آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے اسلام آباد میں دھرنوں کے باعث جو سیاسی بحران پیدا ہوا ، اس کے حل کے لئے فوج کو ملوث کرنا انتہائی افسوس ناک ہے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے کس کی درخواست پر ملاقاتیں کیں ، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جنرل راحیل شریف نے کسی نہ کسی کی درخواست پر ہی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ۔ تادم تحریر ان ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا ۔ یہ امر سیاسی قوتوں کے لئے باعث شرم ہے کہ وہ سیاسی مسائل خود حل کرنے کے لئے صلاحیت سے محروم ہیں ۔ عمران خان نے اگلے روز بتایا ہے کہ آرمی چیف نے ملاقات میں ان سے کہا ہے کہ وہ (یعنی آرمی چیف )اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی کے لئے جوڈیشل کمیشن کی انکوائری میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی لیکن عمران خان کے بقول انہوں نے آرمی چیف کو بتا دیا ہے کہ میاں نواز شریف وزیر اعظم رہے تو جوڈیشل انکوائری غیر جانبدارانہ نہیں ہو سکتی ۔ عمران خان کی اپنی باتوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ انہیں آرمی چیف کی گارنٹی پر بھی یقین نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا غیر لچک دار رویہ ہے ، جس پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے ۔ میاں نواز

شریف پر عمران خان کو بے شک اعتماد نہ ہو لیکن جب عمران خان کا خود یہ کہنا ہے کہ آرمی چیف گارنٹی لینے کے لئے تیار تھے لہٰذا عمران خان کو آرمی چیف کی زبان پر اعتماد کر لینا چاہئے تھا ۔
کسی کے ماضی کے سیاسی کردار کا حوالہ دے کر اسے ناقابل اعتماد قرار دینا کوئی اچھا ، باوقار اور پسندیدہ عمل نہیں ہے ۔ یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو پھر اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔ آج عمران خان 2013ء کے عام انتخابات کو دھاندلی والے انتخابات سے تعبیر کر رہے ہیں ، لوگ ان سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے لئے صدارتی ریفرنڈم کی مہم کیوں چلائی تھی ۔ عوام کے ووٹ کے نام پر یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا فراڈ تھا ۔ بہتر یہی ہے کہ ماضی کے کردار کی بنیاد پر کسی کو برا کہنے اور اس کے خلاف انتہائی اقدام کرنے سے گریز کیا جائے ۔ جہاں تک الیکشن میں دھاندلی کا سوال ہے ، 1970ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان میں کوئی بھی انتخابات شفاف قرار نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ پاکستان کے چاچے مامے یہ سمجھتے ہیں کہ 1970ء کے عام انتخابات شفاف ہونے کی وجہ سے پاکستان ٹوٹ گیا ۔ اس لئے وہ ہر انتخابات میں مداخلت کرتے ہیں اور ایسا نتیجہ بناتے ہیں ، جو ان کے نزدیک پاکستان کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے ۔ انتخابات کے نام پر وہ فراڈ والا جمہوری انتظام کرتے ہیں ۔ انتخابی نتائج میں بڑے فراڈ کے لئے وہ انتخابات سے پہلے ماحول بناتے ہیں اور لوگوں کا ذہن تیار کرتے ہیں کہ فلاں لیڈر یا پارٹی مقبول ہو رہی ہے۔ اسی انتظام میں عمران خان کو خیبر پختونخوا کی حکومت ملی ۔ اس بات کی تائید میں صرف دو حقائق کا تذکرہ یہاں ضروری ہے ۔ انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا میں بہت گہرا اثر و رسوخ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی گئی اور اس کے لئے طالبان کو استعمال کیا گیا ۔ خیبر پختونخوا کی مقبول سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر عمران خان کو موقع فراہم کیا گیا ۔ انتخابات سے پہلے ان کے حق میں ایک بڑی پروپیگنڈہ مہم بھی چلائی گئی ۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ۔ 1 پشاور پر عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتہائی سینئر ، محترم اور بزرگ سیاست دان غلام احمد بلور کو 60 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی سبقت سے شکست دی ۔ پھر جب عمران خان نے یہ نشست چھوڑی اور اس پر ضمنی انتخابات ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف کا امیدوار غلام احمد بلور سے ہار گیا ۔ یہ بات سوچنے والی ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو حیران کن انکشافات ہو سکتے ہیں ۔ کسی سیاسی جماعت کو اگر ایک نشست پر 60 ہزار ووٹوں کی برتری ہو تو ضمنی انتخابات میں وہ جماعت کھمبے کو بھی امیدوار بنا دے تو ہارتی نہیں ہے ۔ غلام احمد بلور نے ضمنی انتخابات میں اتنے ہی ووٹ لئے تھے ، جتنے انہوں نے عام انتخابات میں لئے تھے ۔ یعنی ضمنی انتخابات میں غلام احمد بلور کے ووٹوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ اس کے باوجود وہ جیت گئے جبکہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی نہ صرف 60 ہزار ووٹوں کی برتری ختم ہوئی بلکہ اس کا امیدوار شکست سے بھی دوچار ہوا ۔ اس سے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی ’’ فتح ‘‘ کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ بہتر یہی ہوتا کہ مئی 2013ء کے عام انتخابات کے ذریعہ جو سسٹم وجود میں آ گیا تھا ، اسے چلنے دیا جاتا ۔ اس ملک میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والی قربانی دینے والی سیاسی جماعتیں اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انتخابات کے نتائج کیسے بنتے ہیں ۔ انہیں بھی پتہ ہوتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے اور وہ شور کریں گی تو یہ دھاندلی والی جمہوریت بھی نہیں چلنے دی جائے گی ۔ 1977ء کے عام انتخابات میں اپوزیشن کے پاس دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں تھا لیکن ان کے شور شرابے اور احتجاج سے ملک ایک ایسے مارشل لا کے عتاب میں چلا گیا ، جس نے پاکستان کو برباد کر کے رکھ دیا ۔ 1977ء کے بعد تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ تمام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ۔ اس دھاندلی کا سب سے زیادہ شکار پاکستان پیپلز پارٹی ہوئی ہے لیکن اس نے احتجاج کا راستہ اس لئے اختیار نہیں کیا کہ احتجاج کی آڑ میں غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت ہو سکتی ہے ۔ 2013ء کے عام انتخابات کے نتائج آنے پر پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز کے صدر مخدوم امین فہیم نے ایجنسیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتخابات کسی سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ ایجنسیوں نے جیتے ہیں ۔ انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی نے سسٹم کو برقرار رکھنے پر زور دیا ۔ اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کو بھی انتخابات میں بہت زیادہ سیاسی نقصان ہوا ۔ اس نے بھی سسٹم کی خاطر سب کچھ قبول کیا۔ جماعت اسلامی بھی 2013 ء کے عام انتخابات کی نقصان اٹھانے والی جماعتوں میں شامل ہے ۔ پولنگ کے دن اس نے کراچی میں انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ بڑے پیمانے پر دھاندلی ہو رہی ہے ۔ جماعت اسلامی نے تحمل کا مظاہرہ کیا تاکہ سسٹم چلتا رہے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا یہ موقف درست ہے کہ شفاف انتخابات کا مقصد بتدریج حاصل ہو گا ۔ مہم جوئی کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ عمران خان کو پاکستان کی قومی سیاسی قیادت کی اسی دانش اور فہم کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا ۔ عمران خان اور طاہر القادری کے غیر لچک دار رویئے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی سیاسی دھارے سے الگ ہیں اور ان میں وہ دانش بھی نہیں ہے ، جس کا مظاہرہ باقی قومی سیاسی قیادت کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں ان کے خلاف ہیں ۔ دونوں رہنماؤں کے دھرنے سسٹم کو ختم کرنے کے انتہائی مطالبات کے لئے تھے ، جو درست نہیں تھے ۔ بہت جلد ان کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی اس سیاسی مہم جوئی سے ملک کے ساتھ ساتھ خود انہیں کتنا بڑا سیاسی نقصان ہوا ہے ۔