بی سی سی آئی کے سابق چیف سلیکٹر اور سابق بھارتی کرکٹر کرشنماچاری سری کانت نے افغانستان کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں ویبھو سوریاونشی کو پلیئنگ الیون سے باہر کرنے پر گوتم گمبھیر اور بھارتی ٹیم مینجمنٹ پر شدید تنقید کی ہے۔
کرشنماچاری سری کانت نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویبھو سوریاونشی کو پلیئنگ الیون سے باہر کرنے کے فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوریا ونشی کو ٹیم سے باہر دیکھ کر میری اہلیہ بھی حیران ہو گئیں اور یہ سوال اٹھایا کہ گزشتہ میچ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کو اگلے میچ میں کیوں نہیں کھلایا گیا؟
اُنہوں نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کو سوریا ونشی کے ساتھ مناسب رویہ اختیار کرنا چاہیے، نوجوان کھلاڑی کو مسلسل مواقع دیے جانے چاہئیں کیونکہ بار بار ٹیم سے اندر باہر کیے جانے سے اس کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کرشنماچاری سری کانت نے سنجو سیمسن کے ساتھ ٹیم مینجمنٹ کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ سنجو سیمسن کو بھی کبھی ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے اور کبھی باہر کر دیا جاتا ہے، یہ درست حکمتِ عملی نہیں۔
کرشنماچاری سری کانت نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ سیمسن کو مسلسل مواقع دینا چاہتی ہے یا سوریا ونشی کو چند میچز میں مستقل موقع دینا چاہتی ہے کیونکہ اس طرح دونوں کھلاڑیوں کو وقفے وقفے سے صرف 1 یا 2 میچ کھلانا مناسب نہیں۔
واضح رہے کہ ویبھو سوریا ونشی نے زمبابوے کے خلاف بھارت کی گزشتہ ٹی20 سیریز میں’پلیئر آف دی سیریز‘ کا اعزاز حاصل کیا تھا لیکن افغانستان کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں بھارتی ٹیم مینجمنٹ کی سے ان کی جگہ سنجو سیمسن کو ٹیم میں شامل کیا گیا جو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ رہنے کے باوجود حالیہ عرصے میں ٹیم سے اندر باہر ہوتے رہے ہیں۔
سنجو سیمسن اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور صرف 10 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
اب افغانستان کے خلاف دوسرے ٹی20 میچ میں سب کی نظریں اس فیصلے پر ہیں کہ بھارتی ٹیم مینجمنٹ دوبارہ سوریا ونشی کو موقع دیتی ہے یا پھر سنجو سیمسن پر اعتماد برقرار رکھتی ہے۔