پاکستان کے روشن مستقبل بلوچستان سے اچھی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ قلات پبلشرز کوئٹہ کے زیراہتمام چھپی میری کتاب ’’بلوچستان سے بے وفائی‘‘ شیلف سے مجھے آواز دے رہی ہے 2021 ء میں شائع ہونے والی یہ تصنیف کہہ رہی ہے۔ ہم نے مشرقی پاکستان کو سمجھنے میں بڑی دیر کر دی تھی اب بلوچستان کو سمجھنے میں دیر کر رہے ہیں۔ بلوچوں، پشتونوں، سرائیکیوں، پنجابیوں، نئے پرانے سندھیوں، کشمیریوں، گلگتیوں کی نئی نسلیں اسلام آباد، پنڈی، کراچی، کوئٹہ، پشاور کو دعوت فکر دیتی آرہی ہیں مگر ہم اس زعم میں ہیں کہ ہم سے زیادہ کوئی سمجھدار نہیں۔ ہمیں بلوچستان کی گزشتہ صدیوں میں بھی جھانکنا چاہئے۔ یہ صدی جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ ریگزاروں میں چھپے معدنی وسائل نکالنے کی صدی ہے بلوچستان پاکستان کی جان ہے۔ ہم اسے وہ اہمیت نہیں دے رہے جو ہمارے دشمن اسے دے رہے ہیں۔ نوجوان کہیں کے بھی ہوں، کسی صوبے، کسی علاقے کے وہ محبت کے بھوکے ہیں کہیں سرداروں ، جاگیرداروں کی نسلیں اکثریت کو آپس میں نہیں ملنے دیتیں۔ کہیں سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں کے قبیلے ان کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں۔
پانچ سال پہلے ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ویسے تو واہگہ سے گوادر تک ہی بہت خلفشار ہے۔ آٹھ دہائیوں سے مجھے تو آگہی آنچ دے رہی ہے۔ ہر علاقے کے درد مندوں سے کھل کے باتیں ہوتی رہی ہیں مگر آخر میں کہہ دیا جاتا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کوئی فائدہ نہیں ہے بات کرنے کا۔ اکادمی ادبیات پاکستان لائق تحسین ہے کہ انہوں نے کمال فن کا ایوارڈ برائے 2025ء ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کے نام کیا ہے۔ ڈاکٹر موصوف کا براہوی زبان کیساتھ ساتھ اردو میں بھی بہت کام ہے۔ اس سے پہلے یہ ایوارڈ بلوچستان سے عبداللہ جان جمالدینی، پروفیسر نادر، پروفیسر صبا دشتیاری اور منیر احمد بادینی کے نام کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان صرف معدنی وسائل سے ہی نہیں ثقافت، ادب، فکر، حکمت اور فلسفے سے بھی مالا مال ہے۔ بلوچستان میں ہر زبان کی کتابیں دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ پڑھی، زیادہ خریدی جاتی ہیں۔ تربت گوادر پشین کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں سال کے دوران کتاب میلے سجتے رہتے ہیں ۔
مجھے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ آر سی ڈی ہائی وے پر کوئٹہ سے نوشکی ایک ادبی میلے میں جانا ہوا تو ویران راستوں پر متعدد مقامات پر دینی مدارس کے بورڈ نظر آئے ۔نوشکی کے اسٹیڈیم میں کتابوں کے اسٹال بھی تھے اور اسکولوں کے بچوں نے اپنے پروجیکٹ کے اسٹال بھی سجا رکھے تھے۔ میں نے واپس آکر اپنے قارئین کو خبردار کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہتھیار اٹھائیں۔ آٹھویں نویں اور دسویں کے ہونہار نوجوانوں نے سائنسی تجربات کر رکھے تھے۔ کسی نے ویکیوم کلینر بنایا ،کسی نے الارم کی گھنٹی کسی نے ریڈیو اسٹیشن اور اس طرح کے منفردآلات۔ میں نے کراچی، لاہور، اسلام آباد ،فیصل آباد کے صنعت کاروں سے اپیل کی تھی کہ ان بچوں کے پروجیکٹس کیلئے سرمایہ کاری کریں۔ افسوس ہے میری درخواست صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ ہم اٹھتے بیٹھتے صرف حکمرانوں، سیاستدانوں پر اپنے تیر چلاتے رہتے ہیں لیکن ہمارے تاجروں، صنعتکاروں اور کثیر القومی کمپنیوں کے مالکان کا رویہ بھی صرف منافع اندوزی تک محدود ہے۔ قوم کی تعمیر ریاست کا استحکام نہیں ہے۔ میری عرض یہی رہی ہے کہ ہم جو کچھ کاٹ رہے ہیں وہ ہم نے ہی بویا تھا۔ بعض ہم عصر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ معمول کے مطابق ہو رہا ہے۔ تو مجھے باریسال، کھلنا ،ڈھاکہ، چٹاگانگ، راج شاہی یاد آجاتے ہیں۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری اشرافیہ پہلے جو تجربات کرتی رہی ہے انکا منطقی اور تاریخی نتیجہ ہے۔ گھبراہٹ ضرور ہوتی ہے لیکن جب مجموعی طور پر 19ویں 20ویں اور 21ویں صدی کو سامنے رکھتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ’’رات دن گردش میں ہیں سات آسماں... ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘۔ سب کچھ آپس میں مربوط ہے۔ تحریک پاکستان کہہ لیجئے۔ تحریک آزادی۔ تحریک احیائے علوم۔ یہ تحریکیں چلتی رہتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس پر حکمران اثر انداز ہوتے ہیں۔ مگر یہ ایک خود فریبی ہوتی ہے۔ جو اصلی رہبر ہوتے ہیں وہ تو دنیا بدل دیتے ہیں لیکن جو محض حاکم وقت ہوتے ہیں انکو تو یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے ہاتھوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔
جو کچھ ہو رہا ہے وہ یقیناً ایک مہذب ملک کی روایت نہیں ہے۔ بندہ پرور خواجگی نہیں ہے۔ ایک عمل ضرور ہے۔ میں سمجھتا ہوں تحریک اب بھی چل رہی ہے ہر علاقے کے لوگ خود مختاری، خودداری اور خود کفالت کیلئے سرگرم ہیں ۔جمہوری نظام کے ادارے اسمبلیاں، بلدیاتی ادارے اپنے لوگوں کی آواز ہوتے ہیں۔ انتخابی حلقوں سے حقیقی بنیادوں پر منتخب لوگ اپنے اپنے لوگوں کی سوچ پارلیمنٹ میں بلند آواز میں پہنچاتے ہیں۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتیں انکی روشنی میں اپنی پالیسیاں مرتب کرتی ہیں۔ جمہوری عمل چند دنوں میں نہیں صدیوں میں مکمل ہوتا ہے۔ امریکہ جس نے ابھی جولائی میں اپنی جمہوریت کی 250 ویں سالگرہ منائی۔ کیا ٹرمپ کی صدارت میں وہاں کے لوگ اپنے آپ کو مکمل جمہوری سمجھتے ہیں۔ اتنے مستحکم اداروں والی ریاست بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی اگر اضطراب ہے تو امریکی حکمرانوں کا دم بھرنے والی ریاستوں میں بے چینی عین فطری ہے۔ کسی بھی ریاست میں جب فیصلوں میں ملک گیر مشاورت نہ ہو ،ہر شعبے کی رائے نہ لی جا رہی ہو تو یہ ریاست صرف اپنے ہاں نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ میں بھی ایک خلا پیدا کرتی رہتی ہے۔ باہر کے مستحکم اور قانون کی حکمرانی کرنیوالے معاشروں میں شدت سے اسکا احساس کیا جاتا ہے اسلئے نہ صرف اس ریاست میں بلکہ پورے خطے میں کچھ کمی کا تاثر پختہ ہوتا جاتا ہے۔ میری صدا تو یہی رہی ہے کہ نہ صرف جمہوری سیاسی انداز میں اکثریت کو فیصلہ سازی میں شریک کریں بلکہ علمی، سماجی، قانونی، عمرانی، تہذیبی، ثقافتی، تعلیمی بنیادوں پر بھی ماہرین کو اور ہر عمر کے نوجوانوں کو قومی مشاورت میں شامل کیا جائے۔ ہمارے بہت سے درد مند پاکستانیوں نے ہر صوبے میں ایسی انجمنیں بنائی ہوئی ہیں۔ مکالمے شروع کر رکھے ہیں۔ تحقیقی ادارے ہیں، انسٹیٹیوٹس ہیں۔ ان سب کی تحقیق پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔ جب اسمبلیاں ،سینٹ کے ارکان صرف اپنی مراعات کی فکر کرتے ہوں اور جب کوئی حقیقی مسائل کی طرف توجہ دلائے تو ٹی وی اس کا مائیک بند کر دے تب تحقیقی اداروں یونیورسٹیوں اور ثقافتی ادبی اداروں کے مباحث کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اب جس طرح نئے صوبوں پر مباحث بہت خشوع اور خضوع سے کروائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ملک کی اقتصادی بدحا لی، غربت کے پھیلاؤ ،امریکہ، انڈیا، چین، مشرق وسطیٰ پالیسیوں پر بھی کھلی بحث ہونی چاہئے۔ خاص طور پر بلوچستان میں ہمارے ماہرین کو جا کر حقیقت حال معلوم کرنی چاہئے۔