• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل مرکزی حکومت بہت زیادہ مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مرکزی حکومت دنیا بھر کے جنگ وجدل میں مصروف حکومتوں کے درمیان صلح صفائی کرانے کے کام میں لگی ہوئی ہے۔ فی الحال ہماری مرکزی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیاں امن، بھائی چارہ اور دوستی کو دوبارہ مروج کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ہماری مرکزی حکومت اپنی دیرینہ کوششوں میں کامیاب ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں ہماری مرکزی حکومت نے ترکیہ اور سعودیہ سے ملکر معاہدہ کرلیا ہے مقصد کسی ایک بڑی طاقت کے کام آنا نہیں ہے۔ مقصد صرف ایک ہےاپنا دفاع۔سنا نہیں ہے کہ مستقل امن کے لیے مستقل طور پرجنگ لڑنے کی تیاریوں میں لگے رہو۔ دنیا کے اس حصے میں ہم امن چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہماری مرکزی حکومت کچھ بھی کرسکتی ہے۔ ہماری مرکزی حکومت نے ترکی اور سعودیہ حکومتوں سے ملکرعہد نامہ کرلیا ہے کہ جب بھی ضرورت آن پڑی یہ تینوں ممالک ملکر اپنا دفاع کریں گے۔ کسی دوسری حکومت پر حملہ نہیں کریں گے ۔یہ سب اپنی جگہ بے انتہا اہم ہے۔ مگر اصل میں اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے ہماری مرکزی حکومت بہت مصروف دکھائی دے رہی ہے۔

آپ توجانتے ہیں کہ تقریباً اسی برس بعد پاکستان کے چار صوبوں میں چھوٹے بڑے پیمانے پرکاٹ کوٹ ہونے والی ہے۔ پانچویں صوبے نے پچاس برس پہلے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ وہ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ تب پھولوں کے گل دستے بانٹے تھے صوبوں نے آپس میں۔چاروں باقی ماندہ صوبوں میں اب یہی ہونے والا ہے۔ خوب پھول اور مٹھائیاں بانٹی جائیں گی۔ سردست ، بننے والے نئے صوبوں میں لگانے کے لیے مرکزی حکومت کو لائق فائق گورنروں کی ضرورت ہے۔ کوئی بنی بشر پیدائشی طورپر گورنر بن کر اس دنیا میں نہیں آتا۔ اسے خود کواس لائق بنانا پڑتاہے کہ وہ ہر زاوئیے سے آپ کو گورنر دکھائی دے۔ مرکزی حکومت کو سردست دس پندرہ ایسے لائق لوگوں کی تلاش ہے جو ہر لحاظ سے لگنے کے بعد گورنر دکھائی دیں۔ یادرہے کہ صوبوں کا گورنر لگانا مرکزی حکومت کا کام ہے۔ اس وقت چاروں صوبوں میں لگے ہوئے گورنر مرکزی حکومت کے ملازم ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے صوبوں کے گورنر نہیں بنے ہیں۔ ان کو مرکزی حکومت نے صوبوں کا گورنر لگایا ہے۔ ان کو گورنر بنانا ہے۔ اس ذمہ داری میں صروف ہے مرکزی سرکار آج کل۔ مرکزی حکومت نہیں چاہتی کہ کسی عیب دار یا ناقص شخص کو کسی صوبے کا گورنر لگایا جائے ۔بات ہے بننے والے نئے صوبوں کو چلانے کی۔ آپ عاقل بالغ ہیں۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ کوئی بھی ایرا غیرا صوبے کا گورنر نہیں لگ سکتا ہے۔ مگر آپ پاکستان میں کسی صوبے کا گورنر نہیں لگ سکتے، گورنرلگنے کے لیے آپ کا پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں ہے۔ دوتین ایم اے اور ایم فل سے کام نہیں چلے گا ۔ گورنر لگنے کے لیے دوسرے قسم کی سند، اہلیت،اور قابلیت کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ دوچار مثالوں سے معاملہ صاف دکھائی دینے لگے گا۔ ایک صاحب کی گورنری سے لوگ بہت متاثر تھے۔ وہ صاحب پی ایچ ڈی نہیں تھے۔ ان کے پاس دوچار ایم اے کی ڈگریاں بھی نہیں تھیں۔ سنا ہے کہ وہ صاحب میٹرک کے آس پاس پڑھے ہوئے تھے۔ مگر میڑک پاس کرنے میں وہ ناکام رہے تھے۔ اصل میں ان کے لیے یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی، وہ اس طرح کہ ان کا ہیڈ باورچی کیلیفورنیا یونیورسٹی سے دنیا بھرکے کھانے پکانے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرچکا تھا۔ گورنری چلانے کے لیے انہوں نے اپنے اسٹاف میں دوچار ایم اے کی ڈگریاں رکھنے والوں اور ڈاکٹروں، پی ایچ ڈی والے ڈاکٹروں کو کام دھندے سے لگایا ہوا تھا۔

ایک صوبے کے گورنر نامی گرامی سردار تھے۔ سکھوں والے سردار جی نہیں، بلکہ قبیلوں کے سردار تھے۔ اس میں غلطی کی کسی قسم کی گنجائش نہیں ۔ وہ اپنا قبیلہ اپنی بھرپور قابلیت سے چلاتے تھے۔ کاروکاری اور قتل وغارتگری کے جرگے اپنی اوطاقوں میں عملداروں کی موجودگی میں لگاتے تھے اور فیصلے سناتے تھے۔ ان کی گورنری کے دوران پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ صوبہ چلارہے ہیں؟ یا صوبے کو اپنا قبیلہ سمجھتے ہیں؟ ایسے گورنروں کی تلاش ہے نئے صوبے چلانے کے لیے مرکزی سرکار کو۔

اگر آپ کے پاس ایسی کوئی غیرمعمولی قابلیت،اہلیت اور سند ہے تو پھر آپ بھی کسی نئے چھوٹے سے صوبے کا گورنر لگنے کے لیے اپنی درخواست مرکزی حکومت کو بھیج سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے، بننے والے چھوٹے چھوٹے صوبوں کو مزید چھوٹا کرنے کی ضرورت پڑجائے۔ اس سے مزید گورنروں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کسی چھوٹے سے صوبے کا گورنر لگ جائیں۔آپ کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔

تازہ ترین