• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرا بھائی از فاطمہ جناح زمانہ طالبعلمی میں یہ کتاب گھر کی مختصر سی لائبریری سے ملی جو یقیناً مرے ابو جان نے خریدی تھی۔برسوں تک اس کتاب کا نقش میرے ذہن سے محو نہیںہوا اب دوبارہ ریختہ سے ڈھونڈ کر 1978ءکا وہی ایڈیشن پڑھا جو گھر کی لائبریری میں موجودتھا ۔

باغبان پورہ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے ایک مخیر پاکستانی کی مدد سےاپنے کالج کے طالب علموں کیلئے یہ کتاب شائع کروائی اور طالب علموں میں تقسیم کی۔ سرکاری کالجوں میں قومی احساس ذمہ داری سے لبریز سوچ والے پرنسپل اب کہاں۔ خیر ایک پورا معاشرہ ہی ہمہ جہت زوال کا شکار ہوا ہے۔ جی تو میں نے وہی 1978والا ایڈیشن دو ہزار چھبیس کے ستمبرمیں دوبارہ پڑھا تو گویا حرف حرف مرے اندر اتر گیا ۔یہ کتاب مجھ پر بیت گئی ایسے کہ مجھے لگا اپنے عظیم قائد سے جیسے پہلی تفصیلی ملاقات ہوئی ہو۔50 صفحات کی کتاب قائد پر لکھی گئی کئی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے اور بھاری رہے گی کیونکہ اسے قائد کی ہمشیرہ فاطی نے لکھا ہے، وہ بہن جس نے اپنے بھائی محمد علی کو ہندوستان کے مسلمانوں کے مضبوط ،پروقار اور آہنی ارادے کے مالک رہنما کے طور پر دیکھا۔ پھر بیماری نے ان کا وجود نقاہت سے بھر دیا مگر ان کا عزم آہنی تھا۔ یہ وہی ہمشیرہ ہیں جن کے سامنے قائد قیام پاکستان کی جدوجہد کے آخری سات برسوں میں کئی بار اپنی کمزور ہوتی صحت کے ہاتھوں بیمار ہوئے جس کا احوال فاطمہ جناح اپنی کتاب میرا بھائی میں لکھتی ہیں ۔نہ کہیں مبالغہ آرائی نہ زیب داستاںکیلئےکچھ بڑھاوا ،انداز سادہ اور ایسا کہ دل میں ترازو ہو جائے۔فاطمہ جناح لکھتی ہیں’’قیام پاکستان کی جدوجہد عروج پر تھی اور قائد بیمار ہو چکے تھے وہ اس حالت میں بھی متحدہ ہندوستان کے طول و عرض کے طوفانی دورے کرتے ڈاکٹر انہیں آرام کا مشورہ دیتے تو وہ ان کی رائے کو ٹال دیتے۔ایک منظر دیکھیے کہ ٹرین بمبئی سے دہلی جا رہی ہے اور اس کے ایک ریزرو کمپارٹمنٹ میںقائداپنی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔اچانک انہیں کمر کے ایک حصے میں درد شروع ہو جاتا ہے وہ انگلی کے اشارے سے بتاتے ہیں کہ انہیں یہاں بہت تکلیف ہے۔فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ’’کوئی قریب نہیں کہ ان کو طبی امداد دی جا سکے، ٹرین چل رہی ہے زنجیر کھینچنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ٹرین ایک بیابان علاقے سے گزر رہی ہے، قائد درد برداشت کرتے رہتے ہیں اگلےاسٹیشن پر جب ٹرین رکی تو انہیں گرم پانی کی بوتل سےٹکور کرنے کا بندوست ہوا جس سےدرد میں افاقہ ہوتا ہے ۔‘‘

اپریل 1941میں قائد آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس مدراس کی صدارت کیلئے پہنچے، ابھی مدراس پہنچے تین گھنٹے ہوئے تھے کہ قائد بیماری اور کمزوری کی وجہ سے زمین پر گر پڑےنقاہت بھری مسکراہٹ سے بولے شاید مجھے بہت تھکن ہو گئی ہے۔فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ ’’جلسےکی صدارت پھر بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ کی اورپرعزم آواز کے ساتھ تقریر کی کہ کسی کو گمان نہ گزرا کہ ان کے قائد اتنے بیمار ہیں ۔‘‘فاطمہ جناح ایسے کئی لمحوں کی گواہ ہیں۔ ہمارے عظیم قائد اپنی بڑھتی ہوئی بیماری پر صرف اپنے ناقابل شکست ارادے کے بل بوتے پر قابو پاتے ۔ڈاکٹرز ان کو کہتے کہ آپ کوآرام کی ضرورت ہے مگر وہ ان کی ہر بات کو نظر انداز کر دیتے۔

فاطمہ جناح نے ایک دفعہ بہت اصرار کیا کہ آپ اپنی مصروفیات کم کرکے آرام کریں،قائد نے انہیں جواب دیا کہ کیا تم نے کوئی ایسا جرنیل دیکھا ہے جو خود تو آرام کر رہا ہو اس کی فوج میدان جنگ میں لڑ رہی ہو ۔پاکستان بن گیا اور فتح نصرت کی ان گھڑیوں میں بھی قائد اعظم بے حد بیمار تھے کراچی کی سڑکوں پر کچھ اور ہجوم کے درمیان سے گزرتے ہوئے گورنر جنرل ہاؤس کی طرف جب روانہ ہو رہے تھے تو لوگوں کے علم میں نہیں تھا کہ ان کے محبوب قائد بہت علیل ہیں ہجوم کو دیکھ کر صرف ہاتھ ہلاتے ہوئے ہلکا سا مسکراتے رہے۔پاکستان بننے کے بعد کا وقت بہت کٹھن تھاسرحد کے دونوں طرف قتل و غارت کی دل خراش اطلاعات آتی تھیں، کئی مرتبہ قائد چپکے سے رومال نکالتے اور اپنی بھیگی آنکھیں پونچھنے لگتے۔ فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ ایسے موقعوں پر میں انجان بن جاتی۔50 صفحات کی کتاب جس کا آخری حصہ اتنا دل گداز ہے کہ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔پھیپھڑوں کی تپ دق بڑھتی جا رہی ہے ،سانس لینے میں تکلیف ہے ،کھانسی کے دورے پڑتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مشورے سے انہیں کراچی سے کوئٹہ اور پھر زیارت لے جایا گیا وہاں کے پرفضا مقام نے پہلے پہل ان کی صحت پر اچھا اثر کیا۔ ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش نے ان کی غذا میں طاقتور چیزوں کی مقدار بڑھا دی تین وقت خوراک لینے لگے طبیعت بہتر ہونے لگی لیکن یہ بہت مختصر عرصے کیلئے ہوا ۔ کرنل الٰہی بخش پھیپھڑوں کی تپ دق کے ماہر ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور دیگر ماہر معالجین کی ٹیم وہاں موجود تھی۔ ستمبر کا آغاز ہوچکا تھاقائد کی صحت روز بروز گر رہی تھی اور ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنی صحت سے مایوس ہو گئے ، انہوں نے فاطمہ جناح سےکہا میںزندہ نہیں رہنا چاہتا ۔قائد کی خواہش پر کراچی واپسی کا فیصلہ ہوا ۔قائد کیلئے ہوائی سفر بھی بہت مشکل تھا پھر ان کی ایمبولنس راستے میں خراب ہو جاتی ہےاور ایک گھنٹہ تک خراب رہتی ہے۔ یہ سوال سوال ہی رہے گا کہ آخرعظیم المرتبت قائد کیلئےایسی ایمبولنس کس نے اورکیوں بھیجی؟۔ ایمبولنس کیوں خراب ہوئی ،نئی ایمبولنس کے آنے تک قائد کی ہمشیرہ نے اپنی زندگی کا ایک اذیت ناک گھنٹہ گزارا ۔گورنر جنرل ہاؤس پہنچ گئے قائد کی طبیعت نڈھال ہو رہی تھی انہوں نے اپنی بہن کو بلایا اور کہا فاطمہ خدا حافظ اور کلمہ پڑھا لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔11ستمبر 1948 قائداپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی۔

وہ کب کا جا چکا ہے مگر چشم خیرہ میں

باقی ہے اس کے عکس رواں کا خمار سا

خود ہوگیا غروب مگر دشت تیرہ میں

پھرتا ہے اس کی روشنیوں کا غبار سا

تازہ ترین