• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں جرائم کے انداز و اطوار بدل رہے ہیں ۔واردات کے نت نئے طریقے متعارف ہورہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پولیس کا روایتی نظام اور طریقہ تفتیش بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اسی سلسلے میں پہلے ایف آئی اے میں سائبر کرائم ونگ بنایا گیا مگر پھر 2024ء میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ توقع تو یہ تھی کہ یہاں’’چھتر‘‘کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے گا اور پولیس پر رشوت کا جو داغ لگ چکا ہے اسے دھویا جاسکے گا لیکن NCCIAکی حوالات میں جوکچھ میں نے دیکھا ،اس سے اندازہ ہوا کہ دو سال کے مختصر عرصہ میں ہی سائبر کرائم کے تفتیشی افسروں نے روائتی تھانہ کلچر کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔یقیناً کئی پڑھے لکھے ،مہذب اور شائستہ مزاج افسربھی ملے مگر مجموعی تاثر مایوس کن رہا ۔رشوت کا تقاضا کس قدر ڈھٹائی اور بیباکی سے کیا جاتا ہے،اس کا اندازہ یوں ہوا کہ میرے نہایت ہائی پروفائل مقدمہ میں بھی کسی قسم کی رعایت نہ برتی گئی ۔پہلے میرے ہم زلف سے پیسوں کا تقاضا کیا جاتا رہا اور پھر ایک انویسٹی گیشن آفیسر نے دوسرے انویسٹی گیشن آفیسر کے ایماء پر ایک لاکھ روپے مانگ لیے۔میں نے کہا ،ایک طرف آپ کہتے ہیں ،بہت دبائو ہے کسی قسم کا ریلیف نہیں دے سکتے تو پھر اس رشوت کے عوض کیا پیشکش کی جاسکتی ہے؟ بتایا گیا کہ ویسے تو دس لاکھ روپے سے کم نہیں لیے جاتے مگر آپ ایک لاکھ روپے دے دیں کیونکہ تفتیشی چاہے تو اس کے پاس آپ کو تنگ کرنے کے بیشمار طریقے ہوتے ہیں ۔اور پھر انہوں نے اس دھمکی کو سچ کر دکھایا ۔دیگر حوالاتیوں کی طرح مجھ پر جسمانی تشدد تو نہیں کیا جاسکتا تھا مگر رشوت نہ ملنے پر ایک منفرد انداز میں سبق ضرور سکھایا گیا ۔دراصل تھانے میں 6دن اور 7راتیں گزارنے کے بعد 12ستمبر 2026ء کو ہفتے کے دن جوڈیشل کیا گیا تو ایک نئے سفر کا آغاز ہوا جو اردو نہیں بلکہ انگریزی کا ’’سفر‘‘ثابت ہوا۔تھوڑی بہت جان پہچان ہو تو انویسٹی گیشن آفیسر اپنی گاڑی پر جیل چھوڑ آتا ہے ،یہ نہ صرف معمول کی بات ہے بلکہ قانون میں بھی اسکی ممانعت نہیں مگر مجھے کہا گیا کہ آپ کو بخشی خانے جمع کروایا جائے گا اور قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی میں بیٹھ کر اڈیالہ جیل جانا ہوگا ۔قیدیوں والی گاڑی میں بھی ’’قائد اعظم‘‘کی سفارش ہو تو لوہے کے داخلی و خارجی دروازوں کے درمیان سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار آپ کو ساتھ بٹھالیتے ہیں جس سے حبس اور گرمی کا احساس کچھ کم ہوجاتا ہے مگر ایک لاکھ روپے نہ دینے کی پاداش میں NCCIAافسروں نے بخشی خانہ میں پولیس اہلکاروں کو خاص تاکید کی کہ اس ملزم کو کوئی پروٹوکول نہیں دینا ،تُن کے رکھو۔اب صورتحال یہ تھی کہ چھوٹی گاڑی جس میں 12افراد بیٹھ سکتے تھے اس میں 40انسانوں کو جانوروں کی طرح ٹھونس دیا گیا ۔ذرا تصور کریں ،تپتی دوپہر میں لوہے کا باکس جس میں ہوا کا گزر نہیں اور لوگ یوں ایک دوسرے سے چپکے ہوئے ہیں کہ مرغیوں کو بھی اس طرح ڈربے میں بند کریں تو وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہو جائیں ۔چند منٹ بعد ہی میری سانس اُکھڑنے لگی اور یوں محسوس ہوا شاید آخری وقت آپہنچا ہے ۔ممکن ہے باقی ملزم سخت جان ہوں اور اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی سکت رکھتے ہوں مگر میری ہمت جواب دے گئی ۔ایک پولیس اہلکارمیری حالت کے پیش نظر مداخلت نہ کرتا تو شاید اسلام آباد کچہری سے اڈیالہ جیل تک کا راستہ میری زندگی کا آخری سفر ثابت ہوتا۔

لگ بھگ ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد اڈیالہ جیل پہنچے تو معلوم ہوا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اس دور میں بھی جیل حکام روائتی طریقہ کار کے تحت ایک سے زائد مقامات پر رجسٹرمیں قیدیوں کو اندراج کرتے ہیں ۔کئی مقامات پر قطاریں بنتی ہیں ،جوتے اُتروا کر تلاشی لی جاتی ہے ،ایک ہی طرح کے سوالات دہرائے جاتے ہیں کہ نام ،باپ کا نام ،دادا کا نام ،کس جرم میں آئے ہو،پہلے کبھی جیل آنا ہوا...یوں قیدی یا حوالاتی تین سے چار گھنٹوں کے طویل مرحلے سے گزرنے کے بعد چکر سے ہوتے ہوئے بیرک تک پہنچ پاتے ہیں ۔اس موقع پر وہ قیدی جو اپنی سزائوں کا بیشتر حصہ پورا کرچکے ہوتے ہیں ،انہیں نگران مقررکیا گیا ہوتا ہے اور وہ اپنا غصہ نئے آنیوالے قیدیوں کو گالیاں دیکر یا پھر تھپڑ رسیدکر کے نکالتے ہیں ۔یوں جیل یاترا کے دوران کسی شخص کی عزت نفس محفوظ نہیں رہتی ۔بہر حال ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب بیرک میں پہنچے اور وہاں کے منتظم قیدی کو معلوم ہوا کہ میں صحافی ہوں تو وہ مجھے لیکر واپس چکر پر آگئے ،وہاں ایک حوالدار نے چائے پلائی اور پھر اے ایس آئی کی خدمت میں پیش کردیا ۔ابتدائی مکالمے کے بعد ڈپٹی سپرنڈنٹ کے حضور شرف باریابی ملا اور فیصلہ ہوا کہ عام بیرک کے بجائے ہائی سکیورٹی بیرک HSBمیں رکھا جائے۔بالعموم یہاں نہایت خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور شاید مجھے بھی انہی کی صف میں شمار کیا گیا ۔عام بیرک میں تو صبح گنتی کھلتی ہے اور شام کو بند ہوتی ہے دن بھر گھومنے پھرنے کی آزادی ہوتی ہے مگر یہاں HSBمیں صبح اور شام کے وقت صرف آدھ گھنٹے کیلئے چکی کا دروازہ کھلتا ہے اور وہیں بیرک میں چہل قدمی کرنے کی اجازت ملتی ہے ،باہر جانے کی آزادی نہیں ہوتی ۔چونکہ پوری جیل میں قیدی بہت زیادہ ہیں اس لئے مجھے جس چکی میں رکھا گیا ،وہ پانچ لوگوں کیلئےبنی تھی مگر دس افراد کو رکھا گیا تھا۔جیل کے حالات و واقعات پر اگلے کالم میں تفصیل سے بات ہوگی ۔سردست،نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نئے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی سے گزارش کروں گا کہ NCCIAمیں نہ صرف بڑی سطح کے کلین اپ آپریشن کے ذریعے بدعنوان افسروں کا صفایا کریں بلکہ انکی تربیت کا اہتمام کریں اور کام کا دبائو کم کرکے کارکردگی بہتر بنانے کا موقع بھی دیں۔

تازہ ترین