• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ سوات کا ایک چھوٹا سا گائوں سدوخان ہے۔اتفاق دیکھیں۔میرا گائوں تور غر میں ہے۔ اس کا نام بھی سدوخان ہے۔میں نے اماں کو ویڈیو کال پر لیا۔اماں یہ دیکھیں میں نے ایک اور سدوخان دریافت کرلیا ہے۔ہمارے والے کے نیچے دریا بہتا ہے۔اس والے کے نیچے نہر بہتی ہے۔اوپر ستارے ہیں نیچے حیات چرواہے کی کٹیا ہے۔چرواہا بے دم تھا۔ہم پہنچے تو اسکے وجود میں بجلی دوڑ گئی۔کیسی بیماری کون سی بیماری۔پلک جھپک چارپائیاں کھینچیں تکیے سیدھے کیے۔کہتا ہے کھانا تو ضرور کھائوگے۔محبت بڑھتی ہے۔

شام اتر چکی ہے، خاموشی پھیل گئی ہے کتے بھونک رہے ہیں۔جینی یاد آرہی ہے۔جب سے جینی زندگی میں آئی ہے، بھونک کا مطلب بدل گیا ہے۔فطرت سے تعلق کا زاویہ ہی بدل گیا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ کتا ہی ہو، کوئی بھی جانور ہو یا پرندہ، بچوں کو اس سے متعارف کروانا چاہیے۔سامنے ایک لائٹ جلتی تھی۔ماحول میں الجھن تھی۔شہسوار نے بند کردی۔ایک لائٹ بند کرنے سے کتنے ستارے نیچے آگئے۔کیسے بات کرنے لگ گئے۔نہر کا شور بھی کتنا گہرا ہوگیا۔ کچے مکان والے صحن میں چارپائی پر لیٹنا اور نگاہ آسمان پر رکھنا۔اسکے بعد آئے جو عذاب آئے۔دور سے ایک گھنٹی آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔اب مکان کے پیچھے سے کوئی گائے دھب دھب گزر رہی ہے۔شہسوار فواد نامی کسی پشتو شاعر کے اشعار سنا رہا ہے۔ایک شعر میں خاموش دریا اپنا نوحہ سنا رہا ہے۔کون کہتا ہے شاعر کو موسمیاتی تبدیلیوں کا احساس نہیں ہے۔گل جی جمال اسی شاعر کا اردو شعر سنا رہا ہے۔ایک مصرعے میں بادل نے خضاب لگایا ہوا ہے۔ یہاں بادل کا ایک نیم خضابی ٹکڑا کچھ تصویریں بناتا ہوا میرے سامنے سے گزر رہا ہے۔میں یہ اشعار لکھنا چاہتا ہوں۔یاد کرنا چاہتا ہوں۔مگر بادلوں سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ستاروں کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ کیا میں ان ستاروں کو چُھو سکتا ہوں؟شہسوار کی آواز آئی، فواد کہتا ہے کہ ستارے آزاد شاعری ہیں۔چرواہا کہتا ہے،آپ لوگوں کی بات کٹے گی مگر سامنے دیکھو۔دور آسمان پر کچھ ستارے ایک قطار میں آرہے ہیں۔

ارے واقعی! سب حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ ستارے پابند شاعری کی طرح اتنی دیر تک ڈسپلن میں کیوں ہیں۔مگر یہ ستارے نہیں ہیں۔یہ ایلون مسک کے اسٹارلنک سیٹلائٹس ہیں۔مجھے یہ بتا دینا چاہیے مگر میں نہیں بتانا چاہتا۔بات سیٹلائٹ کی طرف نکل جائیگی۔بات ستاروں تک رہنی چاہیے۔شہسوار رباب بجا رہا ہے۔یہ رباب یہ ہوا یہ فضا یہ سب اس وقت اہم ہیں۔کسی سائنسی، سیاسی اور فلسفیانہ بحث سے بھی زیادہ اہم ہیں۔پھر اس چرواہے کی یہ باتیں؟

اس کا فہم آرگینک ہے اور اظہار بے ساختہ۔جس بات کو سمجھانے کے لیے ہزارہا کتابیں لکھی گئی ہیں وہ بات اسکی زبان سے یونہی سرزد ہوجاتی ہے۔جملہ محدود اوربات بےپناہ ہوتی ہے۔کہتا ہے، آج تم لوگ پھولوں میں ہو۔مشینوں سے دور ہو۔خوب رباب بجائو۔شہزاد نے ازراہ مزاح کہا، موسیقی حرام ہے۔ کہتا ہے، موسیقی حرام ہوگی، رباب تو حرام نہیں ہے۔یہ ہیں وہ لوگ جن کیلئے ڈاکٹر وحید نے ’’خانہ بدوش‘‘ کہی ہے۔اک خیرہ خیرہ روشنی مری چھائوں میں ہوتی ہے، یہ دنیا جس کا نام ہے مرے پائوں میں ہوتی ہے۔خاموشی ہے۔بالکل تہہ دار خاموشی۔ سب کہیں نہ کہیں محو ہیں۔چرواہا اچانک کہتا ہے۔دیکھو آدھی طبیعت تم لوگوں کے آنے سے ٹھیک ہوگئی۔باقی اس رباب سے ٹھیک ہو رہی ہے۔

دیکھو کیسے بالکل ٹھیک ہوگیا ہوں میں۔ باقاعدہ ہاتھ آگے کرکے اس نے گل جی کو اپنی نبض چیک کروائی۔میں صدقے میں قربان۔چرواہا فون اٹینڈ کر کے ایک طرف ہوگیا ہے۔عیادت کرنے والے کو آہستہ سے بتا رہا ہے، طبیعت بہت خراب تھی مگر عجیب سے مہمان آگئے ہیں، اب ٹھیک ہوں۔بہت ملائم ملائم سا رباب بھی بج رہا ہے۔ تمہیں آواز آرہی ہے؟ اسکے ملائم ملائم سے لیونے شاعر غنی خان یاد آگئے۔اس ملائمت سے رباب انہی کی غزلوں میں بجتا ہے۔کھانے کا بلاوا ہے۔سادہ چاول اور ساگ ہے۔ایک کٹوری میں دیسی گھی۔چائے میں قہوہ ہے۔حیات کی گائے خشک ہے۔وہ خود کو کٹہرے میں محسوس کر رہا ہے۔کہتا ہے کل صبح والی چائے میں دودھ لازم ہوگا۔روٹی پکڑاتا ہے اور کہتا ہے، ہم آپکی اچھی تربیت نہیں کر سکے۔اس نے لفظ تربیت کا دوبار استعمال کیا۔ایک بار ضیافت کیلئے ایک بار سیاحت کیلئے۔اس کے گھر میں یہی لفظ رائج ہوگا۔اسکی نسل اس لفظ کو ایسے ہی برتے گی۔دنیا ان پر ہنسے گی مگر دنیا نہیں جانتی کہ پانی اور زبان کا لائف ا سٹائل خانہ بدوشوں جیسا ہی ہوتا ہے۔

سونے کا وقت ہے۔ چارپائیاں کھنچ رہی ہیں۔آوازیں بیٹھ رہی ہیں۔چوڑیوں کی کھنک ختم ہورہی ہے۔ تنور ٹھنڈے ہورہے ہیں۔دور نہر کے پار پیڑوں کے پیچھے کچی سڑک کے پاس ایک روشنی ابھری ہے۔اگر یہ گاڑی تھی تو یہ آج کی آخری گاڑی ہوگی۔اس کے بعد چپ ہے اور خاموشی۔صرف دریا کا شور ہے۔ آنکھیں بند ہوتی ہیں اور ایک نئی دنیا کھلتی ہے۔ کوئی میرے جوگرز اتار رہا ہے۔ کیا مجھے آنکھیں کھول کے دیکھنا چاہیے کہ یہ کون ہے؟ گل جی نہ ہو حیات چرواہا نہ ہو۔ بہزاد نہ ہو شہزاد نہ ہو۔ اور کون ہو سکتا ہے، ان سب کا احترام اپنی جگہ مگر میں نے آنکھ نہیں کھولنی۔اس متوازی دنیا سے باہر نہیں نکلنا۔

یہ دنیا آپ کو کیسے دکھائوں۔بند آنکھوں سےیہ لکھی نہیں جاسکتی۔آنکھ کھلتی ہے تو وہ بات نہیں رہتی۔اس والے مرحلے کو کیا کسی نے لکھا ہوگا؟ بغیر کسی آلودگی کے؟ نیند میں لوگوں کو چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ نیند میں لوگوں کو لکھنے کی عادت بھی ہوتی ہے؟ ہوتی تو ہے۔شہسوار نے بہت دھیما سا ساز چھیڑ دیا ہے۔رفتار میں نہر کے بہاؤ سے ہم آہنگ ہے۔چلنے والی ہوائوں سے آگے ہے نہ پیچھے۔ہوا ذرا سی تیز ہوئی، ساز کو بھی ہلکا دھکا لگ گیا۔پردے کی طرح جھول کے واپس آگیا۔لکشمی ایک طرف بیٹھی ہے اور سرسوتی رباب بجا رہی ہے۔آواز قریب آتی جارہی ہے۔الٹے قدموں واپس جاکر پھر آرہی ہے۔جیسے ماں لوری سنا رہی ہے۔سر گوشی ہورہی ہے۔ کائنات سمٹ رہی ہے۔ساز ڈوب رہا ہے۔رات گزر رہی ہے۔ رات گزر گئی ہے۔بے حد حسین رات گزر گئی ہے۔ زندگی بخیر!

تازہ ترین