• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کو دیکھا ہے ،جو سڑک کنارے نشہ کر رہا ہو۔حیرت سے آدمی سوچتا ہے کہ یہ شخص خود کو سنبھالنے کی کوشش کیوں نہیں کرتا۔ کیا اپنے ماں باپ اور اولاد کی خاطر بھی وہ نشہ نہیں  چھوڑ سکتا ۔ اس شخص کو دیکھنے والا سوچتا ہے کہ اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو اپنی قوت ارادی سے کام لے کر نشہ چھوڑ دیتا؛حالانکہ اس کی جگہ دنیا کا کوئی بھی شخص اس نشے کی لذت پا چکا ہو، وہ کبھی اسے چھوڑ نہیں سکے گا۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اسے زنجیروں سے باندھ دیا جائے ۔ ڈاکٹر کی زیرِ نگرانی رفتہ رفتہ ایک طویل عرصے میں بتدریج اسے نشے سے باہر نکالا جا سکتاہے اور وہ بھی اسی صورت میں کہ کم ڈوز اسے دی جاتی رہے ۔ وجہ کیا ہے ؟ جب وہ نشہ کرتاہے تو دماغ میں ڈوپامائن اور دوسرے کیمیکلز کا بے تحاشا اخراج ہوتاہے ، جو اسے ایسی لذت سے گزارتا ہے ، جسکے بعد اسے کسی اور چیز کی آرزو نہیں رہتی ۔ ’’ خود سے خدا تک‘‘ نامی عظیم کتاب کے مصنف ، میرے دوست ناصر افتخار نےایک بار کہا تھا :نشہ باہر نہیں بلکہ دماغ کے اندر ہوتاہے ۔ منشیات کا کام صرف اسے ٹرگر کرنا ہوتا ہے ۔

نشہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ انسان منشیات استعمال کرے ۔ سگریٹ پینے والے بھی نہیں چھوڑ پاتے ۔ جو لوگ پان چھالیہ کے عادی ہوتے ہیں ، وہ بھی پورا دن اسی کارِ خیر میں مصروف رہتےہیں ؛خواہ دانت ختم ہو جائیں ۔ دنیا میں جو بھی شخص اپنی خواہشات کا اسیر ہو جاتا ہے، وہ کبھی ختم نہ ہونیوالے نشے کا عادی ہوجاتا ہے ۔ جو لوگ دوسرے انسانوں کی توہین کے عادی ہوجاتے ہیں ، تذلیل کا ہنر ان کیلئے ایک نشے کی مانند ہوتاہے اور یہ ہنر سوشل میڈیا پہ آپ روزانہ دیکھتے ہیں ۔ عظیم ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ملک حسین مبشر نے ایک بار کہا تھا : جو لوگ دولت اکٹھی کرنے کے عادی ہوجاتےہیں ، انہیں باقاعدہ ذہنی علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کیا یہ بھی ایک ذہنی بیماری نہیں کہ چند منٹ بھی آپ سمارٹ فون سکرول کیے بغیر گزار نہیں سکتے ۔ بہت سے بچے موبائل کی وجہ سے ورچول آٹزم کا شکار ہورہے ہیں ؛حالانکہ پیدائشی طور پر وہ صحتمند دماغ رکھتے ہیں ۔ دانشور جو حکمرانوں کی مدح سرائی کرتے رہتے ہیں ، کیا وہ نارمل ہیں ؟ 

اسی طرح غذائیت میں ایک چیز ہوتی ہے ، جسے شوگر سپائک کہتے ہیں ۔ بار بار آپ کا دل کرتاہے کہ چائے پیئیں ؛حتیٰ کہ رفتہ رفتہ آپ مستقل طور پر چائے کے محتاج ہو جاتے ہیں ۔آپ نے خود اپنے جسم کو کیفین اور شوگر پہ لگا دیا ۔ کیفین نہیں ملے گی تو سستی او ربے دلی محسوس ہوگی ۔ شوگر ایک ایسی چیز ہے جس کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے ۔ انسان جب کوئی خوراک کھاتا ہے تو اس کا جسم اسے توڑ کر اس سے گلوکوز بناتا ہے تاکہ جسم کوزندہ رہنے اور کام کرنے کیلئے توانائی ملتی رہے ۔ شوگر مگر کوئی اچھی چیز ہوتی تو خدا درختوں پہ شوگر ہی اگا دیتا ، پھل نہ اگاتا۔ جتنےبھی آپ پھل دیکھتے ہیں ، ان میں شوگر کے ساتھ ساتھ فائبر موجود ہوتاہے ۔ انسان رفتہ رفتہ اس راستے پہ چل نکلا کہ صرف وہ چیز کھانی ہے ، جو بہت لذیذ ہو۔ دن رات انسان ہر چیز میں شوگر استعمال کرتاہے ۔ آپ کی چائے، ٹھنڈے مشروبات اور حتیٰ کہ پھلوں کو نچوڑ کر بھی شوگر نکال لی جاتی ہے اور فائبر پھینک دیا جاتاہے ۔ یہ بے تحاشا شوگر جب انسان کے اندر جاتی ہے تو شوگر سپائک پیدا ہوتی ہے ۔ کچھ دیر کیلئے انسان کو بہت توانائی محسوس ہوتی ہے ، موڈ اچھا ہوجاتاہے ۔مگر افسوس کہ کچھ ہی دیر بعد یہ سپائک اپنے انجام کو پہنچتی ہے ۔ اس مرحلے کو کہتے ہیں شوگر کریش ۔ اس مرحلے پر انسان کو شدید بھوک محسوس ہوتی ہے اور ایک بار پھر وہ شوگر کی طرف بھاگتا ہے ، خواہ تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا ہو ۔

یہ عمل سالہا سال چلتا رہتاہے ۔انسان اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہ کر دیتاہے ۔ اگر کوئی شخص بظاہر بہت اچھی خوراک مثلاً تازہ پھلوں کا رس بے تحاشا پیتا رہے تو اس کا جگر اتنی شوگر کو پراسیس نہیں کر سکتا ۔ وزن بڑھتا جاتا ہے ۔ فیٹی لیور ، یورک ایسڈ ، کولیسٹرول۔ کولیسٹرول کا پتہ بھی اس وقت لگتا ہے ، جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ آج کا انسان شوگر سپائک پہ چلنے کا عادی ہو چکا ہے ۔ اگر انسان صحیح خوراک کھائے اور شوگر سے اپنا پیچھا چھڑائے تو اس کے جسم کو ایک مسلسل اور صحت مند توانائی حاصل ہوتی ہے ، آج کا انسان جس سے پوری طرح محروم ہو چکا ۔ اسے تو شوگر سپائک چاہیے ، ہر حال میں شوگر سپائک ۔ کون سی خوراک میں کتنی غذائیت اور جسم کا کتنا فائدہ ہے ، اسے اس سے کوئی سروکار ہی نہیں ۔ اسے صرف اور صرف شوگر سپائک چاہئے ۔

اب آپ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں ، کیا پوری انسانیت اس نشئی جیسی نہیں ہوگئی ، جو نشہ کرتے کرتے مر جاتا ہے مگر اپنی لذت سے دستبردار نہیں ہوتا ۔ ایسے سکول موجود ہیں ، جن میں بچے کو ہرگز کسی بات سے منع نہیں کیا جاتا ؛خواہ وہ کتنی ہی غلط بات کر رہا ہو ۔استاد اگر اسے روکے گا تو الٹا استاد کی سرزنش ہوگی۔ بچے کوہونے والی روک ٹوک کو والدین اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتاہے کہ دس سال بعد ایک ایسا بگڑا ہوا ہونہار آپ کے پلے ہوتاہے ، جس نے ساری زندگی صرف خواہش کی پیروی کرنا ہوتی ہے ۔ سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری صاحب نے مجھے بتایا تھاکہ اساتذہ کے سامنے بچے کی غیر ضروری سپورٹ ہرگز نہیں کرنی چاہیے ورنہ بگاڑ کا راستہ کھل جاتا ہے ۔ فیصلہ آپ کا اپنا ہے ، آپ نے صحت مند زندگی گزارنی ہے یا شوگر سپائک پہ چلنا ہے ؟

دل کی آزادی شہنشاہی، شِکَم سامانِ موت

فیصلہ ترا ترے ہاتھوں میں ہے ،دل یا شِکَم!

تازہ ترین