• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، ایران و امریکا کے درمیان معاہدے کا امکان مزید کم ہو گیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی سفارتی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے جبکہ دوبارہ لڑائی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

عرب میڈیا نے ایرانی میڈیا کے ذرائع سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، قشم جزیرے کے قریب متعدد بحری جہاز شکن میزائل اور ڈرونز سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں تاہم ایرانی حکام نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے عمان کے قریب بھی ایک بھارتی مال بردار جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک ہو گیا تھا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام سے رابطہ کرنا ہو گا۔

ایران نے جہاز رانی کمپنیوں کو عارضی منظور شدہ راستہ استعمال کرنے اور متعلقہ فیس ادا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔

ایرانی حکام نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس کی جنگی کشتیاں تیل بردار جہازوں کو متبادل راستے سے آبنائے ہرمز سے نکال رہی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً 13 ملین بیرل خام تیل خلیج سے منتقل ہو رہا ہے جبکہ تقریباً 2 ماہ کے دوران 1 ارب سے زائد بیرل خام تیل خلیج سے منتقل کیا گیا ہے۔

ایران نے امریکی دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تاثر دینے کے لیے غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق موجودہ صورتِحال سے متعلق کنگز کالج لندن کے ماہر اینڈریاس کریگ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھنے کے باوجود تہران کے ہتھیار ڈالنے کا امکان فرض کرنا درست نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں مزید جہازوں کو روکنے، توانائی کے ڈھانچے پر حملوں، باب المندب میں حوثیوں کے دباؤ اور سعودی عرب کے متبادل برآمدی راستوں پر دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ایران نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آبنائے ہرمز کو 1 ہفتے میں کھولنے کی پیشکش کی تھی تاہم اس کے لیے 7 شرائط رکھی گئی تھیں جن میں ایران کی ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی رقوم جاری کرنا اور تمام محاذوں پر حملے روکنا شامل تھا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اپنی شرائط پر قائم ہے اور پاکستان، قطر اور عمان جیسے ثالثوں کے ذریعے امریکی باضابطہ جواب کا انتظار کرے گا۔

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے عمان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ دو طرفہ معاہدے کے تحت کارروائی پر بھی زور دیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارجی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مزید امریکی مداخلت کا سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے بھی کہا ہے کہ امریکا کی مشکلات اس حد تک بڑھ سکتی ہیں کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر دے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق آنے والے ہفتوں میں ٹینکروں، امریکی حمایت یافتہ جہازوں اور خطے کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کے جواب میں امریکا کی جانب سے ایرانی بحری اثاثوں، ساحلی میزائل تنصیبات، ڈرونز یا متعلقہ کشتیوں کو محدود حملوں کا نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے جس سے آبنائے ہرمز میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید