• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے صحافت کے میدان میں ٹامک ٹوئیاں مارتے چار دہائیاں گزر چکی ہیں، شاید اسی لئے غلط طور پر سینئر تجزیہ کار، سینئر صحافی یا کالم نگار کا خطاب دیاجاتا ہے۔آج میں ایک مجرمانہ اعتراف کرناچاہتا ہوں ،میں دراصل ایک اتائی ہوں۔ آپ اسے منکسر المزاجی یا ملامت ہرگز نہ سمجھیں میں حقیقتاً ایک اتائی ہوں۔ وہ اسلئے کہ میں زندگی بھر سیاست کے موضوع پر لکھتا رہا ہوں کبھی سیاسی تجزیہ ، کبھی سیاسی تاریخ کے مدوجزر، کبھی حکومت جانے اورکبھی نیا سیٹ اپ آنے کی خبریں مگر نہ کبھی میں نے عملی سیاست کا مزہ چکھا اور نہ کبھی سیاست کے راستے میں حائل صعوبتوں کا سامنا کیا۔میں سیاست کی تھیوری کا طالبعلم تو رہا مگر سیاست کے عملی پہلو کو کبھی جان سکا نہ کبھی اسکے عوامل کو قریب سے محسوس کرسکا۔کہنے کو تو میں پیشے کے اعتبار سے سیاست کا ڈاکٹر ہوں مگر حقیقت میں، میں سیاست کا اتائی ہوں ،آپ تھیوری کے کتنے بھی بڑے اسکالر ہوں اگر آپ پریکٹیکل کو نہیں جانتے ، تو پھر آپ کاغذی اور نام نہاد اسکالر ہیں اور میں وہی کاغذی اور نام نہاد تجزیہ کار ہوں۔ میں نے بطور طالبعلم ایف سی کالج میں ایک ڈیپارٹمنٹ کا الیکشن لڑا اوروہ بھی ایک ووٹ سے ہار گیا اسکے بعد سے میں الیکشن لڑنے سے ہی گھبرا گیا اور آج تک حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح سیاستدان حلقے کے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اپنا ہمنوا بناکر انکے ووٹ لے لیتے ہیں کئی کئی ارکان تو8 یا دس بار مسلسل رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ مجھے سیاست مشکل اور پیچیدہ ترین کام لگتا ہے سو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں کبھی سیاسی کنویں میں اترا نہیں اسلئے اسکی تہوں سے بھی واقف نہیں میں تو کنویں کی منڈیر سے جھانک کر اندازہ لگاتا رہا ہوں۔ ظاہر ہے ایسا اندازہ اتائیوں کا ہی ہوتا ہے مستند ڈاکٹروں کا نہیں جو سائنسی جائزے میں سارے ٹیسٹ کرواتے ہیں پھر کوئی دوا تجویز کرتے ہیں مگر میرے جیسے اتائی اور نیم حکیم صرف نبض دیکھ کر مرض بتانے اور علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں عمرکے اس حصے میں ہوں جب مجھ پر ریٹائر ہونے کی پھبتی کسی جاتی ہے اور کبھی من گھڑت انٹرویو کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، مجھے شرمندگی سے یہ اعتراف کرنا ہے کہ میں خود کو غلط طور پر سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار سمجھ کر اہل سیاست کو نہ صرف مشورے دیتا رہا بلکہ انکی غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتا رہا۔ میرا یہ رویہ سراسر غلط تھا جب میں نے میدان عمل میں سرے سے شہسواری کی ہی نہیں تو میں سیاست کے گھوڑوں کی چال دلکی ہے ،رہوار یاسرپٹ، کاکیسےاندازہ لگا سکتا ہوں؟ کہاں سیاست اور صحافت کا اتائی اور کہاں اس خطے کے تجربہ کار سیاستدان نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور عمران خان۔اگر چہ آج مجھےیقین ہے کہ میں اتائی ہوں لیکن ایک ماہ پہلے تک ایسا نہ تھا میں سمجھتا تھا کہ افلاطون نے ’’جمہوریہ‘‘ نامی کتاب ضرور لکھی ہے لیکن اسے تو سیاسیات کی مبادیات تک کا علم نہ تھا ،مجھے لگتا تھا کہ سکندر اعظم نے خواہ مخواہ دریائے آموجاکر3سال ضائع کئے عقل سے کام لیتا تو وہاں جانے سے گریز کرتا ،میرا نظریہ یہ تھا کہ سکندر اعظم کی پورس کیخلاف حکمت عملی ناقص تھی، مجھے یقین تھا کہ نپولین واٹرلو کی جنگ جیت سکتا تھا اگر وہ جنگ میں تھوڑی سی تاخیر کردیتا۔ میںخود کو افلاطون، سکندر اورنپولین سے کہیں بڑا سمجھتا تھا،مجھے اپنے علم تجربےاور تعلق واسطے پر اتنا بھروسہ ہوگیا کہ نواز شریف جو بات3بار وزیر اعظم اور دوبار وزیر اعلیٰ بننے اور نصف صدی کے سیاسی تجربے سے نہ سمجھ سکےوہ مجھے سمجھ آگئی۔شہباز شریف17سال تک اقتدار میں رہے انہیں نظام کی وہ خرابیاں نظر نہ آسکیں جو میں نے فوراً پہچان لیں۔ صدر زرداری گزشتہ46سال سے سیاسی میدان میں ہیں،11سال جیل میں رہے لیکن وہ ملکی نظام کو بہتر کرنے کا وہ فارمولا نہ بنا سکے جو میں بنا چکا تھا ، عمران خان نے سیاسی میدان میں18سال دھکے کھائے اقتدار حاصل کیا اور اب جیل میںہے لیکن اسے بھی ملک کے ان اصل مسائل سے آگاہی نہ ہوسکی جو مجھ پر عیاں ہو گئی ۔مولانا فضل الرحمن40سال سے زائد سیاست میں سرگرم ہیں مگر ملک کو ٹھیک کرنے کی جو گیدڑ سنگھی میں حاصل کرچکا تھا وہ انکے پاس بھی نہیں تھی ،میں اس اعتماد سے مالا مال تھا کہ صرف میرے فارمولے سے ہی ملک کی تقدیر بدلےگی۔ ہوا یوں کہ جب میں نے اپنے خیالات اور آئیڈیاز دوستوں اور اتحادیوں کےسامنے پیش کرنے شروع کئے تو پہلے تو سب کا تاثر حیرانی اور تعجب کا تھا کیونکہ کوئی مجھ سے یہ توقع ہی نہ رکھتا تھا۔ میرے اسٹاف نے میرے آئیڈیاز کی اس قدر تعریف کی کہ میں واقعی ہوا میں اڑنے لگا ،مجھے دن رات ایسے خواب آنے لگے جس میں بدلا ہوا روشن ملک اور ہر طرف خوشحالی نظر آتی، اس دوران جو دوست میرے منصوبے کی ہلکی سی بھی مخالفت کرتا وہ مجھے دشمن لگتا اگر کوئی اتحادی چُون وچرا کرتا تو لگتا کہ وہ میرے شاندار پلان کو ناکام بنانیوالا ہے۔ میری اہلیہ نے مجھے سمجھایا کہ ہوا میں نہ اڑو، پاؤں زمین پررکھو تو مجھے شک ہوگیا کہ میری اہلیہ کوبھی میری عظمت سے حسد ہوگیا ہے پھر صورتحال یہ ہوئی کہ مجھے دن رات تبدیلی کے ہرے ہرے خواب آنے لگے حقیقت کی آنکھیں بند ہوگئیں میری بیوی کو میری حالت پرپریشانی ہوئی تواس نے نفسیات کے ڈاکٹر کو گھر بلایا جس نے میرا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ میںMegalomania یعنی خبط ِعظمت کا مریض بن گیاہوں میں نے ڈاکٹر کی تشخیص ماننے سے انکار کردیا اور کہا سارے بڑے لوگ جو ملک میں انقلابی تبدیلیوں کے خواب دیکھتے ہیں لوگ انہیں پاگل سمجھتے ہیں۔ جرمن فلاسفرنطشےکو ڈاکٹر اور عام لوگ پاگل سمجھتے تھے مگر اس نے جو آئیڈیاز دئیے وہ آج بھی زندہ ہیں۔میری مزاحمت اور انکار کے باوجود میرے بیوی بچوں نے میری بے چینی ، بے کلی، ہر وقت تیز تیز چلنے، غصے سے دھاڑنے اور سب سے آگے رہنے کو بیماری سمجھتے ہوئے مجھے بے ہوشی کی دوا دیدی ۔میں ایک ماہ تک ماہر نفسیات کے زیرعلاج رہا، میں ڈاکٹر سے لڑتا رہا کہ مجھے جانے دو میں نے ملک میں تبدیلی لانی ہے لیکن ڈاکٹر اور میرے خاندان نے ایک ماہ میری تھراپی کی اور تب مجھے سمجھ آنا شروع ہوئی کہ میں کوئی افلاطون نہیں میں تو اتائی ہوں، میں کوئی لیڈر نہیں میں نے تو سیاست کے چشمے کا پانی تک نہیں پیا میں سیاستدانوں سے زیادہ تجربہ کار نہیں یہ میراوہم تھا کہ میں خود کو سیاست کا بڑا ماہر اور انقلابی تبدیلی لانیوالا سمجھنے لگا تھا۔ ڈاکٹر کے مشورے پرمیں نےMegalomania کی تاریخ پڑھی، بیماری کی علامات دیکھیں اور اسکے نتائج جانے۔ تاریخ کی روشنی میں شہرت، اقتدار اور طاقت مل جائے تو اکثر لوگ توازن کھو بیٹھتے ہیں خود کو مسیحا اور خدا کا فرستادہ سمجھ لیتے ہیں اور پھر زور زبردستی سے جس کو وہ صحیح سمجھتے ہیں اسکا نفاذ کرناچاہتے ہیں مگر تاریخ کا نتیجہ یہ ہے کہ اقتدار،طاقت اور شہرت مل جائیں توآپ کو تکبر ،زورزبردستی اور طاقت کے استعمال سے دور رہنا چاہیے، آپ کو اپنے دوست اور اتحادی نہیں بدلنے چاہئیں، آپ مخالفانہ رائے یا تنقید سن کر اس سے اصلاح کی کوشش کریں۔ مجھ سے یہی غلطی ہوئی تھی ،میں خود کو افلاطون اور ارسطو سمجھ کر کم سے کم عرصے میں ملک وقوم کی برائیاں جڑسے اکھیڑنا چاہتا تھا مگر میں تو اتائی تھا اور اتائی ہوں’’نیم حکیم خطرہ جان‘‘ نیم ملا خطرہ ایمان اسی لئے مشہور ہے۔ اتائی اندر اور اوپر سے خالی ہوتے ہیں اسی لئے خالی برتن زیادہ بجتے ہیں، اسی لئے وہ زیادہ بولتے ہیں میرا حال اندھے کے ہاتھ بٹیر لگنے والا اور بندر کے ہاتھ اُسترا والا تھا وہ تو اچھا ہوا کہ میری بیماری کی تشخیص ہوگئی اور اب میں نارمل ہوں، بس ایک عام بندہ اپنی حیثیت اور مبلغِ علم سے پوری طرح واقف!!

تازہ ترین