عالمی سیاست میں رونما ہونیوالے بعض واقعات کے اثرات ان کی جغرافیائی حدود سے کہیں آگے محسوس کئے جاتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے گرد پیدا ہونے والی صورت حال اور توانائی کی منڈی میں بے یقینی نے دنیا بھر کی معیشتوں کیلئے سوالات پیدا کردئیے ہیں۔ پاکستان پر اس کیفیت کے اثرات اس بنا پر زیادہ محسوس ہوتے ہیں کہ ملکی معیشت پہلے ہی محدود وسائل اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے اثرات میں ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے لئے کفایت شعاری محض انتظامی معاملہ نہیں رہتی،قومی ضرورت بن جاتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے چند ماہ قبل بھی سرکاری اخراجات کم کرنے کیلئے اقدامات کئے تھے اور اب موجودہ حالات میں کفایت شعاری مہم کو آگے بڑھایا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں کمی، نئی گاڑیوں کی خریدپرپابندی، غیر ضروری سرکاری تقریبات اور بیرون ملک دوروں کے اخراجات میں کمی اسکا حصہ ہیں۔
حکومت کیلئے بھی حالات آسان نہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی، جنگی صورت حال اور ملکی معاشی مجبوریوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسلئے حکومت کے پاس بھی ہر مسئلے کا فوری اور مکمل حل موجود نہیں۔تاہم عوام معاشی بوجھ تلے بری طرح دبے ہوئے ہیں ان کی مشکلات کو محض اعدادوشمار سے نہیں سمجھا جاسکتا حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی غیر معمولی قیمتوں کے اثرات کم کرنےکیلئے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے بعض صارفین کیلئے خصوصی ایندھن ریلیف اسکیم شروع کی ہے۔ موٹر سائیکلوں، چنگ چی،رکشوں اور800سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے ہردس روز میں10لیٹر پر100روپے فی لیٹر رعایت دی جارہی ہے بعد ازاں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ موٹرسائیکل چنگ چی اور رکشہ چلانے والوں کیلئے ایک ٹوکن پر ایک ہفتے میں پانچ سو روپے کی رعایت ہے۔ عوامی مشکلات کا حجم سامنے رکھا جائے تواس ریلیف کو تسلی بخش کہنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ایک موٹر سائیکل سوار کیلئے چند لیٹر پیٹرول پرملنے والی رعایت ہرروز روپ بدل بدل کر حملہ آور ہونے والی مہنگائی کے دباؤ کو روکنےکیلئے یقیناً ناکافی ہے۔ مگر علامتی محسوس ہونے والی سبسڈی کے اس پہلو کو بہرطور ملحوظ رکھا جانا چاہئے کہ اس اقدام کی صورت میں حکومت کا یہ عہد سامنے آیا ہے کہ ملکی معیشت کی لاغری، قرضوں کے دباؤ آئی ایم ایف کی شرائط کے مشکل منظر نامے میں غریب او رمتوسط طبقے کی مشکلات دور کرنے کیلئے جوبھی بن پڑا کیا جائے گا۔ قومی معیشت کی موجودہ مجبوریاں ایسی حقیقت بن چکی ہیں، جن میں اس ضرورت کی یاد دہانی بار بار ضروری ہوگی ہے کہ جو ریلیف دیا جارہا ہے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آسانی اور عزت کے ساتھ پہنچنا چاہئے۔
عام لوگوں تک سہولتیں پہنچانے کا عمل، بالخصوص پاکستان جیسے معاشی مسائل کے حامل ملک کے لئے کفایت کےاس احساس سے جڑا ہوتا ہے جو حکومت کے عمومی طرز عمل میں بھی دکھائی دینا ضروری ہے۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ کہ ’’قربانی سب سے پہلے، حکومت اور اشرافیہ کو دینی چاہیے‘‘طویل عرصے سے دہرائے گئے اس سادہ اصول کا اعادہ ہے جس پرپوری قوم کا اجماع توہے مگر برسر زمین حقیقت یہی ہے کہ عام آدمی سے بار بار قناعت کا مطالبہ کیا جاتا ہے جبکہ وسائل پر قابض طبقے کی ہوس زرٹیکس گریزی سے آگے بڑھ کر استحصال کی بدترین صورتوں تک پہنچی محسوس ہوتی ہے۔طب مشرق کے عالمی شہرت یافتہ ماہر اور دانشور حکیم محمد سعید شہید کا یہ قول عرصے سے لوگ دہرارہے ہیں کہ ’’ملک سے غربت دور کرنی ہے تو غریب ہوجائیے‘‘۔ ان کا مفہوم یہ تھا کہ اونچ نیچ کے الگ الگ معیارات زندگی کا فرق مٹاکر سب لوگ یکساں طور پر سادہ زندگی بسر کریں تو کسی کی سبکی نہیں ہوتی مگرنمائشی نوعیت کے اخراجات کی بچت اور پیداواریت کیلئے اس کے استعمال سے پورا معاشرہ تیزی سے اوپراٹھ سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میںحکومتی سطح پر سادہ زندگی کے ایسے نمونے ملتے ہیں جن سے ان کی معاشی ترقی کا راز سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ چند دن قبل ایک ملک کے وزیرخارجہ پاکستان پہنچے تو اپنا سامان خود اٹھاکر ائرپورٹ سے باہر آئے ۔یہ منظر پاکستانیوں کیلئے جیسا بھی ہو،کئی دولت مند ملکوں کی قیادت کا وطیرہ ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری کے جن اقدامات کا اعلان کیا، وہ ہمارے موجودہ حالات کی لازمی ضرورت ہیں۔ بازاروں کے اوقات محدود کرنے، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی کرنے اور حکومتی اخراجات گھٹانے سے یقیناً بعض نتائج حاصل ہوسکتے ہیں مگر قومی خزانے کا بوجھ صحیح معنوں میں کم کرنے کیلئے اس سے آگے بھی دیکھنا ہوگا، ہمارے سامنے قیام پاکستان کے وقت کی قیادت کی کفایت شعاری کی مثالیں ہیں۔ ایسی صورت حال تھی کہ مملکت خداداد کو تقسیم ہند کے حوالے سے اس کامالی حصہ دینے سے انکار کردیاگیا، نوزائیدہ ملک کے سامنے عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت میں آنے والوں کی خبرگیری وآباد کاری کااتنا بڑا کام تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کیلئے بھی تاحال حیران کن ہے۔ قومی سلامتی، خوراک، صحت، تعلیم سمیت ہر نوع کے چیلنج درپیش تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان سمیت اس وقت کے بیشتر رہنماؤں نے اپنی ذات اور منصب کی سہولتوں کے اخراجات کوقومی مقاصد کی طرف موڑ کر ایسے اقدامات کئے جن کی تفصیل کیلئے دفتر چاہئیں اور جو آج معجزے معلوم ہوتے ہیں۔ ہم بانیان پاکستان کے کفایت شعارانہ فیصلوں اور دفاع، تعلیم، آبادی اور بنیادی نوعیت کی صنعتوں کے قیام کے اقدامات سے رہنمائی لیکر آنے والے وقت کو قومی ترقی وترجیحی خوشحالی کے نئے دور کا روپ دے سکتے ہیں اور انشااللہ دیں گے۔ مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اجتماعی معیار کو اپنی معاشی استطاعت کے مطابق رکھیں۔ اس کے ساتھ ہمیں اپنے دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے پرتوجہ دینا ہوگی۔
معاشی مشکلات شاید ایک دن میں ختم نہ ہوں البتہ قومی مشکل کے ان دنوں میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ضرور مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات میں واقعتاً سادگی کا عنصر ملحوظ رکھے، عوام کو دستیاب ریلیف دیانت داری اور آسانی سے پہنچے۔ مقامی وسائل دانشمندی سے استعمال کئے جائیں اور قومی وسائل کو قومی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے۔ یہی کفایت شعاری ہے،خود انحصاری کی بنیاد بھی اور اجتماعی ذمہ داری بھی۔