• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے، حوثیوں اور حوثیوں کے سرپرست کا ذکر کیے بغیر، مکہ مکرمہ کے مقدس مقام پر ہونیوالے ڈرون حملوں کی سخت ترین اور مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قابل مذمت اور ناقابل معافی عمل پر ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور ہمارے غم کے اظہار کیلئے آنسو ناکافی ہیں۔ ادھر سعودی حکومت نے مکہ پر حملے کو اپنی "سرخ لکیر" قرار دیتے ہوئے اس گھنائونے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں اور کشیدگی سے گریز کریں، ہمارا خطہ پہلے ہی تنازعات سے کافی متاثر ہو چکا ہے مکالمہ اور سفارت کاری کو ہتھیار بنائیں کیونکہ یہی پائیدار امن کا راستہ ہے جبکہ سعودی عرب نے حوثیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو ابھارنے کے لیے یہ حملہ جان بوجھ کر ایران کی شہہ پر کیا گیا ہےاسے صرف ایک انتہائی شرمناک عمل ہی کہا جا سکتا ہے، جہاں وحی کی ’’پیدائش‘‘ ہوئی جو پیغمبروں کی سرزمین ہے اسی مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جو دنیا بھرکے کروڑوں مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

یہ عمرہ ادا کرنیوالے زائرین کو دہشت زدہ کرنے کا ایک خوفناک، المناک اور شرمناک عمل ہے۔ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان آرمی کے انٹر سروسز پبلک ریلیشن (ISPR) کے ترجمان ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودری نے ’’العربیہ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ ڈیفنس الائنس ایک دفاعی معاہدہ ہے اس میں کچھ بھی جارحانہ بات نہیں یہ معاہدہ تینوں ملکوں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات کی تکمیل کا عمل ہے، یہ کسی قسم کی علاقائی مانگ کی خواہش نہیں اور نہ ہی کسی کے خلاف اجتماعی روک تھام ہے ۔

یہ محض سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اجتماعی معاہدہ ہے کہ اگر اس اتحادکے کسی رکن پر کسی طرف سے بھی حملہ ہو جائے تو اسے تینوں ملکوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ معاہدہ سات اگست کو عمل میں آیا اور یہ تمام تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر جارحانہ حملہ کر دیا اور مکہ الائنس پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور ان تینوں ملکوں کا اتحاد تنقید کی زد میں آگیا اس غیر یقینی صورتحال میں مکہ الائنس کے رکن پاکستان کا کیا رد عمل ہوگا ؟

کیا ریاض نے پاکستان سے فوجی امداد طلب کی ہے؟ اور پاکستان کا کیا رد عمل ہوگا؟یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ اگر مکہ ڈیفنس الائنس کے کسی رکن پر حملہ ہو جائے تو معاہدہ کیسے کام کرے گا؟ یہ پاکستان کیلئے پہلا ممکنہ امتحان ہے کہ پاکستان کا عسکری کردار کیا ہوگا؟۔

7 اگست کو ہی یہ بات بالکل واضح کر دی گئی تھی کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مکہ ڈیفنس الائنس کی ابتدائی طور پر تین برس کے لیے سربراہی بھی پاکستان ہی کو کرنی ہے۔ اپنی حالیہ پریس کانفرنس میںآئی ایس پی آرکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا ہے کہ یہ بیان ضروری نہیں کہ اگر کسی رکن پر حملہ ہوا تو پاکستان حقیقت میں کیا کرے گا کیونکہ اس شق یا وعدے کے نفاذ کی عملی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں لیکن یہ طے ہے کہ اس معاہدے کے تحت باہمی دفاعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کوئی بھی فیصلہ تینوں ملکوں کے باہمی مشورے سے کیا جائیگا۔ اب تک کی صورتحال قطعی غیر یقینی نہیں ہے پاکستان کی پارلیمنٹ نے 2015میں متفقہ طور پر حوثیوں کے مقابل پاک فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد بھی ہے جس سے پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات سنبھالنے میں سکیورٹی کا فائدہ ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس سے مشرق ِوسطیٰ میں ایک اور محاذ کھل گیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے (حوثیوں نے) سعودی عرب میں مزید ڈرون اور مزائل حملے کیے ہیں جن میں بحرہ احمر کی بندرگاہ یا نبو اور خمیس کا ایک ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔

جہاں یہ بات ہرگز ہرگز بھولنے کی نہیں ہے کہ حوثیوں کے یہ ڈرون میزائل جہاں داغے گئے ہیں یہ مقام مکہ کے قریب ہے، رات کو کسی اونچی پہاڑی پر چڑھ کر دیکھا جائے تو مکہ شہر کی بتیاں نظر آتی ہیں ۔تاہم دنیا بھر کے دوست اور دشمن مکہ ڈیفنس الائنس کی بتیوں کی طرف دھیان لگائے بیٹھے ہیں تاکہ اپنی آئندہ کی پالیسیاں مرتب کر سکیں۔

تازہ ترین