جرمنی کے مشرقی حصے کی ریاست سیکسنی آنہالٹ میں دائیں بازو کی ایک ایسی جماعت کی حالیہ کامیابی نے پورے یورپ کی سیاست میں ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا مغربی معاشروں میں قوم پرستی، امیگریشن مخالف سیاست اور اسلام مخالف سوچ مضبوط ہورہی ہے؟ 6ستمبر کو ہونے والے انتخابات میںالٹرنیٹو فار جرمنی(AfD) نے43.8 فیصد ووٹ حاصل کیے اور ریاستی پارلیمان کی 83 میں سے 39نشستیں جیت لیں۔ یہ 2013ءمیں جماعت کے قیام کے بعد کسی بھی ریاستی انتخاب میں اسکی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایک سخت امیگریشن مخالف اور اسلام مخالف سیاسی قوت کا ریاستی سطح پر تقریباً 44فیصد ووٹ لینا یورپ کے بدلتے سیاسی مزاج کی طرف اشارہ ہے۔ انسان دوست اور انتہائی برداشت والے معاشرے میں ایسا کیوں ہوا تو اس کا جواب عام شہری کی بدلتی زندگی میں ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک کے شہریوں کو مہنگائی، مکانوں کے بڑھتے کرایوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں، پٹرول، روزگار، صحت اور تعلیم کے مسائل اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا رہا ہے۔ جب عام شہری کو عدم تحفظ ہو اور زندگی پہلے سے زیادہ مشکل محسوس ہو تو وہ حکومت اور روایتی سیاسی جماعتوں سے جواب مانگتا ہے۔اسی چیز کو دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں نے اپنی طاقت بنا لیا ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومتیں اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے بڑی تعداد میں باہر سے آنیوالے لوگوں پر وسائل خرچ کررہی ہیں ۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جرمنی کے معاشی مسائل کے ذمہ دار تارکین وطن ہیں؟ دائیں بازو کی جماعتوںکاکہنا ہے کہ بڑی تعداد میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی آمد سے ریاست کے وسائل پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ انکے مطابق جرمنی کو سستی توانائی، کم ٹیکس اور کم سرکاری رکاوٹوں کی ضرورت ہے۔ جرمنی کی طاقتور صنعت کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متاثر کیا ہے۔ سستی توانائی ماضی میں جرمن صنعت کی طاقت رہی، لیکن روسی گیس سپلائی کی مکمل بندش اور عالمی سطح پر توانائی مہنگی ہونے سے نہ صرف پیداواری لاگت بڑھ گئی بلکہ گھروں کیلئے گیس و بجلی کے نرخوں میں بھی کافی اضافہ ہو گیا۔ دائیں بازووالے اسی صورتحال کو بنیاد بنا کرکہتے ہیں کہ حکومت کی توانائی ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں نے جرمن صنعت کو تباہ کردیا ہے۔حقیقت تو یہ ہے جرمنی کی معاشی مشکلات صرف تارکین وطن کی وجہ سے نہیں ہوئیں۔ عالمی منڈی میں تبدیلی، عالمی تنازعے ، چین اور امریکہ سے بڑھتا مقابلہ، کم سرمایہ کاری، صنعتی شعبے کی مشکلات اور ملک کی عمر رسیدہ ہوتی آبادی بھی اس بحران کی وجوہات ہیں۔ مزید یہ کہ جرمنی کے اندر متعدد شعبوں میں ہنر مند کارکنوں کی کمی ہے اور بہت سے تارکین وطن انہی شعبوں میں کام کررہے ہیں۔ اس لیے امیگریشن کو جرمنی کے ہر معاشی مسئلے کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں۔ حالیہ چند برسوں میں شام ، افغانستان اور یوکرین سے آنیوالے لاکھوں نوجوان پناہ گزین خاص طور پر دائیں بازو کے قوم پرستوں کیلئے ناقابل قبول ہیں ، انکا مؤقف ہے کہ جرمنی کی برداشت کی ایک حد ہے اور ریاست کو پہلے اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ مخالفین کہتے ہیں کہ ہر مسئلے کو پناہ گزینوں سے جوڑنا درست نہیں۔ اس نازک بحث میں ثقافت اور مذہب بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یورپی ممالک میں یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ بڑی تعداد میں قانونی و غیر قانونی امیگریشن سے انکے معاشرے کی پرانی شناخت تبدیل ہورہی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مغربی اقدار اور اسلام ایک دوسرےسے متصادم ہیں اور نئے آنیوالوں کو یورپی قوانین اور ثقافتی اقدار کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے۔ اسی حوالے سے چند قوم پرست متعصب لیڈران کا ’’ری مائیگریشن‘‘ کا تصور بھی سامنے آتا رہا ہے جسکے مطابق سفید فام ممالک میں آنیوالے تمام رنگدار نسل کے لوگوں کو بیدخل کرنے بات کی گئی ہے ۔ سن 2023میں جرمنی کے شہر پوٹسڈیم میں ایک ملاقات میں آسٹریا کے مارٹن سیلز نے ’’ری مائیگریشن‘‘ کا منصوبہ دہرایا تھا، جہاں جرمن دائیں بازو سے وابستہ افراد بھی موجود تھے جنکے خیال میں صرف غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنا کافی نہیں، بلکہ ایسے غیر ملکیوں کی واپسی بھی ہونی چاہیے جنہیں سخت گیر قوم پرست حلقے جرمن معاشرے میں مناسب طور پر ضم نہ ہونے والا سمجھتے ہیں۔ اس انتہا پسندانہ سیاست کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام اور امیگریشن کے خلاف آواز اٹھانے والی یہ قوم پرست قوتیں یہودی حلقوں کی تشویش کا باعث بھی بنی ہوئی ہیں ۔ جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک کی چند یہودی تنظیمیں قوم پرست جماعتوں کے بعض خیالات پر تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں۔جرمنی سے باہر دیکھیں تو یہی رجحان یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ ہنگری اور پولینڈ کی امیگریشن مخالف حکمت عملی مغربی دنیاکے قوم پرستوں کیلئے مثال بن گئی ہے ۔ ان حکومتوں کا مؤقف ہے کہ سرحدوں، قومی شناخت اور مقامی روزگار کا تحفظ ضروری ہے۔ برطانوی ریفارم پارٹی کے نائجل فراج ، فرانس میں میرین لی پین کی نیشنل ریلی پارٹی اور ہنگری کے سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان جیسے انتہا پسند لیڈروں کی امیگرنٹ مخالف نسل پرستی کی سیاست اور بڑھتی مقبولیت مغربی دنیا میں سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔ امریکہ ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی امیگریشن کے اثرات پر بحث تیز ہوئی ہے۔ اس پورے منظر نامے میں ایک حقیقت اہم ہے: مغرب میں قوم پرستی اور انتہا پسندی صرف اسلام یا امیگریشن کی وجہ سے نہیں بڑھ رہی۔ اسکے پیچھے وسائل میں کمی ، مہنگائی، رہائش کا بحران، روزگار، توانائی کی قیمتیں، جرائم کے حوالے سے خوف، قومی شناخت اور روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوسی بھی شامل ہے۔ جب حکومتیں ان مسائل کا تسلی بخش جواب نہیں دیتیں تو وہ جماعتیں مضبوط ہوتی ہیں جو عوام کے غصے اور خوف کو سیاسی نعرے میں تبدیل کرسکتی ہیں۔
پاکستان کیلئےبھی اس صورتحال کا اثر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ مغربی ممالک میں امیگریشن مخالف سیاست اور قوانین نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کا راستہ مشکل کردیا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک کے امیگریشن قوانین میں مزید سختی سے پاکستان جیسے ملکوں کے نوجوانوں کے بیرون ملک جانے کے مواقع بھی سکڑیں گے، اعلیٰ تعلیم ، سائنس اور ٹیکنالوجی تک رسائی کم ہو گی ، علاوہ ازیں ملک کو حاصل ہونیوالی ترسیلات زر میں بھی کمی آئیگی۔ ان بدلتے عالمی حالات حالات کے تناظر میں پاکستان کی ریاست اور عوام خصوصاً نوجوان نسل کو اپنی حکمت عملی نئی ترتیب کیساتھ تشکیل دینی ہوگی ۔
( صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)