عاطف سعید کی بیگم نوشی اپنے والدین کے پاس نیدرلینڈ گئی ہوئی تھی۔ میاں بیوی ہجر کے دن وڈیو کالز کے سہارے کاٹتے رہے، نوشی اپنی پیاری پیاری تصویریں بھیجتی تھی، اور عاطف (طیفی) جواباً کشور کمار کے عشقیہ گانے اپنی آواز میں ریکارڈ کر کے بھیجتا، ان گانوں میں ’’پل پل دل کے پاس تم رہتے ہو‘‘ اور ’’کیا یہی پیار ہے‘‘ بھی شامل تھے۔ ہجر کے دن تمام ہوئے، پچھلے ہفتے نوشی قریباً دو ماہ بعد پاکستان واپس آ گئی۔ طیفی اور نوشی کوئی نوبیاہتا جوڑا نہیں ہیں، ان کی شادی کو لگ بھگ دو دہائیاں بیت چکی ہیں، مگر کچھ عرصے سے وہ دوبارہ ’’مبتلا‘‘ دکھائی دینے لگے ہیں۔ نوشی کی واپسی کے بعد دونوں میاں بیوی نے گھر پر ہی ہنی مون منانے کا ارادہ کیا، دنیا سے بے خبر، ایک دوسرے میں گم۔ ایک ہفتے کے بعد دونوں طلوع ہوئے۔ ایک دوست کو نومولود کی مبارک باد دینے اس کے گھر پہنچے۔ کچھ ہی دیر میں طیفی نے سینے میں جلن کی شکایت کی اور کوئی فزی ڈرنک مانگا، مشروب کا ایک گھونٹ پیا، اور سر نوشی کے کاندھے پر رکھ دیا۔ نوشی نے ہنستے ہوئے کہا ’’مجھے ڈرانے کی کوشش نہ کریں اور مرنے کی اداکاری بند کریں۔‘‘ طیفی اداکاری نہیں کر رہا تھا، طیفی کی حرکتِ قلب بند ہو چکی تھی، طیفی مر چکا تھا۔
طیفی لگ بھگ 50سال کا تھا، 6 فٹ کا وجیہ مرد، اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا، ہمارے خاندان میں سب سے ہنسوڑ اور پر تپاک اطوار والا۔ اس کی تعزیت کیلئے آنے والے قریباً سب ہی احباب بتا رہے تھے، ابھی کل بات ہوئی تھی، ابھی پرسوں ملاقات ہوئی تھی، یعنی چلتے پھرتے، چہلیں کرتے طیفی چلا گیا۔ ایسی موت دلوں پر گہرا اثر کرتی ہے۔ زندگی کی بے ثباتی برہنہ ہو کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ مگر حضرتِ انسان بھی وہ ڈھیٹ مخلوق ہیں کہ اس جذباتی فضا سے نکلتے ہی پرانی ڈگر پر چل نکلتے ہیں، اللہ اللہ خیر سلا۔ طیفی ایسی چھوٹی عمر میں کیوں چلا گیا؟ ننانوے فی صد تعزیتی جملے سنیے۔ اللہ کو یہی منظور تھا، جو رات قبر میں آنی ہے وہ قبر میں ہی آنی ہے، ایک ایک سانس لکھا ہوا ہے، نہ ایک سانس زیادہ لے سکتے ہیں نہ ایک کم۔ یہ سب جملے ہمارے دینی عقائد کی روشنی میں درست ہیں یہ سب سچ ہے۔ مگر اس کی تشریح میں اپنی صحت سے غفلت تو شامل نہیں ہے۔اس کرہ پر 1950ءمیں اوسط عمر قریباً 46سال ہوا کرتی تھی، 1970ءمیں 56سال، 1990ء میں 64سال، 2000ءمیں 67سال اور آج اس کرہ پر انسان کی اوسط عمر 73سال سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی 1950ءسے آج تک اوسط عمر میں لگ بھگ 25سال کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جبکہ پاکستان میں تو اوسط عمر میں اضافہ کی شرح اور بھی زیادہ ہے، یہ 1950ءمیں قریباً 34 سال تھی جو آج 68سال تک پہنچ چکی ہے۔ ہمارا عقیدہ درست ہے کہ جو رات قبر میں آنی ہے سو آنی ہے، مگر اس عقیدہ کی عمومی تشریح میں مسائل نظر آتے ہیں۔اسی نسبت سے ایک واقعہ اور بھی سن لیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بیگم صاحبہ ایک دل کے ڈاکٹر سے فون پر اپائنٹمنٹ لے رہی تھیں، اسی دوران ہمارا گزر بھی وہاں سے ہوا، بیگم صاحبہ نے ہم سے اشاروں میں پوچھا کہ آپ کی اپائنٹمنٹ بھی لے لوں، ہم نے اشارے سے ’’ہاں‘‘ کر دی حالانکہ ہمارے تازہ میڈیکل ٹیسٹ قابلِ رشک تھے، شوگر کا کوئی مسئلہ نہیں، بلڈ پریشر بہترین، کلیسٹرول متوازن، اور بھی سب اشاریے تسلی بخش تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمارا ایکسرسائز ٹولرنس ٹیسٹ (ای ٹی ٹی) اور الیکٹروکارڈیو گرام (ای سی جی) ٹیسٹ کروایا، انکے نتائج بھی بہترین آئے۔ ہم نے اپنی کل شام کی ایک گھنٹہ واک کا احوال سنا کر ڈاکٹر صاحب کو داد طلب نظروں سے دیکھا۔ ہمیں رخصت کرنے سے پہلے انہوں نے ایک بار سٹیتھو سکوپ سے ہمارا معائنہ ضروری سمجھا۔ معائنہ کے بعد ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ الحمداللہ آپ کی ہر شئے درست ہے، مگر میں چاہتا ہوں کہ آپ لگے ہاتھوں سی ٹی اینجیو ٹیسٹ بھی کروا لیں، یعنی شریانوں کا ایکس رے۔ اگر کوئی پرائیویٹ ہسپتال ہوتا تو سو فی صد سمجھا جاتا کہ ڈاکٹر صاحب کمائی کے موڈ میں آ گئے ہیں، ورنہ ان رپورٹوں کے بعد مزید ٹیسٹ کی کیا ضرورت ہے۔ خیر، ابھی آدھا ٹیسٹ ہوا تھا کہ لیب والوں نے بتایا کہ شریانوں میں ناجائز تجاوزات کی کثرت کے باعث ٹیسٹ روک دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اینجیو گرافی کا حکم دیا۔ ہمیں سمجھ آگئی کہ اب دل میں ایک آدھ سٹنٹ پڑے ہی پڑے۔ اینجیو گرافی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ہمیں انتہائی متانت سے ہماری داخلی صورتِ احوال سمجھائی، اور ہمارا ہاتھ تھام کر ٹیپ کا مصرع ادا کیا ’’آپ کی ٹرپل ویسل، اوپن ہارٹ، بائی پاس سرجری ہو گی۔‘‘ ہم نے پوچھا سرجری کب کروانی چاہیے؟ فرمانے لگے کہ اصولاً تو آپ کو ہسپتال سے جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیوں کہ اس کنڈیشن کو "Widow-maker" کہتے ہیں، یعنی ’’بیوہ ساز‘‘ اور یہ جو آپ سنتے ہیں کہ بس بات کرتے کرتے گردن ڈھلک گئی، تو وہ یہی بیماری ہوتی ہے۔ ہمارا قصہ طویل ہے، پھر کبھی سہی۔ بہرحال، ہم نے تین دن بعد ہارٹ بائی پاس کرا لیا تھا، اور اب تین سال سے اچھے خاصے جی رہے ہیں۔بے شک موت کا ایک وقت معین ہے، جو رات قبر میں آنی ہے سو آنی ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ آج سے سو سال پہلے ترقی یافتہ دنیا میں بھی ایک ہزار میں سے قریباً 200 بچے پیدائش کے کچھ مہینوں کے اندر مر جاتے تھے، آج ان ملکوں میں یہ تعداد اوسطً چار بچے فی ہزار رہ گئی ہے۔ہمیں اور طیفی کو ہو بہو ایک ہی مرض تھا، طیفی نے خود سے بے رخی برتی، وہ ابھی ہمیں اور گیت سنا سکتا تھا۔