صاحب، ایک شخص ہے جس نے عمر بھر ڈالر کی شکل نہیں دیکھی مگر جس شام ڈالر کا بھاؤ چڑھتا ہے اُسی شام اُس کی ہانڈی کیلئےگھی کم پڑ جاتا ہے۔ نام غلام رسول، پیشہ راج مزدوری۔ اُس کا سوال سیدھا سادا ہے اور جواب ٹیڑھا:بھئی، جو نوٹ میں نے کبھی چھوا نہیں، وہ میری روزی کیوں گھٹاتا ہے؟ آئیے، آج اِسی سوال کی سیڑھیاں اترتے ہیں۔
پہلی سیڑھی یہ کہ قیمت آخر ہوتی کیا ہے۔ ہر قیمت دو محنتوں کا سودا ہے۔ آپ آلو خریدتے ہیں تو دراصل اپنی گھڑی بھر کی محنت کسان کی گھڑی بھر کی محنت سے بدلتے ہیں۔ روپیہ توبیچ کا قاصد ہے۔ ڈالر کا بھاؤ بھی ایسی ہی ایک قیمت ہے، فرق اتنا کہ ترازو کے ایک پلڑے میں ہماری محنت اور ہمارے ہنر کا حساب ہے اور دوسرے میں باقی ساری دنیا کا ۔ یہ بھاؤ بتاتا ہے کہ غلام رسول کی پوری دیہاڑی کے عوض دنیا کی منڈی کتنا تیل، کتنی دال، کتنی دوا دےگی۔ خدا لگتی کہیے تو بھاؤ نہ قوم کی غیرت کا پیمانہ ہے نہ کسی سبک سر کے زور بازو کا ، بس قوم کی محنت کی قیمت ہےاور قیمت سے روٹھا جا سکتا ہے، اُسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
مگر حضور، غلام رسول تو محلے کے کریانے سے سودا لیتا ہے۔ یہی دوسری سیڑھی ہے۔ ذرا اُس کا تھیلا کھولیے اور ہر شے سے اُسکا وطن پوچھئے۔ گھی بولا: میں ملائیشیا کے پام کے باغوں کا ہوں۔ دال بولی: کینیڈا کی۔ بچے کی کھانسی کے شربت میں دوا چین کی۔ موبائل کے پرزے، چنگچی کا پٹرول، سب سمندر پار کے۔ کریانے کی دکان کے شیلف پر سب مال دیسی نظر آتا ہے اور ہر شے پر ایک اَن دیکھی مہر لگی ہے۔ امیر ڈالر کا بھاؤ ہر صبح اخبار میں پڑھتا ہے۔ غریب اُسے ہر شام ہانڈی میں چکھتا ہے۔ سوال یہ کہ بھاؤ چڑھتا ہی کیوں چلا جاتا ہے؟ 1982ءمیں ڈالر نو روپے نوّے پیسے کا تھا آج دو سو اسّی کے لگ بھگ ہے۔ تین ا سبا ب ہیں: دو گھر کے، ایک باہر کا۔
پہلا سبب مہنگائی۔ سو برس ہونے کو آئے کہ سویڈن کے ماہرِ معاشیات گستاف کیسل نے پہلی جنگِ عظیم کی اجڑی ہوئی کرنسیوں کو دیکھ کر ایک سادہ اصول اخذ کیا : سکّہ اُتنے ہی کا ہے جتنا اُس سے خریدا جا سکے۔ سو جس ملک میں قیمتیں جتنی تیزی سے چڑھیں گی اُس کا سکّہ اُسی چال سے گرتا چلا جائے گا (Cassel 1922)۔ ہمارے ہاں قیمتیں دہائیوں سے اوسطاً آٹھ نو فیصد سالانہ بڑھتی رہیں، امریکہ میں دو تین فیصد۔ یہ پانچ چھ فیصد کا فرق سود در سود جمع ہوتا ہے اور پانچ دس برس میں پہاڑ بن کر سامنے آ جاتا ہے۔
جو قوم اپنے نوٹ کی قدر گھر میں نہ سنبھال سکے، بازارِ عالم میں کوئی کاہے کو سنبھالے گا۔اور یہ سبق کیسل سے چھ سو برس پہلے دہلی نےسیکھ لیاتھا۔ 1330 کے قریب محمد بن تغلق نے تانبے کے سکّے کو حکم دیا کہ تُو چاندی کے ٹنکے کے برابر ہے۔ برنی لکھتا ہے کہ ہر گھر ٹکسال بن گیا ۔سلطان کو خزانے کی چاندی دیکر اپنا ہی تانبا واپس خریدنا پڑا۔ بادشاہ سکّے پر مہر لگا سکتا ہے، قیمت نہیں۔ جو کام تغلق کے تانبے نے ایک برس میں کیا، وہی آٹھ فیصد کی مہنگائی چالیس برس میں کرتی ہے: نوٹ وہی رہتا ہے، اندر کی چاندی گھلتی جاتی ہے۔
مگر کیا روپیہ اتنا ہی گرتا ہے جتنا مہنگائی کا حساب بتاتا ہے؟۔ 1982ءسے آج تک ہماری قیمتیں امریکہ کی نسبت کوئی بارہ گنا چڑھیں؛ کیسل کے قاعدے سے روپیہ بھی بارہ گنا گرتا اور ایک سو بیس کے آس پاس ٹھہرتا۔ وہ دو سو اسّی پر کھڑا ہے، یعنی مہنگائی کے حساب سے دگنا گرا۔ باقی آدھے کا حساب کوئی ساٹھ برس پہلے بیلا بالاسا نے سمجھایا (Balassa, 1964): سکّے کی اصل قدر قوم کے ہاتھوں سے بندھی ہے، تعداد سے بھی اور ہنر سے بھی۔جو قوم دنیا کے کام کی چیزیں زیادہ اور بہتر بناتی ہے اُسکا سکّہ مہنگائی کے حساب سے کم گرتا ہے۔ 2007ءمیں ویتنام اور ہماری فی کس آمدنی برابر تھی:نو سو ڈالر۔ پھر اٹھارہ برس میں وہاں قیمتیں امریکہ کی نسبت دگنی ہوئیں،مگر ڈانگ فقط ڈیڑھ گنا گرا ۔اسلئے کہ ویت نام کے ہاتھوں کا ہنر چاول اور کافی سے نکل کر موبائل اور مشین تک جا پہنچا ۔ ہمارے ہاتھ وہی کپڑا بُنتے رہے۔ سکّے کا دام ہاتھوں کے ہنر کی رسید ہے۔
تیسرا سبب ہمارے بس کا نہیں۔ دنیا کا سرمایہ ایک مسافر ہےوہیں ٹھہرتا ہے جہاں اُسے کمائی بھی ملے اور چَین بھی۔ جب واشنگٹن میں سود بڑھتا ہے تو ڈالر کو گھر بیٹھے وہ کمائی ملنے لگتی ہے جس کیلئے پہلے اُسے پردیس کا خطرہ مول لینا پڑتا تھا۔ سو مسافر بوریا بستر باندھتا ہے: روپیہ بیچتا ہے، ڈالر لیتا ہے اور چل دیتا ہے۔ تیل یک دم مہنگا ہو تو یہی مانگ دوسرے دروازے سے آتی ہے: تیل کا بل سولہ سترہ ارب ڈالر سالانہ ہے؛ بیرل پر دس ڈالر بڑھیں تو ہر مہینے کروڑوں ڈالر زیادہ چاہئیں، اور وہ روپیہ بیچ کر ہی آئیں گے۔ ایلین رے نے دکھایا کہ چھوٹا ملک چاہے جو ترکیب کرے، سمندر پار کی اِس موج سے مکمل طور پر نہیں بچ سکتا (Rey, Dilemma not Trilemma, 2013) ۔ اِنھی دنوں دیکھ لیجیے: تیل مہنگا ہے، واشنگٹن میں سود بڑھنے کی چہ میگوئیاں ہیں، اور دہلی کا روپیہ، سینکڑوں ارب ڈالر کے ذخائر رکھتے ہوئے، چھیانوے کے آس پاس اتنا نیچے آ گرا ہے جتنا کبھی نہیں گرا تھا۔ ذخائر کشتی کا لنگر ہیں، لہر کا مکمل علاج نہیں۔ سمندر چڑھے تو سب کشتیاں ڈولتی ہیں؛ فرق فقط اتنا کہ پیندے میں سوراخ والی کشتیاں ڈوبنے میں پہل کرتی ہیں ۔
صاحبو ! ڈالر کا بھاؤ تھرمامیٹر ہے، بخار نہیں۔ پارہ چڑھتا ہے تو حاکموں کو ایک ہی نسخہ سوجھتا ہے: تھرمامیٹر برف کے پانی میں ڈال دو۔ مگر بخار کا تقاضا کچھ اور ہوتا ہے۔ جب کسی ملک کی قیمتیں دنیا سے اونچی ہو جائیں تو دو ہی راستے بچتے ہیں: یا تو ملک بھر کی لاکھوں قیمتیں اور اجرتیں نیچے آئیں، یا ایک قیمت، یعنی ڈالر کا بھاؤ، اوپر جائے۔ ملٹن فریڈمین نے اِس انتخاب کو ایک ایسی مثال سے سمجھایا جو بھولے نہیں بھولتی (Friedman, 1953)۔ گرمیوں میں شہر بھر سے یہ کہنا کہ اپنا ہر کام ایک گھنٹہ پہلے کرو، ناممکن ہے۔ گھڑی ایک گھنٹہ آگے کر دینا آسان۔
ڈالر کا بھاؤ وہی گھڑی ہے۔ گھڑی کی سوئی پکڑ نے سے وقت نہیں رکتا ۔ برف میں رکھا پارہ ایک دن یک دم وہیں جا پہنچتا ہے جہاں اُسے آہستہ آہستہ پہنچنا تھا، اور اُس روز غلام رسول کا گھی راتوں رات مہنگا ہو جاتا ہے۔ گرہ میں باندھ لیجیے: تھرمامیٹر توڑنے سے بخار نہیں اترتا۔
پھر غلام رسول گلہ کرے تو کس سے گلہ کرے ؟ ڈالر سے نہیں ، ڈالر فیصلہ سناتا ہے جرم نہیں کرتا۔ جرم اگر ہے تو تین جگہ: اُس مہنگائی میں جو روپے کی چاندی گھر ہی میں گھلا دیتی ہے، اُس کارخانے میں جو لگا ہی نہیں اور اگر لگا تو اس کا رخ سمندر پار نہیں، اور سمندر پار کی اس لہر میں جس پر کسی کا زور نہیں۔ پہلے دو کا علاج ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ جس نوٹ کو غلام رسول نے کبھی نہیں دیکھا، وہ نوٹ اُسے روز دیکھتا ہے۔