مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشمکش سمجھنا شاید کافی نہیں۔ اس بحران کے پیچھے کئی دہائیوں کی علاقائی رقابت، عرب ریاستوں کی بدلتی ترجیحات، ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، اور عالمی طاقتوں کے معاشی مفادات موجود ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا کردار بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ عرب ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات اور باہمی مفادات کا ٹکراؤ پہلے بھی موجود تھا۔1979ءکے انقلاب کے بعد ایران نے فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنایا اور اسی دوران لبنان، عراق، شام اور یمن میں اس کا سیاسی و عسکری اثر بڑھتا گیا۔ اسکے ہم خیال گروہوں نے اسےعسکری قوت کے علاوہ ایک وسیع علاقائی نیٹ ورک بھی فراہم کیا۔یہاں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام بحرانوں کی واحد وجہ ایران نہیں۔ لبنان کی خانہ جنگی، عراق میں 2003ءکے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، شام کی جنگ اور یمن کا بحران اپنی اپنی داخلی وجوہ بھی رکھتے ہیں۔ البتہ ایران نے ان بحرانوں میںکئی گروہوں کو حمایت فراہم کی۔آج یمن کے حوثی اس علاقائی کشمکش کا ایک اہم فریق ہیں۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر کے قریب ان کی عسکری سرگرمیوں نے معاملے کو صرف یمن یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہنے دیا۔ یہ راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اگر یہاں جہازرانی غیر محفوظ ہوتی ہے تو اس کے اثرات خلیج سے لے کر یورپ اور ایشیا تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کے حملوں کو محض ایک مقامی جنگ سمجھنا مشکل ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی، خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات، بحیرۂ احمر کی جہازرانی اور عالمی تیل کی منڈی ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ ایک محاذ پر ہونے والی کارروائی دوسرے خطوں میں معاشی اور سیاسی دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔تاہم یہ نتیجہ نکالنا بھی مناسب نہیں کہ حوثی لازماً کسی طاقت کے ہاتھ میں مکمل طور پر استعمال ہونیوالا مہرہ ہیں۔ انکے اپنے یمنی سیاسی مفادات، سعودی عرب کے ساتھ طویل تنازع اور داخلی محرکات موجود ہیں۔اصل حقیقت شاید اس سے زیادہ پیچیدہ ہےخطے کے تقریباً تمام بڑے فریق اپنے اپنے مفادات کیلئے طاقت کے مختلف مراکز کو استعمال کر رہے ہیں، جبکہ عام شہری اس کشمکش کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اس صورتحال میں امریکہ کا کردار بھی اہم ہے۔ خلیجی ممالک کئی دہائیوں سے امریکی سکیورٹی نظام پر انحصار کرتے آئے ہیں، لیکن حالیہ بحرانوں نے یہ سوال دوبارہ اٹھایا ہے کہ اگر امریکہ ہر موقع پر اپنے اتحادیوں کے دفاع کیلئے براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہو تو عرب ممالک کو اپنی سلامتی کیلئے کن متبادل انتظامات کی ضرورت ہوگی۔یہیں پاکستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، دفاعی تعاون اور افرادی قوت کا رشتہ پرانا ہے۔ دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، جبکہ چین پاکستان کا اسٹریٹجک اور معاشی شراکت دار ہے۔ ترکیہ کے ساتھ بھی پاکستان کے دفاعی تعلقات مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔اسلئے پاکستان کیلئے یہ بحران غیر معمولی سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد کو ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنا ہے، دوسری طرف ایران کیساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے بچنا ہے۔ ساتھ ہی چین کیساتھ اپنے تعلقات اور اپنی معاشی ضروریات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت شاید یہی توازن ہو سکتی ہے۔اگر پاکستان صرف کسی ایک فریق کے عسکری موقف کا حصہ بن جائے تو اس کی سفارتی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطہ بھی قائم رکھے اور ترکی و چین جیسے ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے تو اس کا کردار کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق حالیہ اطلاعات ایک اور خطرناک پہلو بھی سامنے لائی ہیں ۔ اگر کسی فوجی یا انٹیلی جنس نظام میں AI سے تیار کردہ غلط معلومات کو درست سمجھ لیا جائے تو ایک معمولی غلطی دو بڑی طاقتوں کو براہِ راست تصادم کے قریب لے جا سکتی ہے۔ جدید جنگ میں صرف میزائل اور ڈرون ہی خطرہ نہیں؛ غلط معلومات بھی جنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔یہ صورتحال پاکستان کیلئے بھی ایک سبق ہے۔ مستقبل کی قومی سلامتی صرف سرحدوں پر فوج رکھنے کا نام نہیں بلکہ سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، درست انٹیلی جنس، سفارت کاری اور معاشی استحکام بھی اس کا حصہ ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشمکش شاید ایک طویل عرصے تک ختم نہ ہو، لیکن پاکستان کو یہ ضرور طے کرنا ہوگا کہ وہ اس بحران میں صرف ردِعمل دینے والا ملک بنے گا یا ایک فعال علاقائی سفارتی قوت کے طور پر سامنے آئے گا۔پاکستان کے لیے دانش مندی یہ ہوگی کہ وہ کسی نئی جنگ کا میدان بننے کے بجائے جنگ کو پھیلنے سے روکنے میں کردار ادا کرے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات، ایران کیساتھ ہمسائیگی، چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت اور ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کو ایک منفرد سفارتی پوزیشن دیتے ہیں۔آج اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کس کی جنگ لڑیگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی فوجی طاقت، سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے میں کیسےاور کیا موثر کردار ادا کرے گا ۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا کردار محض ایک اتحادی کا نہیں بلکہ ایک ممکنہ پل، ثالث اور علاقائی استحکام کے داعی کا بن سکتا ہے۔