یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور سعودی عرب پر مسلسل حملوں نے 7اگست کو ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونیوالے مکہ معاہدے کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔مکہ معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائیگا اور کسی بھی دفاعی معاہدے کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اسکی شقوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے اور آبنائے باب المندب کے اہم مایون جزیرے پرقبضے نے صورتحال کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے اور عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں عدم استحکام صرف سعودی عرب یا یمن کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کو متاثر کرسکتا ہے۔ترکیہ نے اب تک حوثیوں کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کاروائی میں شرکت کا عندیہ نہیں دیا۔ انقرہ نے 8 ستمبر کو حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت ضرور کی، لیکن اسکے سرکاری رویے میں واضح احتیاط نظر آتی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا مکہ معاہدے کے حوالے سے یہ بیان اہم ہے کہ مشترکہ دفاع کی شق تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس شق کے تحت فوجی مداخلت خودکار طور پر لازم ہوجائیگی۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاہدے کی سیاسی زبان اور عملی عسکری ذمہ داری میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔کسی ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنا ایک مضبوط سیاسی عزم ضرور ہے، لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ہر صورتحال میں تینوں ممالک اپنی فوجیں میدانِ جنگ میں اتار دیں گے۔ترکیہ کیلئے یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ وہ خود کو خطے میں ایک ایسی طاقت بنانا چاہتا ہے جو سفارتکاری، دفاعی تعاون اور سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے اپنا کردار بڑھانا چاہتی ہے۔ حوثیوں سے براہِ راست جنگ ، اس پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ترکیہ کی معیشت بھی کسی طویل جنگ کا بوجھ آسانی سے برداشت نہیں کرسکتی۔ سعودی عرب کیساتھ اس کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو دیکھتے ہوئے انقرہ کیلئےشاید زیادہ قابلِ عمل راستہ یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور دیگر عسکری سازوسامان کے ذریعے مضبوط کرے، بجائے اس کے کہ اپنے فوجی دستے یمن کے محاذ پر بھیجے۔سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط دفاعی، سیاسی اور اقتصادی شراکت داری پر قائم ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ تعلقات اسلام آباد کیلئے مزید اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ اگر سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ریاض مکہ معاہدے کی دفاعی شق کے تحت پاکستان سے عملی مدد طلب کرتا ہے تو اسلام آباد کیلئے مکمل انکار آسان نہیں ہوگا۔تاہم یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ پاکستان لازماً اپنی فوج یمن بھیجے گا۔ بیرونِ ملک کسی جنگ میں براہِ راست شرکت ایک حساس سیاسی اور عسکری فیصلہ ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کیساتھ اپنے تاریخی تعلقات، علاقائی سلامتی، داخلی سیاسی صورتحال اور اپنی فوجی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ترکیہ میں معاملہ مزید پیچیدہ ہے۔ ترک حکومت کو خارجہ پالیسی کے ساتھ داخلی سیاسی رائے کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اپنی جگہ، لیکن کسی طویل اور غیر واضح جنگ میں ترکیہ کی براہِ راست شرکت کو ملک کے اندر سیاسی مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔چنانچہ انقرہ کیلئے سب سے محفوظ راستہ غالباً یہی ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے اور اپنے جنگی سازو سامان کے ذریعے سعودی عرب کو عسکری مدد فراہم کرتا رہے ، یوں عسکری تعاون ترکیہ کیلئے جنگ میں براہِ راست شرکت کے بجائے ایک تزویراتی اور اقتصادی موقع بن سکتا ہے۔امن کے زمانے میں دفاعی معاہدوں کی زبان ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے، تاہم جنگ کے آغاز پر ہر ملک اپنے قومی مفادات کا حساب کرتا ہے۔ سعودی عرب کیلئے یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کی ضمانت ہے، پاکستان کیلئے تاریخی اور اسٹرٹیجک وابستگی کا امتحان، جبکہ ترکیہ کیلئے علاقائی طاقت کے بڑھتے ہوئے کردار اور محتاط خارجہ پالیسی کے درمیان توازن کا سوال ہے۔ترکیہ کیلئے دانش مندی شاید یہی ہوگی کہ وہ سعودی عرب کودفاعی تعاون اور جدید عسکری ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہوئےاپنے اتحادی کیساتھ کھڑا رہےنہ کہ جنگ میں کود جائے۔
پاکستان کیلئےبھی بہترین راستہ جذباتی فیصلے کے بجائے اپنے قومی مفادات اور معاہدے کی ذمہ داریوں میں توازن قائم کرنا ہوگا۔ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے اہم ہے، لیکن کسی بھی فوجی اقدام کی نوعیت، دائرہ کار اور مدت کا تعین انتہائی احتیاط سے ہونا چاہیے۔آخرکار مکہ معاہدے کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان یا ترکیہ کتنی جلدی اپنے فوجی دستے سعودی عرب بھیجتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ تینوں ممالک ایسا اجتماعی دفاعی نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہوں جو سعودی عرب کی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔آج حوثیوں کے حملے صرف سعودی عرب کے دفاع کا مسئلہ نہیں رہے۔ یہ مکہ معاہدے کی ساکھ، پاکستان کی اسٹرٹیجک وابستگی اور ترکیہ کی علاقائی حکمتِ عملی کا بھی امتحان بن چکے ہیں۔اگر حالات اس مقام تک پہنچ گئے جہاں معاہدے کے الفاظ کو میدانِ جنگ میں عملی شکل دینا ناگزیر ہوگیا تو دنیا کی نظریں اسلام آباد اور انقرہ پر ہوں گی اور یہی ان ممالک کا اصلی امتحان ہوگا۔