عقلمندوں کا قول ہے کہ’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘ لیکن ہمارے ہاں اسکے بر عکس روش اختیار کرنے کی وجہ سے آج ہم گوناگوں مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جسکے عاقبت نا اندیش آمروں نے جان بوجھ کر یا اپنی سیاسی بے بصیرتی کی وجہ سے ایسے فیصلے اور اقدامات کیے جن کو صرف ایک محاورے میں ہی بیان کیا جا سکتا ہے کہ " آ بیل مجھے مار"۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قومی زندگی ایسے ہولناک سانحوں سے بھری ہوئی ہے جسکی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ سب سے بڑا سانحہ تو سقوطِ مشرقی پاکستان تھا جو آزادی کے صرف 23سال کے بعد رونما ہو گیا ۔ملکوں کی زندگیاں تو صدیوں پرمحیط ہوتی ہیں۔ اس کے بعد بھی ہم نہ سنبھلےاوردنیا کو سنوارنے کیلئے اس کے معاملات میں ٹانگیں اڑانے کا سلسلہ بند نہ کیا۔ ہمارے فاتحین افغانستان نے دو بڑی طاقتوں کے مفادات کی جنگ کو جہاد قرار دے کر پاکستان کو اس میں اس بری طرح پھنسادیا کہ جس سے ہماری جان آج تک چھوٹتی نظر نہیں آتی ۔ہماری دوستیوں اور دشمنیوں میں ایسے خوفناک تضادات ہیں جنہوں نے ہماری سوچ کی سمتیں ہی گڈ مڈ کر دی ہیں۔ ہمیں شاید آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ کس کے ساتھ دوستی ہمارے قومی مفاد میں ہے اور کس کے ساتھ نہیں ۔ یہ بھی عقلمندوں کا قول ہے کہ ہر چیز بدل جاتی ہے لیکن ہمسائے نہیں بدلتے اور جو حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے ان کے لیے ہمیں اپنی سوچ بدل لینی چاہیےمگر ہم نے اپنا جغرافیہ تبدیل کروا لیا لیکن حقائق کو تسلیم نہ کیا ،ہم اپنے سے بہت بڑے اور طاقتور ہمسایوں بھارت اور سابقہ سویت یونین کے ساتھ ان دور دیسوں میں بسنے والے نام نہاد دوستوں کے مفادات کی خاطر دشمنیاں بڑھاتے رہے جو کبھی ہماری مدد کو نہ آئے۔ ویسے بھی عالمی سیاست میں دوستیاں جذبات نہیں ، قومی مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہیں ۔جہاں ہم نے اپنی سرحدوں کے باہر دشمنیاں مضبوط کیں وہیں سرحدوں کے اندر اپنے عوام کے پیدائشی جمہوری حقوق سلب کر کے نئی دشمنیوں کی بنیادیں بھی رکھ دیں۔ پھر اسی پر اکتفا نہ کیا اور اندرونی طور پر خود کو مزید کمزور کرنے کیلئے عوام کو انتہا پسندی اور فرقہ بازی میں ڈال دیا۔ گویا ہم نے انتہائی عرق ریزی سے اپنی تباہی اور بربادی کے اسباب پیدا کیے۔ اقتدار کی خاطر پاکستان کو "میدان کارزار" بنانے والوں نے یہ کبھی نہ سوچا کہ انسانی زندگی چند روزہ ہے لیکن وہ چند روز کے اقتدار کیلئے قوم کے مستقبل کو تاریکیوں میں دھکیلتے رہے۔ پاکستان کی تباہی کی داستان خواجہ ناظم الدین کی حکومت کی برطر فی سے شروع کی جائے یا جنرل ایوب خان کے مارشل لا سے یا ذوالفقار علی بھٹو کے قتل سے۔ ہر جگہ وہ لوگ نظر آتے ہیں جن کا کام حکومت کرنا نہیں۔ان حکمرانوںنے ہمیں کبھی ایک قوم نہیںبننے دیا۔ قیام پاکستان کے وقت ہندوستان کی نسبت اپنے وسیع قدرتی وسائل ،کم آبادی اور فرقہ وارانہ تضادات کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان کے بھارت کی نسبت تیز رفتار ترقی کرنے کے زیادہ مواقع تھے لیکن غیر منتخب حکمرانوں نے عوام کو امورِ حکومت سے بے دخل کر کے موقع پرستی اور ذاتی مفادات کی سیاست کو یوں پروان چڑھایا کہ اس میں قومی سوچ اور قومی مفادات دفن ہو کر رہ گئے۔ بھارت اور سابقہ سوویت یونین سے دشمنی کے جذبات اس حد تک پروان چڑھائے گئے کہ اس کی نذر آدھا پاکستان کر دیا۔ افغانستان میں بلا سوچے سمجھے مہم جوئی کی گئی۔ پاکستان کی خود ساختہ نظریاتی سرحدوں کے دفاع کو زیادہ اہم اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو غیر اہم بنا دیا گیا۔ وہ طالبان جنہیں ہم نے اپنی مغربی سرحدوں کا محافظ بنا کر اپنے سروں پر سوار کر لیا تھا اب وہ ہمارے سر کاٹنے کے در پےہیں۔ ہمارا ہر قدم اپنے ہی خلاف اٹھتا رہا ہے وہ پاکستان کی ابتدائی زمانے میں سوویت یونین کو چھوڑ کر امریکہ سے دوستی کا اقدام تھا ، سیاسی حکومتوں کے تختے الٹنے کا یا ہمسایوں کے ساتھ جنگیں کر کے پاکستان کو کمزورکرنے کا ، وہ عوام کو ان کے بنیادی پیدائشی جمہوری حقوق سے محروم کرنا تھا یا مذہب اور سیاست کے ملاپ سے مذہب اور سیاست کی توہین کرنا۔ وہ نت نئے سیاسی نظام وضع کرنا تھا یا ادھر ادھر پھڈے کرنا۔اب آپ چاہے امریکہ کو گالیاں دیں یا بھارت اور افغانستان کو، ہماری حالتِ زار میں کسی بیرونی طاقت سے زیادہ خود ہمارا اپنا ہاتھ ہے۔ ہم جب تک نئے سرے سے اپنی قومی ترجیحات کا تعین نہیں کریں گے ہماری تباہی کا سفر جاری رہے گا۔ ہمیں یہ جان اور مان لینا چاہیے کہ نعرے بازیوں سے قومیں نہیں بنتیں اس کیلئے حقائق کی روشنی میں ٹھوس لائحہء عمل تیار کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہم ایک پسماندہ اور قرضوں کے بوجھ میں جکڑی ہوئی قوم ہیں جسے مزید مہم جوئیاں مسائل کی دلدل میں دھنسا دیں گی ۔ ہمیں سول حکمرانی کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ہمیں اندرونِ ملک سیاسی استحکام اور اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔ ہمیں اس حقیقت کو ماننا ہوگا کہ دنیا میں جنگیں مذہبی حوالوں سے نہیں معاشی مفادات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ہمیں ماننا ہوگا کہ کامیاب معاشرے کی بنیاد معاشی انصاف ہوتا ہے ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیےکہ خدا سب انسانوں کا ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے وہ سب سے محبت کرتا ہے،سب کو نوازتا ہے۔ تاہم خدا صرف اس کا ساتھ دیتا ہے جو دانائی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے وہ معصوموں اور بیگناہوں کو ہلاک کرنے والوں کا ساتھی نہیں۔ وہ صرف انہی قوموں کی حالت بدلتا ہے جو دانشمندی سے اپنے معاملات کو سنوارتی ہیں اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتیں۔
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو