لے کر جائیں گے، جب استاد ہی اپنی درسگاہ میں محفوظ نہ ہو تو اپنے شاگردوں کو امن، برداشت اور احترام کا سبق کیسا دے گا؟

توہین، الزام تراشی، رویے تحقیقی رپورٹ میں اساتذہ کی شکایت

2025میں شائع ہونے والی پاکستان کے 454 اساتذہ پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ میں اساتذہ کی جانب سے توہین، الزام تراشی، ان کی کوششوں کو کمتر سمجھنے اور سماجی و پیشہ ورانہ سطح پر تنہائی جیسے رویّوں کی نشاندہی کی گئی۔ محققین نے ایسے ماحول کے لیے مؤثر حفاظتی اور معاون نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

یو نیسکو کے مطابق دنیا بھر میں تعلیمی اداروں میں تشدد ایک اہم مسئلہ ہے، اس کے اثرات طلبہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی عملے پر بھی پڑتے ہیں۔ ایک عالمی جائزے کے مطابق تقریباً 80 فیصد اساتذہ نے کسی نہ کسی شکل میں تشدد کا سامنا رپورٹ کیا، جس میں طلبا کی زبانی بدسلوکی سے جسمانی حملوں تک مختلف رویے شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ ذہنی دباؤ، تھکن اور پیشہ ورانہ بے دلی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر تعلیم کے معیار پر پڑتا ہے۔

جب استاد خوف زدہ ہو تو صرف ایک شخص خاموش نہیں ہوتا، پوری کلاس کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم کے حوالے سے یہ اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ استاد ایک محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

یو نیسکو نے بھی اساتذہ کو صرف علم منتقل کرنے والا نہیں بلکہ رہنما، مربی، محافظ اور رول ماڈل قرار دیا کیونکہ جس معاشرے میں استاد سے اختلاف کا جواب دلیل کے بجائے تشدد بن جائے، وہاں مسئلہ صرف ایک استاد کا نہیں رہتا، پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم دے رہے ہیں یا طاقت کا استعمال سکھا رہے ہیں؟