میں نے لگ بھگ 50برس پہلے ایسی ہی باتیں لکھی اور کہی تھیں جو آج کہی جا رہی ہیں۔ میں نے یہ بتایا تھا کہ اس کائنات کا %95فیصد حصہ ابھی نظروں سے اوجھل ہے جس طرح کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہوتیں، وہ ماحولیاتی شعور ماحولیاتی علامات زندگی کے تنوع کیلئے بھی صد احترام ہوتی ہیں ،اسی طرح ایجادات، تخلیقات، انکشافات اور تجربات بھی آئندہ زمانوں کیلئے تحقیقی کام ثابت ہوتا ہے بھیڑ ڈولی کی کلوننگ سے حوصلہ پا کر سائنس دانوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کلوننگ کے ذریعے نیا انسان تخلیق کر سکتے ہیں سائنس دانوں کے اس ا علان سے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا جس میں یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے تقریباً ہر ملک نے انسانی کلوننگ پر قانونی امتناع کا اعلان کر دیا تھا لیکن بعد کی تفصیلات سے یہ انکشاف ہوا کہ مکمل امتناع کسی بھی ملک میں عائد نہیں کیا جا سکتا۔ مجوزہ قوانین میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ لیبارٹریوں کی سطح پر انسانی کلوننگ کے تجربات جاری رہیں البتہ ان تجربات سے تیار شدہ مواد کو کسی خاتون کے جسم میں منتقل نہ کیا جائے اس گنجائش کی حد تک کئی تجربات کیے گئے اور ان کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی کلوننگ کی جانب انسان کا سفر تیز رفتاری سے جاری ہے سر دست سائنس دان تجربات کے بارے میں عالم انسانیت کو یہ بشارت دیتے ہیں کہ جنیٹک ٹیکنیک سے یہ ممکن ہو جائے گا کہ انسانی اعضا کی پیوند کاری کیلئےکسی انسان سے اسکے اعضاء کا عطیہ لینے کی محتاجی ختم ہو جائیگی اور درکار اعضاء کو مصنوعی طور پر تیار کر لیا جائیگالیکن اسکے ساتھ بعض دانشور صحافیوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ جینی حیات کی تحقیقات کو کیمیائی اسلحہ سازی میں استعمال کیا جا سکتا ہے یہ خدشات اپنی جگہ پر درست ہو سکتے ہیں کہ کسی بھی نئی ایجاد یا دریافت میں منفی پہلو بھی پائے جاتے ہیں مگر کلوننگ سائنسدان یہ استدال کرتے ہیں کہ کلوننگ تجربات انسان کی محرومیوں کا واحد علاج ہیں مثلا کسی مرحوم عزیز کو دوبارہ زندہ پا لینا طبی تحقیق نسل انسانی کے بہتر ڈیزائن ،جسم انسانی کے ناکارہ یا فالتو اعضا کی تیاری وغیرہ وغیرہ چنانچہ اس تحریک کے قائد سائنس دان ڈاکٹر ہر برٹ کہتے ہیں کہ کلوننگ کا خوف بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اگر اس ٹیکنیک کو نظم و ضبط کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو اس سے انسانوں اور جانوروں دونوں کا بھلا ہوگا۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی امید افزا امکان سامنے آیا تو کسی نہ کسی شخص نے اس تجربہ کو آگے بڑھانے کی کوشش ضرور کی سائنس کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ہوا ۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹرواٹسن نے ڈی این اے کی ترکیب کا راز بتایا ڈاکٹر واٹسن کلوننگ تجربات کے حامی اور اس میدان میں "جینی منصوبہ" جیسے اہم سائنسی تجربات کے روح رواں ہیں ۔قارئین کو یاد ہوگا کہ بہت سال قبل بھارتی نژاد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر کُھرانا نے مصنوعی جین کی تیاری کا ایک اہم تجربہ کیا تھا بعد میں بھی کافی عرصہ تک انسانی کلوننگ کے ناکام و کامیاب تجربات ہوتے رہے یہاں تک ڈولی بھیڑ کی کلوننگ نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ ڈالا۔ ڈولی کے بعدکے تجربات میں سب سے پہلے مساچیوں سیل ریسرچ کا نام اخبارات کی زینت بنا، جہاں مئی 2018 ءمیں ہو بہو مشابہ بچھڑے تیار کیے گئے تھے جون 1920ءمیں ایک چوہے کی تیاری کی خبر آئی اور اس کے پانچ ماہ بعد نومبر 2019ءمیںیہ چونکا دینے والی خبرآئی کہ جاپان میں گائے کے دودھ کے خلیوں سے گائے کا کلوننگ تیار کر لیا گیا اسی دوران امریکی ماہرطبعیات نے اعلان کیا کہ وہ دو برس میں انسانی خلیہ تیار کر دیں گے جب اسکے اس اعلان پر قانونی امتناع عائد کرنے اور تجربہ گاہوں کو انسانی جین فراہم نہ ہونے دینے کی کوششیں کی گئیں تو اطالوی سائنس دان نے اعلان کیا کہ وہ خود اپنی کلوننگ تیار کر لیں گے کلوننگ ٹیکنیک کے میدان میں اس وقت نمائندہ تحقیقی کام امریکی برطانوی اور اطالوی سائنسدان نے سر انجام دیا ہے، ان سائنسدانوںنے پہلی مرتبہ انسانی بیضہ (انڈا )سے ازلی انسانی خلیے نکال کر انکی پر داخت کی ہے چونکہ یہ خلیے ضائع شدہ حمل سے حاصل کیا جا سکتے ہیں لہٰذا یہ سائنسدان کہتے ہیں کہ اب ہماری راہ میں کوئی اخلاقی بندش بھی نہیںکیونکہ ضائع شدہ عمل تو بے جان ہوتا ہے بہرحال اس موضوع پر بحث جاری ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ اس ٹیکنیک کے بہت سے فائدے ہیں مثلاً اس کی مدد سے جسم میں ایسے جین سرایت کرائے جا سکتے ہیں جو کئی مورثی بیماریوں کے ازالے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں انسانی اعضاء کی کلوننگ میں بھی یہ ٹیکنیک استعمال کی جا سکتی ہے جگر تلی یا ہڈیوں کا گودا لیبارٹری میں تیار کیا جا سکتا ہے اور معمولی نشوونماکے بعد اسکی پیوند کاری مریض کے جسم میں کی جا سکتی ہے، جہاں وہ مریض کے خون پر پل کر مکمل حجم کو پہنچ جائیگا اس طرح انسانی اعضا کی خرید و فروخت و بازیابی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے گا۔ ابھی حال ہی میں ہالینڈ کے ایک جریدے نے لکھا ہے کہ ذیابیطس ،امراض قلب، پارکنسنز ،اعصابی کمزوری،نسوں کی سختی،بلڈ ٹرانسفر،ہیپاٹائیس ،اور کسی بھی قسم کے کینسر کا تسلی بخش علاج جنیاتی کلوننگ ہی ہےجسکے ذریعے تلف شدہ خلیوں کی تبدیلی مرمت یا انکی صحیح دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور ڈاکٹر کو لنز کے بقول’’میں نہایت عجزو انکساری کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم تخلیق انسانی کی وہ کتاب پڑھنے کے قابل ہو گئے ہیں جس کا علم قبل ازیں نہیں تھا‘‘۔