• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملّا نصر الدین جھیل کے کنارے بیٹھے چمچ بھر دہی پانی میں گھول رہے تھے۔ راہ گیر نے پوچھا: یہ کیا کر رہے ہو؟ فرمایا: دہی جما رہا ہوں۔ راہ گیر بولا: جھیل میں دہی نہیں جمتا۔ فرمایا: جانتا ہوں، مگر سوچو، اگر جم گیا تو!ملّا کے مرید آج بھی ہیں۔ جب بھی تجارتی خسارے پر بات ہو، وہ اپنا دہی لیکر آ جاتے ہیں: روپیہ گراؤ، برآمد بڑھے گی، درآمد گھٹے گی، خسارہ اپنے آپ مٹ جائیگا۔ وہ غلط نہیں کہتے دہی سے دہی جمتا ہے۔ جو وہ نہیں جانتے، یا جاننا نہیں چاہتے، وہ یہ ہے کہ دہی کو دودھ کا مٹکا چاہیے، پانی کی جھیل نہیں اور دودھ کا مٹکا وہ معیشت ہے جس میں سکّہ گرائیں تو تجارتی توازن صحیح سمت چل نکلے۔ ایسی معیشت کی پانچ نشانیاں ہیں۔

پہلی نشانی: دودھ کی معیشت وہ بیچتی ہے جو اُسکے اپنے ہاتھ بناتے ہیں۔ 1998ء میں کوریا کا وون آدھا ہوا تو گاڑی اور جہاز آدھے دام پر ملنے لگے، کہ اُن کا لوہا، پرزہ اور ہنر سب کوریا کا تھا۔ ہماری جھیل کا حساب فیصل آباد کے تولیے سے کیجیے: کپاس پردیسی، رنگ پردیسی، پرزے اور ایندھن پردیسی، سب ڈالر کے دام۔ خالص روپیہ فقط مزدوری اور نفع میں، اور سکّہ گرنے کا فائدہ اسی حصے تک محدود۔ یہی گیتا گوپی ناتھ کی تحقیق کا حاصل ہے (Gita Gopinath et al American Economic Review, 2020): دنیا کا سودا ڈالر میں لکھا جاتا ہے، سو اپنا سکّہ گرانے کی پہلی چوٹ درآمد پر پڑتی ہے، برآمد کی باری بعد میں آتی ہے۔

دوسری نشانی: دودھ کی معیشت میں قیمت بدلے تو گاہک اپنا فیصلہ بدلتاہے۔ ہمارے درآمدی بل کا ایک چوتھائی تیل اور گیس، پھر گھی، دال اور دوا۔مہنگے بھی ہوں تو درآمد سے مفر نہیں۔ برآمد کا آدھے سے زیادہ ایک ہی جنس، کپڑا، جو دنیا ڈھاکہ بھی خرید سکتی ہے۔ سکّہ گرے تو ہماری درآمد کچھ خاص کم نہیں ہوتی اور بِکری زیادہ نہیں بڑھتی۔

تیسری نشانی: دودھ کی معیشت میں سکّہ گرے تو قیمتیں اُس کے پیچھے نہیں دوڑتیں۔ روم کے شہنشاہ دو صدیوں تک چاندی کے دینار میں تانبا ملاتے رہے۔ گندم سو گنا مہنگی ہوئی اور روم کا مال دنیا کیلئے ایک درہم بھی سستا نہ ہوا۔ سکّہ گرانے کا فائدہ فقط اُس وقفے کا ہے جب سکّہ گر چکا ہو اور قیمتیں ابھی نہ چڑھی ہوں۔روم میں یہ وقفہ ایک نسل کا تھا، ہمارے ہاں دو برس سے کم، کہ کھانا، ایندھن اور بجلی سب ڈالر میں لکھے ہیں۔ سو روپے کی اصل گراوٹ، جسے برآمدی مال کو سستا کرنا تھا، دو برس میں مہنگائی کے عفریت کا ترنوالہ بن جاتی ہے۔ دہی جمنے سے پہلے دودھ اُبل کر بہہ جائے تو مٹکا خالی رہ جاتا ہے۔

چوتھی نشانی: دودھ کی معیشت میں بیچنے والے کو باہر کی منڈی گھر کی منڈی سے زیادہ منافع بخش لگتی ہے۔ ہمارے ہاں وہی مل جو تولیے پر ہیمبرگ کے خریدار سے چھوٹ کی بحث کرتی ہے، اپنے لان کے برانڈ پر گلبرگ کے خریدار سے کوئی بحث نہیں کرتی کہ باہر کا کپڑا محصول کی دیوار کے پار کھڑا ہے۔ سو مل کا دل ہیمبرگ میں نہیں، گلبرگ میں ہے۔ ابا لرنر نے 1936ء میں یہی ثابت کیا کہ درآمد پر محصول درحقیقت برآمد پر محصول ہے (Abba P. Lerner, Economica, 1936) سکّہ گرے تو دیوار کے اندر کی قیمت بھی اسی نسبت سے چڑھتی ہے، اور گھر اور باہر کا فرق وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

پانچویں نشانی:دودھ کی معیشت کو برآمد کی حاجت ہوتی ہے۔ 1550ء سے 1650ء تک ہسپانیہ کے پاس پوٹوسی کی چاندی تھی۔ قیمتیں ایک صدی میں چار گنا ہوئیں، قشتالہ کی کھڈیاں بند ہو گئیں، کپڑا ہالینڈ سے آنے لگا، اور کان بیٹھ گئی تو نہ چاندی رہی نہ کارخانہ۔ کہاوت بنی کہ گائے ہسپانیہ کی ہے اور دودھ یورپ پیتا ہے۔

ہمارے پاس اللہ بخش کا بیٹا ہے، جو ریاض میں سریا باندھتا ہے اور ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ریال بھیجتا ہے۔اُس جیسے نوّے لاکھ سے زیادہ بیٹے سال کے اکتالیس ارب ڈالر بھیجتے ہیں، برآمد سے بڑی رقم۔ سکّہ گرے تو اللہ بخش کے ریال کے روپے بڑھتے ہیں۔وہ روپے موٹر سائیکل، موبائل اور گھی پر خرچ ہوتے ہیں، جو باہر سے آتے ہیں۔ جس گھر میں جما ہوا دہی باہر سے آتا ہو، وہاں دہی جمانے کی زحمت کون کرے۔

1931ء میں برطانیہ نے معیارِ طلا(سونا) کو خیرباد کہا۔ پاؤنڈ ایک تہائی گرا، بند کارخانے دو برس میں چل پڑے اور برطانیہ کساد کی لمبی رات سے نکلنے والے پہلے ملکوں میں سے ہو گیا۔ 1998ء میں کوریا کا وون آدھا ہوا، برآمد دو برس میں لوٹ آئی۔ مصر نے 2016ء اور 2022ء میں مصری پاؤنڈ دو بار آدھا کیا۔ برآمد بڑھی، درآمد کا بل تیز تر بڑھا، خسارہ وہیں کا وہیں رہا۔ دہی کا وہی ایک چمچ، دو انجام: برطانیہ اور کوریا کے پاس دودھ کا مٹکا تھا، مصر کے پاس پانی کی جھیل۔ اور ہماری؟ 1972ء میں روپیہ پونے پانچ سے گیارہ کا ہوا اور برآمد دو برس میں پونے دو گنا بڑھی، کہ تب تولیے میں ڈالر کم تھا، ترسیلات نہ ہونے کے برابر تھیں اور محصول کی دیوار ابھی نیچی تھی اُس برس ہمارے پاس بھی دودھ کا مٹکا تھا۔ اُس کے بعد کے ہر چمچ نے پانی میں ہی چکر لگایا۔

دودھ کا مٹکا ہو تب بھی دہی جمنے میں وقت لگتا ہے۔ کتاب کہتی ہے کہ سکّہ گرنے کے بعد تجارتی توازن کی چال انگریزی کے حرف J کی شکل ہے، جسے معاشیات میں جے کا خم (J-curve) کہتے ہیں: بائیں سے دائیں دیکھئے تو لکیر پہلے ذرا نیچے جھکتی ہے، پھر مڑ کر لمبی اوپر جاتی ہے۔ یعنی خسارہ پہلے بڑھتا ہے، کہ پرانے سودے پرانی شرطوں پر بھگتانے ہوتے ہیں اور درآمد راتوں رات مہنگی ہو جاتی ہے۔ پھر گھٹتا ہے، کہ سستا مال گاہک ڈھونڈ لیتا ہے۔ امریکی ماہرِ معاشیات اسٹیفن میگی نے پہلی بار یہ خم ناپا (Stephen P. Magee, Brookings Papers on Economic Activity, 1973)۔ لکیر کا نچلا موڑ وہی گھڑی ہے جب دہی جم رہا ہوتا ہے اور مٹکا ابھی پانی جیسا لگتا ہےجو اُس گھڑی گھبرا کر انگلی ڈال دے، وہ دہی کی شکل نہیں دیکھ پاتا۔

جھیل کی جگہ مٹکا کیسے آئے؟۔

تولیے میں ڈالر کا حصہ گھٹے: اپنی کپاس، اپنی بجلی۔ بیچنے کو وہ چیز بنے جسکی قیمت خریدار نہیں، بنانیوالا لگاتا ہے۔ چولھے کا ایندھن اور بجلی کا معاہدہ ڈالر سے آزاد ہو، تاکہ مہنگائی سکّے کے پیچھے نہ دوڑے۔ محصول کی دیوار نیچی ہو، تاکہ گھر کی منڈی اتنی میٹھی نہ رہے کہ باہر کی کڑوی لگے۔

2025ء کی قومی محصولاتی پالیسی نے اِس دیوار پر پہلی بار کدال چلائی ہے۔ اور ترسیلِ زر کو پلاٹ، گاڑی اور روزمرہ خرچ کے بجائے کارخانے کی راہ ملے۔ ایک نسخہ حاشیے سے باہر: چمچ ڈال کر مٹکے کو ہلایا نہ جائے۔ جو پہلے مہینے کا خسارہ دیکھ کر سکّہ پھر کھونٹے سے باندھ دے، وہ جمتے ہوئے دہی میں انگلی ڈال دیتا ہے۔ملّا کا دہی اصلی تھا اور امید سچی، کمی جھیل میں تھی۔ دہی کو دودھ کا مٹکا چاہیے، پانی کی جھیل نہیں۔

تازہ ترین